تقریباً دو دہائیاں بعد، اوڈون کا یہ خیال ایک ایسے آلے میں تبدیل ہو چکا ہے جو نارمل ڈیلیوری کو آسان بناتا ہے اور ماں اور بچے دونوں کے لیے چوٹ کے خطرات کم کرتا ہے۔ یہ خطرات اُن طریقوں سے جڑے ہوتے ہیں جو اب بھی دنیا بھر میں استعمال ہو رہے ہیں، جیسے فورسپس یا ویکیوم ایکسٹریکشن۔ یہ آلہ سی سیکشن جیسے مہنگے اور پیچیدہ آپریشنز کی ضرورت بھی کم کر سکتا ہے
اوڈون اسسٹ استعمال کرنے والی ماؤں کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے ان کے بچے کی پیدائش کا عمل نسبتاً زیادہ پُرسکون انداز میں ہوایہ اگست 2006 کی بات ہے جب علی الصبح ذہن میں آنے والے ایک خیال نے جارج اوڈون کی نیند توڑ دی۔
یہ کوئی پہلا موقع نہیں تھا کہ ارجنٹائن کے اس مکینک کو اچانک ہی کوئی خیال آیا ہو لیکن اس بار معاملہ کچھ اور تھا۔
یہ خیال گاڑی کے توازن، الائنمنٹ یا بریک کے مسائل کا حل نہیں تھا جن سے وہ بیونس آئرس میں اپنی ورکشاپ میں روزانہ نمٹتے تھے بلکہ یہ ایسا منفرد خیال تھا جس پر بات کرنے وہ فوری اپنی اہلیہ کے پاس پہنچے اور کہا کہ ’مارسیلا، دیکھو میری بات سنو یہ زچگی کو آسان بنانے میں مدد دے سکتا ہے۔‘
دراصل جارج اوڈون اس آلے (انسٹرومنٹ) کے آئیڈیا کی بات کر رہے تھے جو زچگی کے دوران کسی بھی وجہ سے بچے کی پیدائش رک جانے پر استعمال کر کے اس عمل کو آسان بناتا ہے۔
دنیا اسے ’اوڈون اسسٹ‘ کے نام سے جانتی ہے۔
اور اب تقریباً دو دہائیوں بعد اوڈون کا یہ خیال ایک ایسے آلے میں تبدیل ہو چکا ہے جو نارمل ڈیلیوری کو آسان بناتا ہے اور ماں اور بچے دونوں کے لیے چوٹ کے خطرات کم کرتا ہے۔
یہ خطرات اُن طریقوں سے جڑے ہوتے ہیں جو اب بھی دنیا بھر میں استعمال ہو رہے ہیں، جیسے فورسپس یا ویکیوم ایکسٹریکشن۔
یہ آلہ سی سیکشن جیسے مہنگے اور پیچیدہ آپریشنز کی ضرورت بھی کم کر سکتا ہے۔
ارجنٹائن میں آزمائش کے بعد اوڈون اسسٹ اب یورپ کے پانچ ممالک کے 40 ہسپتالوں میں استعمال ہو چکا ہے، جہاں اس کے ذریعے 300 سے زائد بچوں کی پیدائش ہو چکی ہے۔
’مجھے کچھ محسوس ہی نہیں ہوا‘
اوڈون اسسٹ ایک ایسا آلہ ہے جس میں ہوا بھری جاتی ہے اور یہ اس وقت استعمال ہوتا ہے جب زچگی کے دوران بچے کی پیدائش رک جائے۔
اس آلے کو بنانے والی کمپنی (Maternal and Child Health Innovations) کی ویب سائٹ پر بتایا گیا ہے کہ اوڈون اسسٹ سے ویجائنل ڈیلیوری میں اس وقت مدد لی جاتی ہے جب کسی بھی وجہ سے زچگی کا عمل رک جائے، اور یہ ’روایتی دھاتی فورسپس یا ویکیوم ایکسٹریکٹرز کے مقابلے میں ایک زیادہ نرم متبادل‘ کے طور پر کام کرتا ہے۔
اس کے کلینیکل ٹرائلز انگلینڈ کے شہر برسٹل کے ساؤتھ میڈ ہسپتال میں ایک سال سے زائد عرصے سے جاری ہیں۔
ماہرِ امراضِ نسواں و زچگی ڈاکٹر ایملی ہوٹن ان کلینیکل ٹرائل کی انچارج بھی ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کے پروگرام وویمن آورز پلان میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ایک نرم ہوا سے بھرنے والے حصے کے ذریعے کام کرتا ہے جسے ہم بچے کے سر کے گرد رکھتے ہیں،‘
ایم این ایچ آئی کی ویب سائٹ کے مطابق جب اس آلے پھلا دیا جاتا ہے تو یہ آلہ بچے کے سر کو سہارا دیتا ہے اور ہلکیمگر کنٹرول میں رہ کر کھینچنے والا دباؤ فراہم کرتا ہے جو ماں کے زور لگانے کے عمل کے ساتھ مل کر بچے کو باہر آنے میں مدد دیتا ہے۔
یہ آلہ ہینڈلز کے ساتھ جڑا ہوتا ہے جن کی مدد سے ڈاکٹر کنٹرول کے ساتھ بچے کو باہر لاتے ہیں۔ جوں ہی بچے کا سر باہر آتا ہے، یہ آلہ ہٹا دیا جاتا ہے تاکہ بچہ پہلی بار سانس لے سکے۔
برطانیہ کی ایک خاتون ایلا ریڈفورڈ نے اپنی زچگی کے دوران آنے والی پیچیدگی کے دوران اس آلے کے ذریعے بچے کو جنم دیا ہے۔ انھوں نے اپنا تجربہ بتاتے ہوئے کہا کہ ’مجھے تقریباً کچھ محسوس ہی نہیں ہوا۔ یہ بہت اچھا تجربہ تھا۔ اگر موقع ملا تو میں اسے دوبارہ بھی استعمال کرنا چاہوں گی۔‘
نئی نئی ماں بننے والی ایلا کہتی ہیں کہ ’یہ زیادہ معقول لگتا ہے کہ اس کَف کو پھلایا جائے اور اندام نہانی کے پٹھے کو بچے سے دور کیا جائے، بجائے اس کے کہ بچے کے سر کو کھینچا جائے۔‘
ہوٹن نے بھی اس سے اتفاق کیا اور مزید کہا کہ ’ 1950 کی دہائی کے بعد یہ زچگی میں پہلا نیا اضافہ ہے۔‘
’قدرت کی رہنمائی‘
جارج اوڈون کو یہ خیال ایک ترکیب دیکھ کر آیا جو اُن کے ایک ساتھی نے شراب کی بوتل پر آزمایا تھااس دریافت کے موجد اوڈون تسلیم کرتے ہیں کہ ان کی یہ ایجاد زچگی سے وابستہ خطرات کے بارے میں کسی ذاتی تشویش سے پیدا نہیں ہوئی تھی۔
عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق، 2023 میں دنیا بھر میں تقریباً دو لاکھ 60 ہزار خواتین حمل اور زچگی کے دوران یا اس کے بعد وفات پا گئیں یعنی ہر دو منٹ میں ایک۔
اس کے علاوہ اقوامِ متحدہ کے ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق، 2023 میں تقریباً 10 لاکھ بچے پیدائش کے بعد پہلے 24 گھنٹوں میں فوت ہو گئے۔
اوڈون نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ سب ایک چال سے شروع ہوا جو میرے ایک ملازم نے دوسرے کے ساتھ کی، جس میں بوتل سے کارک نکالنے کی کوشش شامل تھی۔ میں نے سوچا کہ ’اسے توڑنا پڑے گا۔‘
اوڈون نے یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ’لیکن اس چال کرنے والے نے ایک چھوٹا سا بیگ لیا، اسے بوتل میں رکھا، اسے ہوا سے بھر دیا، کھینچا اور کارک نکال لیا۔ اس ہوا سے پکڑنے والے اور منتقل کرنے کے طریقہ کار نے مجھے متاثر کیا۔‘
انھوں نے بوتل سے کارک نکالنے کے خیال کو زچگی سے کیسے جوڑا؟
اوڈون نے اس کا سبب قدرتی رہنمائی کو قرار دیا اور کہا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ میرے ساتھ جو ہوا وہ ایک معجزہ تھا، کیونکہ مجھے اپنے کسی عزیز یا جاننے والے کی زچگی کے دوران کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا تھا۔‘
یورپ میں اوڈون اسسٹ کے استعمال سے ہونے والی زچگیوں میں 300 سے زیادہ بچے پیدا ہو چکے ہیں، اور ان میں کسی بھی قسم کی چوٹ رپورٹ نہیں ہوئیچند دن بعد اوڈون اپنے ایک ساتھی کارلوس مودینا(جو پیشے کے اعتبار سے انجینئر ہیں) کے ساتھ ارجنٹائن کے دارالحکومت میں ایک ڈاکٹر سے اپنے آئیڈیا پر تبادلہ خیال کرنے گئے جس کے کچھ ہی عرصے بعد یہ عالمی ادارۂ صحت میں تولیدی صحت کے شعبے کے اُس وقت کے سربراہ، ماہرِ امراضِ نسواں ماریو میریالدی تک پہنچ گیا۔
میریالدی نے تسلیم کیا کہ بیونس آئرس میں عالمی ادارہ صحت کے ایک اجلاس کے دوران وقفے میں جب انھوں نے پہلی بار اس کا نمونہ دیکھا تو وہ حیران رہ گئے۔
ڈاکٹر ماریو میریالدی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’جب میں نے یہ آلہ دیکھا تو مجھے دو پہلوؤں نے متاثر کیا ایک اس کا آسان ڈیزائن اور دوسرا اس کا محفوظ ہونا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’اس کے سادہ ڈیزائن اور بآسانی استعمال کے باعث اس سے طبی ماہرین اور دائیاں(مڈ وائف) دونوں مدد لے سکتے ہیں اور اس طرح اُن علاقوں یا خطوں میں صحت کی سہولیات تک رسائی ممکن ہوتی ہے جہاں صحت کا نظام کمزور ہے۔‘
اس کے محفوظ ہونے کے حوالے سے ڈاکٹر مریو کا کہنا تھا کہ حفاظت کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ اوڈون ایسیسٹ بنانے میں استعمال ہونے والا نرم مواد فورسپس، ویکیوم یا سیزیرین جیسے طریقوں سے جڑے خطرات کو کم کرتا ہے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ ’اب تک اس آلے کی مدد سے پیدا ہونے والے تمام بچے بغیر نیل پڑنے، سوجن یا کسی اور چوٹ کے پیدا ہوئے ہیں جبکہ موجودہ طریقوں میں بعض اوقات ان حادثات کا خطرہ ہوتا ہے۔‘
بچوں اور ماؤں کے لیے دوران پیدائش خطرات
انھوں نے کہا کہ اگرچہ فورسپس(آلے کی مدد سے بچے کو کھینچنا) ویکیوم ایکسٹریکشن( ہوا کے زور سے بچے کو نکلالنا) اور سیزیرین(کٹ لگا کر بچے کو باہر نکالنا) محفوظ ہیں تاہم ’ہرسرجری کی طرح‘ ان میں بھی خطرات ہوتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’اس میں کچھ چوٹیں لگنے کا احتمال تو ہوتا ہے جو زیادہ تر صورتوں میں چند دنوں میں ٹھیک ہو جاتی ہیں، لیکن کم ہی سہی، بعض اوقات ان کے دیرپا اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔‘
امریکہ کی نیشنل لائبریری آف میڈیسن میں موجود ایک رپورٹ کے مطابق، کینیڈا میں ہر 105 فورسپس ڈیلیوری میں سے ایک میں نومولود کو شدید چوٹ لگتی ہے۔
ویکیوم ایکسٹریکشن میں بچے کے سر پر ایک سکشن کپ لگایا جاتا ہے تاکہ نارمل ڈیلیوری کے دوران اسے باہر لانے میں مدد دی جا سکےلیکن صرف بچے ہی متاثر نہیں ہوتے بلکہ اس میں مائیں بھی متاثر ہوتی ہیں۔ امریکہ کی کلیولینڈ کلینک کے اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 10 فیصد فورسپس ڈیلیوری میں اندام نہانی اور مقعد کے چھل جانے کے واقعات ہو سکتے ہیں۔
2012 میں میکسیکو میں کی گئی ایک تحقیق میں میکسیکو سٹی کے ویمنز ہسپتال میں 467 فورسپس ڈیلیوریوں کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے نتائج سے معلوم ہوا کہ 38.5 فیصد ماؤں کو ایسے تمام مراحل میں اندام نہانی یا مقعد کو نقصان پہنچنے کا سامنا ہوا اور 55.9 فیصد نوزائیدہ بچوں کو کسی نہ کسی پیچیدگی یا چوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔
2025 میں اوڈون اسسٹ کو کائٹ مارک سرٹیفیکیشن ملا جس سے یورپ بھر کے ہسپتالوں میں اس کے استعمال کی حفاظت کی تصدیق ہوتی ہے۔
تاہم فورسپس یا ویکیوم ایکسٹریکشن کے برعکس اس آلے کو ایک بار کے بعد دوبارہ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
ڈاکٹر میریالدی کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک بار استعمال ہونے والا آلہ ہے کیونکہ اسے گاما شعاعوں کے ذریعے جراثیم سے پاک کرنا پڑتا ہے۔ چونکہ بچے یا ماں کو نقصان سے بچانے کے لیے نرم مواد استعمال کیا جاتا ہے، اس لیے انفیکشن کے خطرے کے باعث اس کو دوبارہ استعمال نہیں کیا جا سکتا۔‘
اس کی ویب سائٹ کے مطابق ہر آلے کی قیمت 335 ڈالر ہے۔
’مکینک، بڑھئی اور مستری، ہم سب میں تخلیقی صلاحیت کُوٹ کُوٹ کر بھری ہوتی ہے‘
جارج اوڈون اپنی ایجاد کے ہونے والے نتائج پر خوش ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’ارجنٹائن اور اب یورپ میں کیے گئے تجربات میں کسی بھی بچے کو کوئی چوٹ نہیں لگی۔ یہ حیرت کی بات ہے کہ ہم نے اس پر پہلے غور کیوں نہیں کیا۔‘
برسٹل کے ساؤتھ میڈ ہسپتال میں ہونے والی کلینیکل آزمائشوں کے سربراہ ہوٹن کو امید ہے کہ اس آلے کو رواں موسمِ گرما سے تمام زیرِ زچگی خواتین کے لیے دستیاب کیا جائے گا۔
برسٹل کی رہائشی جارجی جیکبز نے بھی اس آلے کے ذریعے بچے کو جنم دیا ہے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بالکل عجیب لگتا ہے کہ ہمارے پاس ایسے طریقے موجود ہیں جو اب اتنے پرانے ہو چکے ہیں۔‘
ڈاکٹر میریالدی کے مطابق ’برطانیہ کے علاوہ، سپین، فرانس، اٹلی اور جرمنی میں بھی اس آلے کا استعمال کیا گیا ہے اور ایتھوپیا میں بھی اسے استعمال کیا گیا جہاں ’اسی طرح کے نتائج حاصل ہوئے۔‘
اوڈون نے اعتراف کیا کہ وہ اپنی ایجاد کے فائدوں کے بارے میں پُریقین نہیں تھے۔
انھوں نے کہا کہ ’جب آپ کچھ ایجاد کرتے ہیں تو آپ کو لگتا ہے جیسے آپ کچھ پاگل پن کر رہے ہیں۔ اگر یہ برسوں سے موجود تھا تو میں نے یہ کیسے سوچا؟ کسی ڈاکٹر نے اس کے بارے میں کیوں نہیں سوچا؟
کچھ سال پہلے اپنی ورکشاپ فروخت کرنے کے بعد اوڈون اب یوراگوئے میں ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے ہیں، لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ تخلیق سے کبھی باز نہیں آتے۔
انھوں نے کہا کہ ’مکینک، بڑھئی اور مستری، ہم سب میں تخلیقی صلاحیت کُوٹ کُوٹ کر بھری ہوتی ہے۔‘
اس مضمون کے لیے اضافی رپورٹنگ جیسمین کیتیبوا نے کی ہے۔