انڈیا میں ایک سٹینڈ اپ کامیڈی شو میں ’370 روپے کے بریانی‘ سے متعلق سنایا گیا ایک قصہ اب بڑی بحث میں بدل چکا ہے۔
’370 روپے کے بریانی۔۔۔‘ آپ نے یقیناً اس بارے میں انسٹاگرام پر بہت سی ریلز دیکھی ہوں گی لیکن شاید آپ کو یہ معلوم نہ ہو کہ یہ معاملہ شروع کیسے ہوا اور کس طرح یہ ایک شخص کی نوکری ختم ہونے پر جا کر تھما۔
انڈیا میں ایک سٹینڈ اپ کامیڈی شو میں ’370 روپے کے بریانی‘ سے متعلق سنایا گیا ایک قصہ اب بڑی بحث میں بدل چکا ہے۔
دہلی کے قریب گروگرام کے 23 سالہ ہمانشو جانگڑا اُس وقت خبروں میں آئے جب کامیڈین پرنیت مورے کے شو کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔
ویڈیو میں ہمانشو اپنی ایک ڈیٹ کا ذکر کرتے ہیں، جس کے بعد ان کے تبصروں کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
اس تنازعنے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا کسی رومانوی تعلق میں خواتین کی رضامندی کو ڈیٹ پر کیے جانے والے اخراجات سے جوڑنا درست ہے؟
یہ معاملہ اتنا بڑھا کہ ہمانشو کو اپنی ملازمت سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔ ہمانشو کو نوکری سے کیوں نکالا گیا یہ تفصیلات بعد میں لیکن پہلے جان لیتے ہیں کہ وائرل کلپ میں کیا تھا؟
پرنیت مورے کے شو میں کیا ہوا؟
سوشل میڈیا پر وائرل کلپ میں ہمانشو جانگڑا نے ایک ڈیٹ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے ایک پلیٹ چکن بریانی پر 370 روپے خرچ کیے تھے۔
گفتگو کے دوران اُنھوں نے یہ تاثر دیا کہ چونکہ انھوں نے کھانے کا خرچ اٹھایا تھا، اس لیے وہ اس کے بدلے میں ڈیٹ پر آئی خاتون سے ’کچھ‘ توقع رکھتے تھے۔
کلپ کے مطابق ہمانشو نے دعویٰ کیا کہ جب خاتون نے اپنے گھر واپس جانے کی خواہش ظاہر کی تو انھوں نے اپنے خرچ کیے گئے پیسے ’واپس وصول‘ کرنے پر اصرار کیا۔
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ خاتون کو ایک پارک میں لے گئے حالانکہ اُن کے اپنے بیان کے مطابق خاتون اس پر آمادہ نہیں تھیں۔
یہ ویڈیو سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر شدید بحث شروع ہو گئی۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ ہمانشو کے تبصرے اس سوچ کی عکاسی کرتے ہیں کہ ڈیٹ پر خرچ کیے گئے پیسے کے بدلے میں خواتین سے توقعات پیدا ہو جاتی ہیں۔
بہت سے لوگوں نے اسے خواتین کے حوالے سے ایک تشویش ناک اور حق جتانے والے رویّے کے طور پر دیکھا۔
تاہم اس معاملے پر سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل سامنے آنے کے چند روز بعد کامیڈین پرنیت مورے نے اپنا انسٹاگرام اکاؤنٹ ڈی ایکٹیوٹ کر دیا۔
سوشل میڈیا پر ردِعمل
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد کئی خواتین اور مرد صارفین نے ہمانشو جانگڑا کے تبصروں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ سوچ ایک خطرناک رویّے کی عکاسی کرتی ہے۔
کئی صارفین کا کہنا تھا کہ رضامندی کا تعلق کسی مالی خرچ سے نہیں بلکہ ایک فرد کی آزادانہ مرضی سے ہوتا ہے۔ بعض لوگوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ شو کے دوران حاضرین ان باتوں پر ہنس کیوں رہے تھے اور تالیاں کیوں بجا رہے تھے۔
اس دوران کامیڈین پرنیت مورے کو بھی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ شو کا یہ حصہ ایڈٹ کر کے آن لائن شیئر کیا گیا، جس کے بعد تنازع مزید بڑھا۔ بعد ازاں پرنیت مورے نے اس معاملے پر معذرت بھی کی۔
انفلوئنسر کُشا کپیلا نے بھی انسٹاگرام پر ایک ویڈیو میں اس معاملے پر ردِعمل ظاہر کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ بڑے پلیٹ فارم اور اثر و رسوخ رکھنے والے کامیڈینز کو خواتین اور رضامندی سے متعلق قابلِ اعتراض خیالات کی حوصلہ افزائی کے بجائے اُنھیں چیلنج کرنا چاہیے۔
انھوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ شو کے اس حصے کو ایڈٹ کر کے سوشل میڈیا پر کیوں شیئر کیا گیا۔ اُن کے مطابق ایسا کرنا محض مذاق کا حصہ نہیں بلکہ ان خیالات کو مزید پھیلانے کے مترادف ہے۔ کشا کپیلا نے خواتین سے اپیل کی کہ وہ ایسے رویّوں کے خلاف کھل کر آواز اٹھائیں۔
فیشن انفلوئنسر سارہ فرحین کہتی ہیں کہ ’370 روپے والے تنازع کا سب سے مضحکہ خیز اور خوفناک پہلو یہ ہے کہ کوئی یہ سوال نہیں کر رہا کہ آخر کچھ مرد کیوں سمجھتے ہیں کہ ڈیٹ پر خرچ کیے گئے پیسوں کے ساتھ کوئی ’کیش بیک پالیسی‘ بھی آتی ہے؟‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’وہ یہ قصہ اتنے فخر سے سب کو کیوں سنا رہے تھے؟ اور وہ اس خاتون کو شرمندہ کرنے کا کوئی موقع کیوں نہیں چھوڑ رہے تھے، جس کے ساتھ وہ ڈیٹ پر گئے؟ میں نے کبھی کسی لڑکی کو چند سو روپے خرچ کرنے کے بعد اس قسم کی ناگوار یا قابلِ اعتراض بات کرتے نہیں دیکھا۔‘
ہمانشو جانگڑا کو ملازمت سے کیوں نکالا گیا؟
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے ہمانشو جانگڑا کی شناخت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ گروگرام کی ڈیزائن اور برانڈنگ کمپنی ’سٹاروِک ڈیزائن‘ میں ملازم تھے۔
کمپنی کے بانی وویک وشوکرما نے انسٹاگرام پر جاری ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ اس معاملے پر انھیں سینکڑوں پیغامات، ای میلز اور فون کالز موصول ہوئیں۔
ان کے مطابق وائرل ویڈیو میں کیے گئے تبصرے کمپنی کی اقدار اور پیشہ ورانہ اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔
وشوکرما نے بتایا کہ فیصلہ کرنے سے پہلے کمپنی نے داخلی سطح پر معاملے کا جائزہ لیا۔
ان کے مطابق جانگڑا کے ساتھیوں، جن میں خواتین ملازمین بھی شامل تھیں، نے ہمانشو کو ایک محنتی، پیشہ ور اور باعزت ساتھی قرار دیا۔ کمپنی کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملازمت کے دوران اُن کے خلاف کسی قسم کی باضابطہ شکایت سامنے نہیں آئی تھی۔
تاہم کمپنی کے مطابق مسئلہ دفتر کے اندر اُن کے رویّے کا نہیں تھا بلکہ اُس عوامی تنازع کا تھا جس نے کمپنی کی ساکھ اور کام کے ماحول کو متاثر کرنا شروع کر دیا تھا۔
وویک وشوکرما نے اپنے بیان میں کہا کہ جب کسی ملازم کے عوامی بیانات یا اقدامات کا اثر براہِ راست ادارے، اس کی ٹیم اور کام کے ماحول پر پڑنے لگے تو کمپنی کے لیے اس پر ردِعمل دینا ناگزیر ہو جاتا ہے اوراسی بنیاد پر، کمپنی نے ہمانشو جانگڑا کو نکالنے کا فیصلہ کیا۔