پاکستان ٹیبل ٹینس فیڈریشن کی جانب سے ایشین گیمز 2026 کے ٹرائلز کا نوٹیفکیشن جاری کیے جانے کے بعد انتظامی معاملات اور وقت کے انتخاب پر شدید تحفظات سامنے آ گئے ہیں۔
نوٹیفکیشن پر 9 جون 2026 کی تاریخ درج ہے تاہم کھلاڑیوں کو عملی طور پر ٹرائلز کی اطلاع انتہائی کم وقت پہلے دی گئی، جس کے بعد ٹرائلز 13 اور 14 جون کو لاہور میں مقرر کر دیے گئے ہیں۔ قومی سطح کے کھلاڑیوں کی مختلف قومی ایونٹس میں مصروفیات کے باعث مختصر نوٹس پر ٹرائلز کا انعقاد نہ صرف غیر پیشہ ورانہ قرار دیا جا رہا ہے بلکہ اس سے کئی مستحق کھلاڑیوں کے متاثر ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
مزید یہ کہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن نے ایشین گیمز کے لیے کھلاڑیوں کے نام جمع کرانے کی آخری تاریخ 10 جون مقرر کر رکھی تھی، جبکہ اطلاعات کے مطابق پی ٹی ٹی ایف کو اس حوالے سے تقریباً دو ماہ قبل ای میل کے ذریعے آگاہ کیا جا چکا تھا۔ اس کے باوجود بروقت منصوبہ بندی نہ ہو سکی۔ ذرائع کے مطابق فیڈریشن کے سیکریٹری مبینہ طور پر آخری تاریخ کو 10 جون کے بجائے 10 جولائی سمجھتے رہے، جس کے باعث مجموعی عمل میں تاخیر ہوئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ فیڈریشن کے انتظامی امور پر سوالات اٹھے ہوں، اس سے قبل بھی ایشین یوتھ ٹیبل ٹینس چیمپئن شپ اور ایشین ٹیبل ٹینس چیمپئن شپ کے معاملات میں ڈیڈ لائنز اور انتظامی تاخیر پر تنقید سامنے آ چکی ہے۔ اسی تسلسل میں 2026 میں تھائی لینڈ میں ہونے والی ایشین یوتھ چیمپئن شپ میں بھی پاکستان ٹیم کی عدم شرکت نے نوجوان کھلاڑیوں کو اہم بین الاقوامی مواقع سے محروم کر دیا۔
خط میں ایک اور اہم پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ منتخب کھلاڑیوں کو ایشین گیمز میں شرکت کے لیے اپنے بین الاقوامی سفر، رہائش اور دیگر اخراجات خود برداشت کرنا ہوں گے، جس پر سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ ایسے حالات میں فیڈریشن کا بنیادی کردار کیا رہ جاتا ہے۔
یہ معاملہ صرف ٹرائلز تک محدود نہیں بلکہ پاکستان میں ٹیبل ٹینس کے مستقبل، شفافیت، میرٹ اور انتظامی کارکردگی سے جڑا ہوا ہے۔ کھیلوں سے وابستہ حلقوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے اور ان انتظامی کوتاہیوں کی تحقیقات کرائی جائیں تاکہ آئندہ کھلاڑیوں کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔