کراچی میں CTD اور حساس اداروں کی کارروائی، کالعدم تنظیموں کے 5 دہشت گرد گرفتار

image

کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) اور حساس اداروں نے مشترکہ کارروائیوں کے دوران کراچی کے دو مختلف مقامات پر کامیاب آپریشنز (IBOs) کرتے ہوئے کالعدم تنظیموں کے انتہائی مطلوب دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا ہے۔

سی ٹی ڈی کے مطابق کارروائی کے دوران کالعدم تنظیم بی ایل اے (BLA) کے تین دہشت گردوں عمران خان عرف شوکت، ظہیر احمد اور محمد ریاض کو گرفتار کیا گیا۔ تفتیش کے مطابق ان ملزمان نے اپنے کمانڈر عبدالرحمن کے کہنے پر شہر کے مختلف حساس مقامات کی ریکی کر رکھی تھی اور کراچی میں دہشت گردی کی بڑی کارروائیوں کے لیے اپنے دیگر ساتھیوں کی آمد کا انتظار کر رہے تھے۔ گرفتار ملزم ظہیر احمد نے سال 2024 میں بی ایل اے کے کیمپ سے باقاعدہ تربیت حاصل کی تھی اور وہ بلوچستان کے ساجدی بازار کشکور میں ایف سی پر ہونے والے آئی ای ڈی (IED) بلاسٹ اور بھتہ خوری کی وارداتوں میں بھی ملوث رہا ہے۔

دوسری کارروائی میں فتنہ الخوارج (FAK) سے تعلق رکھنے والے دو دہشت گردوں حجت اللہ اور حبیب اللہ کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان ملزمان نے سال 2024 میں افغانستان کے اندر قائم دہشت گردی کے کیمپ سے ٹریننگ حاصل کی تھی۔ ملزمان اپنے کمانڈر ہدایت اللہ کی ہدایت پر حال ہی میں کراچی پہنچے تھے، جہاں انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں (LEAs) کے دفاتر کی ریکی مکمل کر کے اپنے کمانڈر کو رپورٹس بھیجی تھیں اور افغانستان سے آنے والی نئی تشکیل کا انتظار کر رہے تھے تاکہ اپنے اہداف پر حملے کر سکیں۔

ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق گرفتار دہشت گردوں کا تذکرہ مختلف تھریٹ الرٹ رپورٹس میں بھی موجود تھا۔ ملزمان کے قبضے سے 5 عدد 30 بور پستول (لوڈڈ میگزین) سمیت 21 زندہ گولیاں اور 2 موبائل فون برآمد کر لیے گئے ہیں۔ گرفتار ملزمان کے خلاف تھانہ سی ٹی ڈی کراچی میں الگ الگ مقدمات درج کر کے مزید تفتیش شروع کر دی گئی ہے جبکہ ان کی نشان دہی پر مزید چھاپہ مار کارروائیوں کے لیے مشترکہ ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔

سی ٹی ڈی کراچی نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے آس پاس کسی بھی مشکوک سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر سی ٹی ڈی ہیلپ لائن (1102) ایکسٹینشن 3 پر رابطہ کریں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US