’کوئی پیغام یا نئی حکمت عملی‘: اسرائیل پر حملے سے ایران دنیا کو کیا بتانا چاہتا ہے؟

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی نئے حملوں کے بعد دباؤ کا شکار ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس سے جنگ کے خاتمے کے لیے وسیع تر معاہدے پر ہونے والے مذاکرات کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
تہران میں موٹر سائیکل پر سوار دو افراد ایک عمارت پر بنے بڑے دیوارگیر نقش کے پاس سے گزر رہے ہیں جس میں خنجر اور داغے گئے میزائل دکھائے گئے ہیں
Atta Kenare / AFP via Getty Images
امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ حالیہ حملوں کے بعد دباؤ کا شکار ہے

بڑے پیمانے پر اسرائیلی اور امریکی فوجی حملوں، معاشی پابندیوں اور امریکی بحری ناکہ بندی کے باوجود، ایرانی حکومت اپنی جگہ قائم رہی۔

ایرانی حکومت موجود ہے، اس کے سکیورٹی ڈھانچے بھی قائم ہیں اور اپوزیشن کی بار بار کی پیشگوئیوں کے برخلاف کوئی وسیع عوامی بغاوت بھی دیکھنے میں نہیں آئی۔

اس تناظر میں، اسرائیل پر حملہ محض جوابی کارروائی نہیں بلکہ ایک طرح کی ڈیٹرنس دکھانے کی کوشش ہو سکتا ہے۔ یہ تجربہ ممکن ہے کہ تہران کے اندازِ فکر اور فیصلوں کے طریقۂ کار میں تبدیلی کا باعث بنا ہو۔

ایران اب خود کو ایک کمزور فریق کے طور پر نہ دیکھتا ہو جسے ہر قیمت پر تصادم سے بچنا چاہیے بلکہ شاید خود کو ایک ایسی طاقت سمجھنے لگا ہو جو مشکل ترین مرحلے سے گزر چکی اور اب نئی ’سرخ لکیریں‘ قائم کر سکتی ہے۔

تہران شاید یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ اب سے اس کے علاقائی اتحادیوں پر حملوں کو ایران پر حملوں سے الگ نہیں سمجھا جائے گا۔ یہ پیغام خاص طور پر حزب اللہ، عراقی ملیشیاؤں اور ایران کے علاقائی نیٹ ورک، جسے ’محورِ مزاحمت‘ کہا جاتا ہے، کے لیے اہم ہوگا۔

ایران کے علاقائی اثر و رسوخ کی ساکھ ہمیشہ اس یقین پر قائم رہی کہ تہران اپنے اتحادیوں کا ساتھ دے گا۔ اگر ایران اپنی کھلی وارننگز کے باوجود اسرائیل کے خلاف کوئی ردعمل نہ دیتا تو اس کی یہ ساکھ متاثر ہو سکتی تھی۔

اس نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ حملہ صرف اسرائیل کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں تھا۔

یہ اقدام خطے بھر میں امریکہ اور اسرائیل کے اتحادیوں کے لیے بھی ایک پیغام تھا، جو یہ دیکھ رہے تھے کہ آیا تہران اپنے دھمکی آمیز بیانات پر عمل کرتا ہے یا نہیں۔

اس حملے کا وقت بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ ایک معاہدہ ممکن ہو سکتا ہے۔

روایتی سوچ یہی تھی کہ ایران ایسے اقدامات سے گریز کرے گا جو سفارت کاری کو نقصان پہنچا سکتے ہوں لیکن شاید تہران نے مختلف نتیجہ اخذ کیا۔

ایرانی قیادت کا یہ خیال ہو سکتا ہے کہ محدود یا نپی تلی فوجی کارروائی کے ذریعے طاقت کا استعمال مذاکرات کی میز پر اس کی پوزیشن کو کمزور کرنے کے بجائے مضبوط کرے گا۔

تہران کے نقطۂ نظر سے، طاقت کے استعمال کی تیاری ظاہر کرنا واشنگٹن اور اسرائیل کو یہ یاد دلانے کی کوشش ہو سکتی ہے کہ ایران کے پاس اب بھی مختلف آپشنز موجود ہیں۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایران مذاکرات ختم کرنا چاہتا ہے یا انھیں ناکام دیکھنا چاہتا ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ تہران نے اس کارروائی کے ذریعے ایک سیاسی پیغام دینے کی کوشش کی مگر ایسے پیمانے پر نہیں کہ کشیدگی میں لازمی اضافہ ہو جائے۔

یہ حکمت عملی درست ثابت ہوگی یا نہیں، یہ ابھی واضح نہیں۔

ایرانی شہریوں کا ان حملوں کے تبادلے پر ردعمل بھی اسی وسیع بحث کی عکاسی کرتا ہے۔ کچھ لوگ ایران کے اقدام کو جائز ردعمل سمجھتے ہیں۔

بی بی سی فارسی کے ایک سامع نے کہا کہ ’لبنان کے دفاع کے لیے تنازع میں ایران کی شمولیت ایک وفادار اور درست اقدام ہے۔ جوہری معاہدے کے بعد سے ایران نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی نہیں کی اور یہ حملہ دوسری طرف کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کا جواب تھا۔‘

دوسرے لوگ تہران کی ترجیحات پر سوال اٹھاتے ہیں۔ ایک اور شخص نے کہا کہ ’جنوبی ایران میں تقریباً دو ماہ سے جھڑپیں (بمباری) ہو رہی ہیں مگر کوئی سنجیدہ ردعمل نہیں آیا۔ ایسا لگتا ہے جیسے جنوبی لبنان کو جنوبی ایران سے زیادہ اہم سمجھا جا رہا ہو۔‘

ہجوم ایرانی اور حزب اللہ کے جھنڈے اٹھائے ہوئے ہے۔ سامنے دو خواتین سیاہ عبایہ پہنے ہوئے ہیں، جبکہ ان کے ساتھ کھڑا ایک مرد ہاتھ بلند کیے ہوئے ہے۔ اس نے خاکی رنگ کی قمیض اور سرمئی پتلون پہنی ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ایک اور مرد نارنجی شرٹ اور جینز میں ہے
Anadolu via Getty Images
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی قیادت پر دباؤ ہے کہ وہ جنگ بندی کے لیے شرائط قبول کرتی ہوئی نظر نہ آئے

تاہم بہت سے لوگوں کو یہ تشویش ہے کہ جنگ دوبارہ بھڑک سکتی ہے، اگرچہ کچھ کا خیال ہے کہ ان جھڑپوں سے مکمل جنگ کے امکان محدود ہیں۔

ایک سامع کا کہنا تھا کہ ’یہ تنازع زیادہ سنجیدہ نہیں اور گذشتہ دو جنگوں کی طرح مکمل جنگ میں تبدیل نہیں ہوگا۔ ایران جانتا ہے کہ امریکہ اب براہِ راست جنگ نہیں چاہتا، اسی لیے اس نے پہل کی۔ اس میں کچھ حد تک اظہار اور پروپیگنڈا بھی شامل ہے تاکہ اس کے حامیوں کو محسوس ہو کہ وہ جیت رہے ہیں۔‘

ایک اور امکان یہ بھی ہے کہ یہ حملہ مذاکراتی عمل سے بڑھتی ہوئی بے اطمینانی کی عکاسی کرتا ہے۔

اگر ایران کو لگتا ہے کہ اس سے بہت زیادہ رعایتیں طلب کی جا رہی ہیں جبکہ بدلے میں اسے خاطر خواہ فائدہ نہیں مل رہا، تو یہ فوجی اقدام اگلے مرحلے کی بات چیت سے پہلے اپنی برتری بڑھانے کی کوشش ہو سکتا ہے۔

بہرحال، یہ حملہ ایران کے موقف میں بڑھتے ہوئے اعتماد کی نشاندہی کر سکتا ہے۔

لہٰذا سوال یہ نہیں کہ آیا ایران ایک اور اسرائیلی بمباری کا سامنا کرنے کے لیے تیار تھا یا نہیں، بلکہ یہ کہ آیا تہران اب یہ سمجھتا ہے کہ وہ سفارت کاری جاری رکھتے ہوئے ایسا خطرہ مول لے سکتا ہے۔

اگر ایسا ہے، تو ایران خطے میں ایک نئی حقیقت قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس میں سفارتی مذاکرات کے دوران محدود فوجی اقدامات کے ذریعے اپنی سرخ لکیروں کو نافذ کیا جائے۔

ایسی خطرناک حکمت عملی اس بات کی نشاندہی کر سکتی ہے کہ ایران اپنی سلامتی اور مشرق وسطیٰ میں اپنے مقام کو کس نئے زاویے سے دیکھ رہا ہے۔

ایران اور امریکہ کے لیے جنگ بندی برقرار رکھنا مشکل کیوں؟

اپریل کے آغاز میں امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی جنگ بندی اب خطے میں تازہ حملوں کی لہر کے بعد بڑھتے ہوئے دباؤ کا شکار دکھائی دیتی ہے۔

بدھ کے روز جب ایک امریکی ہیلی کاپٹر خلیج میں مار گرایا گیا تو واشنگٹن نے کہا کہ اس نے ایران کے فوجی اور نگرانی کے مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔

ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے جواب میں بحرین اور اردن میں امریکی اڈوں پر جوابی حملے کیے۔ اس دوران کویت کا یہ بیان بھی سامنے آیا کہ اس نے ایک اور ایرانی حملہ ناکام بنا دیا۔

یہ کشیدگی اتوار کے روز ایران کی جانب سے اسرائیل پر میزائل داغنے کے چند دن بعد سامنے آئی، جس کے جواب میں اسرائیل نے مغربی اور وسطی ایران میں اہداف پر فضائی حملے کیے۔ جنگ بندی کے آغاز کے بعد دونوں ممالک کے درمیان یہ پہلی براہِ راست جھڑپ تھی۔

ٹرمپ نے فریقین سے ’فائرنگ بند‘ کرنے کا مطالبہ کیا لیکن پھر خود امریکہ نے ایران پر حملے کیے جس کا دوسرا دور جمعرات کو ہوا۔

امریکی صدر نے کہا کہ ایران کو اب ’اس کی قیمت چکانا ہوگی‘، تاہم انھوں نے تفصیلات نہیں بتائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ’مکمل طور پر شکست کھا چکا ہے‘ اور ’صرف باتیں کرتا ہے، عملی اقدام نہیں کرتا‘۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب اس سے قبل ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا تھا کہ ان کا ملک ’ہر حملے یا دھمکی کا جواب دے گا‘ اور کہا کہ امریکہ کو ’میدانِ جنگ میں پے درپے شکست‘ کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

فی الحال کسی بھی فریق نے باضابطہ طور پر جنگ بندی ختم نہیں کی، لیکن خدشہ ہے کہ مزید کشیدگی واشنگٹن اور تہران کے وسیع معاہدے کی کوششوں کو متاثر کر سکتی ہے جس کا مقصد ایران جنگ کا خاتمہ ہے۔

تو پھر جنگ بندی کو برقرار رکھنا اتنا مشکل کیوں ثابت ہوا؟ ماہرین کے مطابق اس کی چار وجوہات یہ ہیں۔

ایران کے لیے غیر مستحکم جنگ بندی

واشنگٹن کے تھنک ٹینک سینٹر فار انٹرنیشنل پالیسی کے سینیئر فیلو سینا توسی کے مطابق ’ایک وجہ یہ ہے کہ جنگ بندی نے ’تنازع کے بنیادی مسئلے کو ایران کے نقطۂ نظر سے حل نہیں کیا‘۔

وہ لبنان میں اسرائیلی فوجی سرگرمیوں کے تسلسل کے ساتھ ساتھ ایران پر امریکی فوجی اور اقتصادی دباؤ۔۔ بشمول پابندیاں اور ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی۔۔ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

ایران کی طرف سے حملے روکنے کے مطالبے کے ایک دن بعد ہی منگل کو اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنانی شہر صور کو نشانہ بنایا۔

سینا توسی کی رائے میں تہران اس صورتحال کو ایک بعد از جنگ انتظام کے طور پر دیکھتا ہے جس میں واشنگٹن ’نمایاں اثر و رسوخ‘ برقرار رکھتا ہے جبکہ مکمل جنگ سے گریز کرتا ہے، جسے ایرانی حکام ’غیر مستحکم اور ناقابل قبول‘ سمجھتے ہیں۔

وہ مزید کہتے ہیں کہ ایران کو خدشہ ہے کہ اگر امریکہ کم لاگت پر فوجی دباؤ برقرار رکھ سکتا ہے اور اس کے علاقائی اتحادیوں کو نشانہ بناتا رہتا ہے، تو یہ اقدامات خطے کے مستقل منظرنامے کا حصہ بن سکتے ہیں، جس سے وقت کے ساتھ ایران کی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران کی قیادت پر دباؤ ہے کہ وہ ایسی جنگ بندی قبول کرتی نظر نہ آئے جس میں اس کے مخالفین فوجی اور اقتصادی دباؤ برقرار رکھیں جبکہ تہران تحمل کا مظاہرہ کرے۔

اسرائیل کا کردار

تجزیہ کار اسرائیل کے اقدامات کو بھی جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوششوں میں ایک اہم رکاوٹ قرار دیتے ہیں۔

برطانیہ کے رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ کے سینیئر ایسوسی ایٹ فیلو ڈاکٹر ایچ اے ہیلیئر کہتے ہیں کہ ’تل ابیب کی بنیادی دلچسپی کسی ایسے امریکہ-ایران معاہدے کو روکنے میں ہے جو ایران کو علاقائی طاقت کے طور پر برقرار رکھے‘، اور اسرائیل کو سفارتی کوششوں میں ممکنہ ’خرابی پیدا کرنے والا عنصر‘ قرار دیتے ہیں۔

وہ مذاکرات کے لیے جاری امریکی سفارت کاری کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے کے لیے سرگرم ہیں۔

اسرائیل نے کس حد تک ٹرمپ کی مخالفت کی، جنھوں نے اتوار کے حملوں کے بعد تل ابیب سے ایران پر حملہ نہ کرنے کو کہا تھا۔

تاہم عسکری ماہرین اسرائیل کے ایران کے ساتھ کسی طویل تنازع میں امریکی حمایت پر انحصار کی نشاندہی کرتے ہیں۔

اسرائیل کے انسٹی ٹیوٹ برائے نیشنل سکیورٹی سٹڈیز کے سینیئر محقق یہوشوعا کالیِسکی نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل اس جنگ کو طویل عرصے تک تنہا نہیں لڑ سکتا، کیونکہ اسلحہ استعمال ہو کر ختم ہو جاتا ہے۔‘

عکسری مؤرخ ڈینی اورباخ کے مطابق اسرائیل یہ پیغام دے رہا ہے کہ ایران کے ساتھ کوئی بھی معاہدہ اس کے سکیورٹی خدشات کو نظر انداز نہیں کر سکتا۔

انھوں نے روئٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ’اگر کوئی ممکنہ جنگ بندی معاہدہ اسرائیلی مفادات کو زیادہ نقصان پہنچاتا ہے تو اسرائیل صورتحال کو الٹ سکتا ہے۔‘

بی بی سی کو ٹیلیفونک انٹرویو میں ٹرمپ نے اس تاثر کی تردید کی کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایرانی حملوں کے جواب میں کارروائی کر کے ان کی خلاف ورزی کی۔

صحرا میں ایک بیلسٹک میزائل کا ٹکڑا جزوی طور پر دھنسا ہوا ہے، پس منظر میں صاف نیلا آسمان اور ایک دھندلا سا اکیلا شخص نظر آتا ہے
Anadolu via Getty Images
ماہرین کے مطابق لبنان میں اسرائیل کی مسلسل فوجی کارروائیاں جنگ بندی کو کمزور کر رہی ہیں

محتاط کشیدگی

تیسرا عنصر یہ ہے کہ کشیدگی خود مذاکراتی حکمت عملی کا حصہ بنتی دکھائی دیتی ہے۔

امریکی اور اسرائیلی دباؤ، پابندیوں اور بحری ناکہ بندی کے باوجود ایران کی قیادت اپنی جگہ قائم رہی ہے اور اس کا سکیورٹی ڈھانچہ برقرار ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس سے تہران کے اندر مزاحمت کا اعتماد مضبوط ہوا ہے۔

مکمل طور پر ٹکراؤ سے بچنے کے بجائے، ایران اب خود کو دباؤ برداشت کرنے کے قابل سمجھ سکتا ہے اور نئی سرخ لکیریں نافذ کرنے کے لیے زیادہ تیار ہو سکتا ہے۔

اسی دوران ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ فوجی دباؤ اور سفارت کاری ایک دوسرے کے متضاد نہیں ہیں۔

سینا توسی کہتے ہیں کہ ’ایران سفارت کاری ترک نہیں کر رہا۔‘

ان کے مطابق لبنان، خلیج اور دیگر مقامات پر حالیہ سرگرمیاں، جن میں اکثر ایران کی حمایت یافتہ گروہ شامل ہیں، ضروری نہیں کہ وسیع جنگ چھیڑنے کے لیے ہوں، بلکہ موجودہ صورتحال کی قیمت بڑھانے اور ایران کی سودے بازی کی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے ہیں۔

ایچ اے ہیلیئر بھی اس مؤقف سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’منطق سادہ ہے۔ اگر ایران پر حملہ اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کے لیے مہنگا نہیں ہے، تو اسے خطے میں وسیع امریکی سکیورٹی نظام کے لیے مہنگا بنا دو۔‘

امریکی اثر و رسوخ کی حدود

عمارتوں کے اوپر آسمان میں میزائل کی لکیر دکھائی دے رہی ہے
Anadolu via Getty Images
تجزیہ کار خبردار کرتے ہیں کہ حالیہ واقعات مستقل حل کو مزید مشکل بنا سکتے ہیں

چوتھا اور آخری عنصر امریکہ کا کردار ہے اور یہ کہ وہ اپنا اثر و رسوخ کس حد تک استعمال کرنے کو تیار ہے۔

اسرائیل کے بنیادی فوجی حامی کے طور پر واشنگٹن اسلحہ، مالی وسائل اور سفارتی حمایت فراہم کرتا ہے، جس سے اسے تنازع کے رخ پر نمایاں اثر حاصل ہوتا ہے۔

ایچ اے ہیلیئر کے مطابق یہی اثر جنگ بندی کی نزاکت کو سمجھنے کے لیے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اگر واشنگٹن چاہے کہ تل ابیب اپنا رویہ تبدیل کرے، تو حمایت کی حدود کا اشارہ دینا بھی ’فوراً تل ابیب کی توجہ حاصل کرے گا‘۔

آئندہ کے خطرات

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ عوامل دیرپا حل کو مزید مشکل بنا سکتے ہیں۔ فی الحال بہت سے ماہرین کے مطابق سفارت کاری ہی واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔

لیکن ایچ اے ہیلیئر خبردار کرتے ہیں کہ اگر سفارت کاری کو بڑھتے ہوئے ’فوجی کارروائی کے پردے‘ کے طور پر دیکھا جانے لگے، تو ایران اپنی حکمت عملی بدل کر اس پر حملے کی ’ناقابل برداشت قیمت‘ مقرر کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔

ان کے مطابق ایسی تبدیلی مستقبل میں کشیدگی کو نہ صرف زیادہ ممکن بلکہ زیادہ خطرناک بھی بنا سکتی ہے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US