خیبر پختونخوا حکومت نے صوبائی اسمبلی میں تین ماہ کے عبوری بجٹ پیش کرنے کے امکان پر غور تیز کردیا ہے، جبکہ محکمہ خزانہ نے ایک سالہ اور تین ماہ کے عبوری بجٹ سمیت دو الگ الگ مسودے تیار کرلیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے تاحال کسی حتمی فیصلے پر نہیں پہنچ سکی اور اس معاملے پر شدید تذبذب کا شکار ہے۔ وفاقی بجٹ کے بعد صوبائی بجٹ 16 یا 17 جون کو پیش کیے جانے کا امکان تھا، تاہم اندرونی اختلافات اور فیصلہ سازی میں تاخیر کے باعث اجلاس بھی مؤخر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے ایک سالہ یا تین ماہ کے عبوری بجٹ سے متعلق سفارشات مرتب کرنے کے لیے پارلیمانی کمیٹی قائم کردی ہے۔ کمیٹی قانونی ماہرین کے ساتھ مل کر آئین کے آرٹیکل 125 کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ آئینی اور قانونی تقاضوں کے مطابق فیصلہ کیا جاسکے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات کو بعد ازاں پولیٹیکل کمیٹی کے سامنے بھی توثیق کے لیے پیش کیا جائے گا۔ حکومت نے دونوں ممکنہ آپشنز کے لیے بجٹ دستاویزات مکمل طور پر تیار کر رکھی ہیں اور حتمی فیصلہ سیاسی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔