زندگی میں آنے والی مشکلات انسان کو توڑ بھی سکتی ہیں اور بنا بھی سکتی ہیں، لیکن ملتان سے تعلق رکھنے والے علی حمزہ نے ثابت کردیا کہ عزم و حوصلہ ہو تو کوئی معذوری انسان کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔
ہماری ویب سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے علی حمزہ نے بتایا کہ تقریباً پانچ سال قبل وہ ایک بس میں سفر کر رہے تھے کہ راستے میں خوفناک ٹریفک حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں وہ اپنی دونوں ٹانگوں سے محروم ہوگئے۔
علی حمزہ کے مطابق حادثے کے بعد ان کے اہل خانہ نے اپنی استطاعت کے مطابق علاج معالجے پر تمام جمع پونجی خرچ کردی۔ کچھ عرصہ بعد ان کی والدہ نے انہیں حوصلہ دیتے ہوئے کہا کہ اب زندگی کا سفر اپنے بل بوتے پر طے کرنا ہوگا۔ والدہ کی یہی بات ان کے لیے نئی زندگی کا پیغام ثابت ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے کبھی کسی سے صدقہ، خیرات یا زکوٰۃ طلب نہیں کی۔ جو تھوڑی بہت رقم موجود تھی، اس سے خصوصی طور پر معذور افراد کے لیے تیار کی جانے والی موٹر سائیکل بنوائی اور اپنی محنت سے روزگار کمانے کا فیصلہ کیا۔
علی حمزہ نے بتایا کہ انہوں نے پہلے ہی فوڈ پانڈا میں درخواست دے رکھی تھی جو منظور ہو چکی تھی۔ ابتدا میں وہ ملتان میں کام کرسکتے تھے، لیکن بہتر مواقع کی تلاش میں قسمت آزمانے کے لیے اسلام آباد کا رخ کیا اور یہاں آ کر فوڈ پانڈا کے ساتھ باقاعدہ کام شروع کردیا۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں روزگار کے دوران انہیں بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ شدید گرمی، تپتی سڑکیں اور بلند و بالا عمارتیں ان کے لیے روزانہ کا امتحان ہیں۔ کئی مرتبہ انہیں ہاتھوں کے بل چل کر مختلف عمارتوں میں ڈلیوری دینا پڑتی ہے۔ بعض اوقات صارفین کے فراہم کردہ فون نمبر بند ہوتے ہیں جس کے باعث انہیں گھنٹوں انتظار بھی کرنا پڑتا ہے، تاہم وہ ان تمام مشکلات کو رزقِ حلال کی خاطر برداشت کرتے ہیں۔
علی حمزہ کا کہنا تھا کہ وہ نو بہن بھائی ہیں اور ان کے والدین الحمدللہ حیات ہیں۔ شادی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ حادثے سے قبل ان کی منگنی ہو چکی تھی، لیکن دونوں ٹانگوں سے محروم ہونے کے بعد منگنی ختم کر دی گئی۔ تاہم اب خاندان میں ہی ان کے رشتے کی بات چیت جاری ہے۔
انہوں نے اپنی سب سے بڑی خواہش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شادی کے بعد وہ اپنی اہلیہ اور والدہ کو عمرے کی سعادت دلانا چاہتے ہیں اور اسی مقصد کے لیے دن رات محنت کر رہے ہیں۔
علی حمزہ نے معاشرے کے نام اپنے پیغام میں کہا کہ صحت مند افراد کو بھیک مانگنے کے بجائے محنت اور روزگار کو ترجیح دینی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھیک ایک معاشرتی لعنت ہے، جبکہ محنت میں عظمت ہے اور محنت کرنے والا شخص اللہ تعالیٰ کا دوست ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں کہ اس نے انہیں صبر، ہمت اور استقامت عطا کی۔ ان کی کوشش ہے کہ وہ اپنی محنت کے ذریعے والدین اور خاندان کی کفالت کرتے رہیں اور دوسروں کے لیے بھی حوصلے اور خودداری کی مثال بنیں۔
علی حمزہ کی زندگی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ جسمانی معذوری انسان کے خوابوں اور ارادوں کو معذور نہیں کرسکتی۔ عزم، محنت اور خودداری کے ساتھ ناممکن کو بھی ممکن بنایا جاسکتا ہے۔