پاکستان فٹبال ٹیم نے بدھ کے روز مالے میں منعقدہ ڈائمنڈ جوبلی انٹرنیشنل ٹورنامنٹ کا فائنل جیت کر 74 سال میں اپنی پہلی ٹرافی کا جشن منایا، اور جب آج (جمعرات) کو فیفا ورلڈ کپ کا میلہ سجنے جا رہا ہے، تو اس عالمی ایونٹ میں بھی پاکستان کی موجودگی نمایاں ہوگی۔
پاکستان کبھی بھی ورلڈ کپ کھیلنے کی صلاحیت تو حاصل نہیں کرسکا، لیکن گزشتہ برسوں کے دوران سیالکوٹ کی آزمودہ اسپورٹس گڈز مینوفیکچرنگ انڈسٹری (کھیلوں کا سامان بنانے والی صنعت) ورلڈ کپ سمیت بڑے ایونٹس کے لیے آفیشل فٹ بال تیار کرکے اس عالمی اسٹیج پر خاموشی سے اپنی موجودگی درج کراتی رہی ہے۔
جمعرات کو جب امریکا، میکسیکو اور کینیڈا میں ورلڈ کپ کا آغاز ہوگا تو صورتحال کچھ مختلف نہیں ہوگی، کیونکہ اس ٹورنامنٹ کی میچ بال "ایڈیڈاس ٹریونڈا" (Adidas Trionda) سیالکوٹ ہی میں تیار کی جا رہی ہے۔
سیالکوٹ کی اسپورٹس انڈسٹری دنیا کے تقریباً 70 فیصد پریمیم فٹ بال تیار کرتی ہے، جس کے تحت سالانہ تقریباً 40 ملین (4 کروڑ) سے زائد فٹ بال برآمد کیے جاتے ہیں۔
سیالکوٹ کی اسپورٹس انڈسٹری پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر میں مسلسل اپنا حصہ ڈالتی آئی ہے، جہاں سے کھیلوں کے سامان کی سالانہ برآمدات تقریباً 450 ملین ڈالرز کے لگ بھگ رہتی ہیں۔
اگرچہ کوئی بھی کمپنی مالیاتی اعداد و شمار پر کھل کر بات کرنے کو تیار نہیں، لیکن ورلڈ کپ کے فٹ بال بنانے والی کمپنی "فارورڈ اسپورٹس" اس سے 30 سے 35 ملین ڈالر کمانے کے لیے تیار ہے۔
ایڈیڈاس برانڈ کے ورلڈ کپ فٹ بال، ریپلیکاز (نقول) اور دیگر سامان تیار کرنے والی کمپنی "فارورڈ اسپورٹس" کے سینئر مینیجر اعزاز چیمہ نے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مقررہ وقت پر کام مکمل کرنے کے لیے ورکرز اوور ٹائم لگا رہے ہیں۔
اعزاز چیمہ کا کہنا تھا: "ہم جو فٹ بال تیار کر رہے ہیں اس کا نام 'ٹریونڈا' ہے، اور روایتی طور پر ہاتھ کی سلائی کے علاوہ ہم بہترین کوالٹی کو یقینی بنانے کے لیے جدید ترین مشین ٹیکنالوجی کا استعمال کر رہے ہیں۔"
سیالکوٹ میں مختلف کمپنیوں کے تقریباً 700 چھوٹے اور بڑے مینوفیکچرنگ یونٹس موجود ہیں، اور یہ شہر دہائیوں سے عالمی فٹ بال اور کھیلوں کے دیگر سامان کی تیاری کا مرکز رہا ہے، جس میں کھیل کے سب سے بڑے ٹورنامنٹس میں استعمال ہونے والے فٹ بالز کی پیداوار بھی شامل ہے۔
چیمہ نے مزید بتایا کہ ورلڈ کپ میں ٹیموں کی تعداد 32 سے بڑھ کر 48 ہونے اور میچز کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے ایڈیڈاس کے لیے زیادہ تعداد میں "ٹریونڈا" فٹ بال تیار کیے جا رہے ہیں۔
"ٹریونڈا" فٹ بال جدید ترین ٹیکنالوجی اور ورلڈ کپ کے تینوں میزبان ممالک سے متاثرہ ڈیزائن سے لیس ہے۔ اس میں "کنیکٹڈ بال ٹیکنالوجی" (Connected Ball Technology) کا استعمال کیا گیا ہے، جو میچ آفیشلز کو ریئل ٹائم ڈیٹا فراہم کرتی ہے اور فٹ بال کے اندر موجود 500 ہرٹز (500Hz) کے موشن سنسر چپ کی بدولت سیمی آٹومیٹڈ آف سائیڈ سسٹم کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے۔
میزبان ممالک کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے اس بال کا کلر اسکیما (رنگوں کا امتزاج) سرخ، سبز اور نیلے رنگ پر مشتمل ہے۔
ایڈیڈاس ٹریونڈا بہتر کارکردگی کے لیے نئی خصوصیات پیش کرتا ہے۔ اس کا فور-پینل (چار حصوں والا) ڈیزائن گہرے سیمز (جوڑوں) پر مشتمل ہے جو ہوا میں مزاحمت کو یکساں طور پر پھیلا کر گیند کو فضا میں متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کی سطح پر ابھرے ہوئے ڈیزائن گرفت کو بہتر بناتے ہیں، جس سے گیلے یا مرطوب موسم میں بھی گیند پر کنٹرول آسان ہو جاتا ہے۔
سیالکوٹ نے گزشتہ برسوں کے دوران ہاتھ سے سلے ہوئے اور تھرمل بانڈڈ (جدید ترین حرارتی جوڑ والے) دونوں طرح کے فٹ بال بنانے میں دنیا بھر میں نام کمایا ہے۔ اسپورٹس گڈز مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین محمد اسلم کا کہنا تھا کہ فارورڈ اسپورٹس اس سے قبل بھی ایڈیڈاس کے لیے میچ بالز تیار کرچکی ہے، جیسے کہ برازیل 2014 کے لیے 'برازوکا'، روس 2018 کے لیے 'ٹیلسٹار 18'، اور قطر 2022 کے لیے 'الریحلہ'۔
محمد اسلم نے کہا کہ یہ صنعت سیالکوٹ اور اس کے قریبی علاقوں کے لیے ایک معاشی لائف لائن (شہ رگ) کی حیثیت رکھتی ہے۔
ان کا کہنا تھا: "آپ کہہ سکتے ہیں کہ تمام چھوٹے بڑے مینوفیکچرنگ یونٹس سال بھر، اور خاص طور پر عالمی برآمداتی سیزن کے دوران، تقریباً 50,000 ہنرمند ورکرز کو روزگار فراہم کرتے ہیں۔"
برآمدات کی مانگ کو بروقت پورا کرنے کے لیے، ایسوسی ایشن نے اب سیالکوٹ میں ایک ڈرائی پورٹ کے علاوہ ایک بین الاقوامی ہوائی اڈہ بھی تعمیر کیا ہے، تاکہ چین، ویتنام اور بنگلا دیش جیسے ممالک کی طرف سے بڑھتے ہوئے مقابلے کے باعث ان کے کلائنٹس ان کے ہاتھ سے نہ نکلیں۔