پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ وہاب ریاض نے کہا ہے کہ انہوں نے ریکارڈز بنانے کا سوچ کر نہیں بلکہ اچھی کرکٹ کھیلنے کی نیت سے میدان میں قدم رکھا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ٹیم اس وقت بلڈنگ پروسیس (تعمیر کے مراحل) سے گزر رہی ہے اور ان کی پوری کوشش ہے کہ کھلاڑیوں کی کارکردگی میں مزید بہتری لائی جائے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وہاب ریاض کا کہنا تھا کہ مینجمنٹ کی جانب سے تمام کھلاڑیوں کو بالکل واضح پیغام دیا گیا ہے کہ وہ میدان میں جارحانہ کرکٹ کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے کھلاڑیوں کو ہدف دیا ہے کہ وہ ابتدائی 10 سے 13 اوورز میں 100 رنز اسکور کرنے کی کوشش کریں۔ انہوں نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مڈل آرڈر میں تمام کھلاڑی اچھا کھیل رہے ہیں، اور اگر ورلڈ کپ میں تین سے چار کھلاڑیوں نے تسلسل کے ساتھ پرفارم کیا تو ٹیم شاندار نتائج دے سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کی تمام لڑکیاں باصلاحیت ہیں، ان میں ٹیلنٹ موجود ہے اور ماضی میں انہوں نے پرفارم کر کے بھی دکھایا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ ہمیشہ ورلڈ کپ جیتنے کا ہی سوچتے ہیں اور پاکستان ویمنز ٹیم میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ وہ ٹاپ فور میں جگہ بنا سکے۔ ان کا ماننا ہے کہ پاکستان کی کوئی بھی کرکٹ ٹیم ہو، جب وہ ہارتی ہے تو سب کو تکلیف ہوتی ہے اور اس کا گہرا امپیکٹ پڑتا ہے۔
اپنے دورِ ملازمت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے چارج سنبھالا تو زمبابوے اور جنوبی افریقہ کے دو اہم ٹورز سامنے تھے، ان سیریز کے انعقاد سے کھلاڑیوں کے اسکلز لیول میں واضح بہتری آئی ہے، جبکہ آئندہ دورۂ آئرلینڈ سے بھی ورلڈ کپ کی تیاریوں میں کافی مدد ملے گی۔ ٹیم میں سدرہ امین کی عدم شمولیت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے وہاب ریاض نے واضح کیا کہ اس بارے میں حتمی جواب سلیکشن کمیٹی ہی دے سکتی ہے، تاہم ماضی میں سدرہ کی پرفارمنس انتہائی شاندار رہی ہے۔