’امن کے قیام میں پاکستان کے کردار کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے کیونکہ علاقائی استحکام انڈیا کے مفاد میں بھی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب انڈیا کی توانائی کی ضروریات اور معاشی ترقی کا بڑا انحصار خلیجی خطے پر ہے۔‘

’میں مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے خاتمے کے حوالے سے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کا خیرمقدم کرتا ہوں، (وہ تنازع) جس نے دنیا بھر میں معاشی سرگرمیوں کو متاثر کیا اور کئی ممالک میں جانی نقصان کا سبب بنا۔ انڈیا کو امید ہے کہ اس مفاہمت پر عملدرآمد سے خطے میں امن اور استحکام کی بحالی میں مدد ملے گی اور سمندری آمد و رفت اور تجارت کی آزادی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ ہم باقی رہ جانے والے اُمور پر غور و خوض کے نتیجے میں ایک پائیدار اور حتمی معاہدے کی توقع رکھتے ہیں۔‘
پاکستان کی طرح انڈیا کے سوشل میڈیا پر بھی وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے پیر کی دوپہر امریکہ، ایران امن معاہدے کی خبر کے تناظر میں کہے گئے یہ خیرمقدمی کلمات زیر بحث ہیں۔
پاکستانی صارفین کا عمومی گلہ یہی ہے کہ دیگر عالمی رہنماؤں کی طرح انڈین وزیر اعظم نے اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں پاکستان کا ذکر کیوں نہیں کیا۔ جبکہ انڈین اپوزیشن اور عام صارفین نے مودی کی اس پوسٹ پر عالمی سطح پر انڈیا کے ’پیچھے رہ جانے‘ اور گذشتہ دنوں امریکی حملے میں مارے جانے والے تین سیلرز (ملاحوں) کے حوالے سے تنقید کی گئی۔
اشوک سوائن نامی صارف نے وزیر اعظم مودی کی ٹویٹ پر ردعمل دیتے ہوئے یاد دلایا کہ ’پاکستان ثالث تھا اور مفاہمت کا اعلان سب سے پہلے (شہباز) شریف نے کیا، نہ کہ ٹرمپ نے، جیسا کہ مئی 2025 میں ہوا تھا۔‘
یاد رہے کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب وزیر اعظم شہباز شریف نے امن معاہدہ طے پا جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس پر باضابطہ دستخط کی تقریب 19 جون (جمعہ) کو جنیوا میں ہو گی۔
شہباز شریف کے اس اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے برطانیہ، چین، آسٹریلیا، ترکی، قطر، سعودی عرب، کینیڈا، اٹلی، نیدر لینڈز، ملائیشیا اور کویت کے وزرائے اعظم اور صدرو نے پاکستان کا نام لیتے ہوئے ثالثی کی کوششوں میں سرگرم دیگر ممالک کا بھی شکریہ ادا کیا تھا۔
تاہم نریندر مودی کی اس حوالے سے کی گئی پوسٹ میں نہ تو پاکستان اور نہ ہی دیگر ثالثوں کا تذکرہ موجود تھا۔
صحافی و اینکر پرسن حامد میر نے وزیر اعظم مودی کی ایکس پوسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’ایک نہایت اہم مگر چھوٹا سا لفظ ’پاکستان‘ اس بیان سے غائب ہے، جو ایک بہت بڑے ملک کے رہنما کی جانب سے جاری کیا گیا ہے۔‘
حامد میر کی اس پوسٹ کو پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے میر تقی میر کی ایک معروف غزل کے اس مصرعے کے ساتھ شیئر کیا ’یہ دُھواں سے کہاں سے اٹھتا ہے‘۔
انڈیا میں بھی یہ معاملہ سوشل میڈیا پر زیر بحث آیا۔
انڈیا سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی اور مصنف کلول بھٹاچارجی نے بی بی سی اُردو کے قیصر اندرابی سے گفتگو کرتےکہا کہ ’امن کے قیام میں پاکستان کے کردار کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے کیونکہ علاقائی استحکام انڈیا کے مفاد میں بھی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب انڈیا کی توانائی کی ضروریات اور معاشی ترقی کا بڑا انحصار خلیجی خطے پر ہے۔‘
اُن کا کہنا ہے کہ ’پاکستان نے اپنی کوششوں سے ایسا کردار ادا کیا ہے جس کا فائدہ انڈیا کو بھی ہو گا، اس لیے ہمیں جنوبی ایشیا کی روایتی انڈیا، پاکستان مخاصمت سے آگے بڑھ کر تعمیری انداز میں سوچنے کی ضرورت ہے۔‘
کلول بھٹاچارجی کے مطابق انڈیا اتنا مضبوط اور بالغ نظر ملک ہے کہ وہ اپنے حریف ملک کے مثبت کردار کو تسلیم کر سکے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں سے غیر محفوظ محسوس کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس کے برعکس انڈیا کو ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کی ازسر نو تشکیل اور انھیں مزید مضبوط بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔‘
انڈیا کی سابق سفارتکار اور خارجہ سیکریٹری نیروپما مینن راؤ نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے کردار کے بارے میں انڈیا کا شکوک و شبہات رکھنا گذشتہ کئی دہائیوں کی کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
تاہم اُن کا کہنا تھا کہ سفارتکاری جذبات کے بجائے مفادات کی بنیاد پر چلتی ہے، اس لیے پاکستان کے کردار کو یکسر مسترد کرنا مناسب نہیں ہو گا۔
نیروپما مینن راؤ کے مطابق ’پاکستان کے امریکہ، ایران اور خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات ایسے سفارتی ذرائع فراہم کرتے ہیں جنھیں بحرانی حالات میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔‘
انڈیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے بھی پیر کے روز نئی دہلی میں ہوئی ایک بریفنگ کے دوران امید ظاہر کی کہ یہ جنگ بندی خطے میں پائیدار امن کی راہ ہموار کرے گی۔
انھوں نے کہا کہ ’انڈیا آبنائے ہرمز کے ذریعے سمندری راستوں پر بلا رکاوٹ نقل و حرکت کا خواہاں ہے۔ انڈیا امن اور علاقائی استحکام کے لیے اٹھائے گئے تمام اقدامات کا خیر مقدم کرتا ہے۔‘
رندھیر جیسوال نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ یہ پیش رفت یوکرین میں امن کی کوششوں کو بھی تقویت دے گی۔
پاکستان کی جانب سے امن معاہدے کا اعلان کیے جانے کے بعد انڈیا میں حزب اختلاف کے رہنماؤں اور سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ انڈیا اس اہم سفارتی پیش رفت میں خود کو مؤثر انداز میں شامل کرنے میں ناکام رہا ہے اور اس صورتحال میں آج وہ عالمی سطح پر پیچھے رہ گیا ہے۔
آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے رُکن پون کھیڑا نے ایکس پر لکھا کہ یہ معاہدہ تو پوری دنیا کے لیے ایک خوشخبری ہے، مگر ’انڈیا کے لیے یہ لمحہ اُبھرتے ہوئے عالمی نظام میں اپنی جگہ کے حوالے سے کچھ غیر آرام دہ سوالات بھی اٹھاتا ہے۔‘
انھوں نے لکھا کہ ’یہ معاہدہ پاکستان، سعودی عرب، قطر اور ترکی کی کوششوں سے ممکن ہوا۔ ایران کے ساتھ تاریخی تعلقات اور وزیر اعظم مودی کے صدر ٹرمپ کے ساتھ وسیع پیمانے پر زیر بحث رہنے والے ذاتی روابط کے باوجود انڈیا کہیں بھی منظرنامے میں دکھائی نہیں دیا۔‘
پون کھیڑا کے مطابق ’ہم ان تعلقات سے فائدہ اٹھانے، اپنی سفارتی اہمیت بڑھانے اور امن کی کوششوں میں بامعنی کردار ادا کرنے میں ناکام رہے۔ اس کے برعکس ہمارے وزیر خارجہ نے ثالثی کے تصور کو ہی ’بروکر‘ قرار دیا۔‘