وفاقی بجٹ پیش کیے جانے کے بعد کراچی چیمبر کے عہدیداران اور سرپرستِ اعلیٰ زبیر موتی والا نے پریس کانفرنس کی ہے، جس میں انہوں نے بجٹ کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
زبیر موتی والا کا کہنا تھا کہ اس بجٹ میں صنعتوں کی ترقی اور ایکسپورٹ بڑھانے کے حوالے سے کچھ خاص نظر نہیں آیا، جبکہ انرجی کاسٹ (توانائی کی قیمتوں) میں کمی کا بنیادی مطالبہ بھی بجٹ میں شامل نہیں کیا گیا۔ انہوں نے اسے ایک "کیموفلاج بجٹ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں ریٹیلرز پر ٹیکس لگا دیا گیا ہے، جبکہ ٹیکس ریونیو کلیکشن کا ہدف بڑھا کر 15 ہزار ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس وصولی کے ہدف میں 1500 ارب روپے کے اضافے کا بوجھ بالآخر تاجروں اور عوام پر ہی ڈالا جائے گا، اور لارج اسکیل مینوفیکچرنگ پر سپر ٹیکس بھی ختم نہیں کیا گیا۔
زبیر موتی والا نے مزید کہا کہ ایکسپورٹرز کے لیے ٹیکس کی شرح کم کرنا ایک اچھی بات ہے لیکن اس کے ساتھ کم از کم ٹیکس رجیم کو برقرار رکھا گیا ہے، جبکہ تاجروں نے ایکسپورٹرز کے لیے فائنل ٹیکس رجیم (ایف ٹی آر) کی بحالی کا مطالبہ کیا تھا جو تسلیم نہیں کیا گیا۔
انہوں نے بجٹ پر مجموعی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بجٹ نہ تو بہت اچھا ہے اور نہ ہی بہت برا ہے، اور وہ اس کا مزید تفصیلی جائزہ لیں گے۔ پریس کانفرنس میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ برآمدات کے فروغ اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے اقدامات بجٹ میں نظر نہیں آئے، تاہم زراعت، سیلری کلاس، آٹومیشن، آئی ٹی، آٹو اور کنسٹرکشن (تعمیرات) کے شعبوں کے لیے بجٹ میں اچھے اقدامات کیے گئے ہیں۔
زبیر موتی والا نے کراچی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کا بجٹ ہے لیکن اس میں کراچی کے لیے کچھ نہیں رکھا گیا اور یہ عوام کو کوئی فائدہ نہ پہنچانے کا بجٹ بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے واٹر پراجیکٹ 'کے فور' کے لیے صرف 10 ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ اس منصوبے کے لیے 40 ارب روپے رکھے جانے کی ضرورت تھی۔
پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ بجٹ سے پتا چل رہا ہے کہ پاکستان کو مالی گنجائش ملی ہے اور اب لگتا ہے کہ سال سے ڈیڑھ سال میں ہم آئی ایم ایف کو خیرباد کہہ سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ کراچی کے کاسموپولیٹن شہر کا درجہ بحال کرنے اور اسے رہنے کے قابل بنانے کی اشد ضرورت ہے، اور اب اس کے لیے حکومت کو خود سوچنا ہوگا کہ کیا طریقہ اختیار کیا جائے۔