سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں گرفتار خارجی دہشتگرد عمر دین عرف جذبہ نے اعترافی بیان میں کہا ہے کہ فتنہ الخوارج کو افغانستان میں موجود کمانڈروں کی جانب سے مالی اور عسکری معاونت فراہم کی جاتی ہے۔
ویڈیو بیان میں عمر دین نے کہا کہ گھریلو تنازع کے بعد وہ فتنہ الخوارج میں شامل ہوا، جہاں اسے افغانستان سے اسلحہ اور مالی وسائل فراہم کیے جانے کے بارے میں آگاہی حاصل ہوئی اور افغانستان میں راکٹ لانچر سمیت مختلف ہتھیار چلانے کی تربیت بھی حاصل کی۔
گرفتار ملزم نے بتایا کہ مذکورہ نیٹ ورک شادی خیل بیس پر حملے اور کوٹہ خواہ روڈ دھماکے سمیت مختلف دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث رہا، جن میں سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔
عمر دین عرف جذبہ نے اپنے بیان میں کہا کہ خوارجی کمانڈر شریعت اور جہاد کے نام پر نوجوانوں کو ورغلاتے ہیں جبکہ ان کی سرگرمیاں اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں۔
گرفتار ملزم نے مزید کہا کہ تنظیم کے بعض عناصر بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان، گاڑیاں چھیننے اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ عمر دین عرف جذبہ نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ شدت پسند گروہوں کے دعوؤں اور پروپیگنڈے سے محتاط رہیں۔