موسمِ گرما آتے ہی بازاروں میں آموں کی بہار آ جاتی ہے اور اس لذیذ پھل کی خوشبو اور ذائقہ ہر کسی کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔ پھلوں کا بادشاہ کہلانے والا آم نہ صرف ذائقے میں بے مثال ہے بلکہ متعدد غذائی اجزا اور صحت بخش خصوصیات کے باعث انسانی صحت کے لیے بھی انتہائی مفید سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق آم مختلف اہم غذائی اجزا سے بھرپور پھل ہے۔ ایک آم سے جسم کو پروٹین، کاربوہائیڈریٹس، غذائی فائبر، وٹامن سی، وٹامن اے، وٹامن ای، وٹامن کے، وٹامن بی 6، فولیٹ، کاپر، پوٹاشیم، میگنیشم اور دیگر مفید اجزا حاصل ہوتے ہیں۔
آم میں موجود وٹامن سی مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے، جسم میں آئرن جذب کرنے اور خلیات کی صحت برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آم میں کیلوریز کی مقدار نسبتاً کم ہوتی ہے۔ تقریباً 165 گرام آم میں 99 کیلوریز پائی جاتی ہیں۔ بعض تحقیقی رپورٹس کے مطابق کھانے سے قبل آم یا دیگر پھل کھانے سے زیادہ کھانے کی عادت پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ میٹھا ہونے کے باوجود آم اعتدال کے ساتھ کھایا جائے تو ذیابیطس کے خطرے میں کمی سے بھی منسلک پایا گیا ہے۔ مختلف تحقیقات میں تازہ پھلوں کے استعمال اور ذیابیطس کے خطرے میں کمی کے درمیان تعلق سامنے آیا ہے۔ بعض مطالعات کے مطابق روزانہ محدود مقدار میں آم کھانے سے بلڈ شوگر کی سطح بہتر رکھنے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم ذیابیطس کے مریضوں کو استعمال سے قبل اپنے معالج سے مشورہ ضرور کرنا چاہیے۔
آم میں پولی فینولز نامی نباتاتی مرکبات بھی موجود ہوتے ہیں جو اینٹی آکسیڈنٹس کے طور پر کام کرتے ہیں۔ یہ مرکبات جسم کے خلیات کو نقصان دہ مادوں سے تحفظ فراہم کرتے ہیں اور متعدد دائمی بیماریوں کے خطرات کم کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
مدافعتی نظام کو مضبوط بنانے میں بھی آم اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس میں موجود وٹامن اے جسم کے دفاعی نظام کے لیے ضروری ہے، جبکہ وٹامن سی بیماریوں سے لڑنے والے سفید خون کے خلیات کی کارکردگی بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔ اس کے علاوہ کاپر، فولیٹ، وٹامن ای اور بی وٹامنز بھی مدافعتی نظام کو تقویت پہنچاتے ہیں۔
دل کی صحت کے حوالے سے بھی آم مفید سمجھا جاتا ہے۔ اس میں موجود پوٹاشیم اور میگنیشم خون کی روانی کو بہتر بنانے، خون کی شریانوں کو کشادہ رکھنے اور بلڈ پریشر کو متوازن رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ آم میں پائے جانے والے اینٹی آکسیڈنٹس کولیسٹرول اور چکنائی کی سطح کم کرنے میں بھی معاون ہو سکتے ہیں۔
نظامِ ہاضمہ کے لیے آم ایک بہترین پھل مانا جاتا ہے۔ اس میں موجود امائلیز (Amylases) نامی انزائم کاربوہائیڈریٹس کو آسانی سے شکر میں تبدیل کرنے میں مدد دیتا ہے، جبکہ فائبر اور پانی کی زیادہ مقدار قبض سمیت ہاضمے کے مختلف مسائل سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
ماہرین کے مطابق آم آنکھوں کی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ اس میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس اور وٹامن اے بینائی کو بہتر رکھنے، آنکھوں کو نقصان دہ روشنی سے بچانے اور نظر سے متعلق مختلف مسائل کے خطرات کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آم میں موجود پولی فینولز تکسیدی تناؤ (Oxidative Stress) کے خلاف تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق تکسیدی تناؤ کینسر کی بعض اقسام کے خطرات میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے، اس لیے آم میں موجود یہ مرکبات ممکنہ طور پر کینسر سے بچاؤ میں بھی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
نوٹ: یہ معلومات مختلف طبی تحقیقات اور طبی جریدوں میں شائع ہونے والی رپورٹس پر مبنی ہیں۔ کسی بھی طبی مسئلے یا بیماری کی صورت میں اپنے معالج سے مشورہ ضرور کریں۔