سابق کپتان محمد یوسف نے ایک مقامی اکیڈمی میں مختلف ایج گروپ کے بچوں کو بیٹنگ کی ٹپس اور تربیت دینا شروع کر دی ہے۔ وہ مختلف سیشنز میں بچوں کی بنیادی تکنیک کو بہتر بنانے پر کام کر رہے ہیں۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے محمد یوسف کا کہنا تھا کہ بچوں کے ساتھ کام کر کے بہت اچھا لگتا ہے، میں ان کی سنتا ہوں اور وہ میری سنتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بچوں کے ساتھ جتنا کام کیا جائے اتنا اچھا ہے، کیونکہ اگر کھلاڑیوں کی بنیاد اچھی ہو گی تو وہ کرکٹ کے تینوں فارمیٹس میں کامیاب ہوں گے۔ آج کل جتنے بھی بڑے بیٹرز تینوں فارمیٹس میں کامیابی حاصل کر رہے ہیں، اس کی وجہ ان کی مضبوط بنیاد ہی ہے۔
محمد یوسف نے موجودہ دور کی کرکٹ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے 8 سے 10 سال سے کرکٹ مکمل طور پر بیٹرز کی ہو چکی ہے جبکہ بولرز تو جیسے صرف مار کھانے کے لیے آتے ہیں۔ مختصر دورانیے کی کرکٹ میں بولرز کے لیے اب کچھ نہیں رہ گیا، لیکن دوسری طرف صورتحال یہ ہے کہ جہاں تھوڑی سی پچ مشکل ہوتی ہے تو بیٹرز بھی پریشان ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج کل ہر طرف چھکے لگ رہے ہیں، ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ڈھائی سو اور پونے تین سو رنز جبکہ ون ڈے کرکٹ میں ساڑھے تین سو رنز آرام سے بن رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ آج کل کے بچے زیادہ تر بیٹنگ کی طرف ہی راغب ہو رہے ہیں۔