وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اقوامِ متحدہ امن دستوں کے عالمی دن 29 مئی 2026 کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان اقوام عالم کے ساتھ مل کر امن کے سپاہیوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر سال یہ دن دنیا کے جنگ زدہ علاقوں میں اقوامِ متحدہ کے پرچم تلے خدمات انجام دینے والے عسکری، پولیس اور سویلین اہلکاروں کی قربانیوں کے اعتراف میں منایا جاتا ہے۔ اس سال عالمی دن کا موضوع “امن کے فروغ میں سرمایہ کاری” رکھا گیا ہے، جو پائیدار عالمی امن اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے سیاسی و مالی معاونت کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ دن اقوامِ متحدہ کے پہلے امن مشن “اقوامِ متحدہ جنگ بندی نگرانی تنظیم” کے قیام کی یاد بھی دلاتا ہے، جس نے 1948 میں فلسطین میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں۔
اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ امن دستوں کی تاریخ میں 20 لاکھ سے زائد مرد و خواتین 70 سے زیادہ امن مشنز میں خدمات انجام دے چکے ہیں جبکہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے امن دستوں کے لیے سب سے بڑے اور دیرینہ شراکت دار ممالک میں شامل ہے۔
وزیراعظم کے مطابق پاکستان 1960 سے اب تک 48 سے زائد امن مشنز میں 2 لاکھ 35 ہزار اہلکار بھیج چکا ہے، جن میں 500 سے زائد خواتین اہلکار شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پوری قوم کے لیے باعثِ فخر ہے کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں پانچواں بڑا شراکت دار ملک ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ دنیا بھر میں امن کے قیام کے لیے خدمات انجام دینے والے بہادر امن اہلکاروں نے انسانیت کے تحفظ اور عالمی استحکام کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اب تک 4 ہزار 400 سے زائد امن اہلکار دورانِ ڈیوٹی شہید ہو چکے ہیں، جن میں 181 سے زائد پاکستانی شامل ہیں۔
انہوں نے شہداء اور دنیا کے مختلف خطوں میں خدمات انجام دینے والے پاکستانی امن دستوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان عالمی امن، استحکام اور انسانیت کے تحفظ کے لیے اپنا کردار بھرپور انداز میں جاری رکھے گا۔
وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے امن مشنز کے ذریعے عالمی امن کے فروغ میں اپنا تعاون جاری رکھے گا، جو کثیرالجہتی سفارت کاری اور عالمی استحکام کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا مظہر ہے۔