ایک بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی، سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان نے ان سے اپیل کی کہ ایران کے خلاف طے شدہ کارروائی روک دی جائے کیونکہ اس وقت اہم سفارتی مذاکرات جاری ہیں۔تاہم انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر قابل قبول معاہدہ نہ ہو سکا تو امریکی فوج کو کسی بھی وقت بڑے پیمانے پر کارروائی کے لیے تیار رہنے کو کہا گیا ہے۔
- سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی درخواست پر اب ہم ایران پر کل طے شدہ حملہ نہیں کریں گے، صدر ٹرمپ
- ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ 'ایران یورینیم افزودگی کے اپنے حق پر نہ تو کسی قسم کی بات چیت کرے گا اور نہ ہی کوئی سمجھوتہ'
- امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کو دیے جانے والے ایک انٹرویو کے دوران کہا کہ امریکی صدر نے پاکستان کے کہنے پر پراجیکٹ فریڈم روکا
- سعودی عرب انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اتوار کے روز عراقی فضائی حدود سے داخل ہونے والے تین ڈرونز کو تباہ کر دیا۔
- امریکہ نے 400 کلوگرام افزودہ یورینیم کی حوالگی سمیت ایران کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لیے پانچ شرائط پیش کر دیں: ایرانی میڈیا
سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کی درخواست پر اب ہم ایران پر کل طے شدہ حملہ نہیں کریں گے، صدر ٹرمپ