چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وہ دعا گو ہیں کہ جنگ کے خاتمے کے لیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں کیونکہ خطے میں امن کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اسکردو میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ گزشتہ انتخابات کے دوران بھی گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع کا دورہ کر چکے ہیں اور جتنا انہوں نے اس خطے کا سفر کیا اتنا شاید کسی اور سیاستدان نے نہیں کیا۔
انہوں نے خطے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں پیش آنے والے واقعات کے باعث ایسے حالات پیدا ہوئے جن میں انتخابی مہم چلانا مناسب محسوس نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کے عوام جنگ کے اثرات اور بوجھ برداشت کر رہے ہیں اس لیے امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا انتہائی ضروری ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ملک کے پسماندہ اور کمزور طبقات کی نمائندہ جماعت ہے۔ انہوں نے معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسی ترقی قابل قبول نہیں جس میں امیر مزید امیر جبکہ غریب مزید مشکلات کا شکار ہو۔
پی پی پی چیئرمین نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کو ملک کا واحد ایسا ادارہ قرار دیا جو براہِ راست غریب گھرانوں تک پہنچتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کا اعلان متوقع ہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے دفاع اور ترقی میں پیپلز پارٹی کی قیادت کا اہم کردار رہا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو ایٹمی پروگرام کی بنیاد فراہم کی جبکہ محترمہ بینظیر بھٹو نے میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں کردار ادا کیا۔