کورین دی دیو جون 1995 میں اُس وقت لاپتہ ہو ئی تھیں جب ان کی عمر 37 سال تھی۔ اس کے چند روز بعد پیرس کے مغرب میں دریائے سین میں ایک زنجیر سے بندھا ہوا لوہے کا صندوق تیرتا ہوا نظر آیا۔
فائل فوٹو: یہ ایک پرانا کیس ہے جو 31 سال قبل ملنے والی لاش کے ٹکڑوں کے گرد گھومتا ہےفرانس کی سب سے معمر خاتون قیدی کا ورسائی کی عدالت میں قتل کے ایک مقدمے میں ٹرائل شروع ہو گیا ہے، یہ ایک پرانا کیس ہے جو 31 سال قبل ملنے والی ایک لاش کے ٹکڑوں کے گرد گھومتا ہے۔
79 سالہ میری تھیرز گارسیا پر اپنی سابق بھابھی کورین دی دیو کے اغوا اور قتل کا الزام ہے۔
کورین دی دیو جون 1995 میں اُس وقت لاپتہ ہو ئی تھیں جب ان کی عمر 37 سال تھی۔ اس کے چند روز بعد پیرس کے مغرب میں دریائے سین میں ایک زنجیر سے بندھا ہوا لوہے کا صندوق تیرتا نظر آیا۔
اس کے اندر ایک خاتون کی لاش تھی، جسے ٹکڑوں میں کاٹا گیا تھا تاہم اس صندوق میں سر اور ہاتھ موجود نہیں تھے۔ سنہ 1997 میں اس لاش کی شناخت کورین دی دیو کے طور پر ہوئی، جبکہ ان کے جسم کے باقی حصے کبھی نہیں مل سکے۔
گارسیا ابتدا ہی سے مشتبہ افراد میں شامل تھیں تاہم شواہد کی کمی کے باعث دو مرتبہ یہ کیس بند کر دیا گیا تھا۔
حال ہی میںڈی این اے ٹیکنالوجی کے ذریعے پولیس کو ایک اہم سراغ ملا۔ صندوق کے اندر سے ملنے والے دو بال یا تو خود ملزمہ کے تھے یا پھر ان کے ننیھال سے تعلق رکھنے والی کسی اور خاتون کے۔
2023 میں گارسیا کو مقدمے کی سماعت تک جیل بھیج دیا گیا۔ عمر اور خراب صحت کی بنیاد پر ان مشروط رہائی کی درخواستیں بار بار مسترد کی گئیں۔
گارسیا اپنی بے گناہی پر قائم ہیں اور انھوں نے حال ہی میں اخبار لے پاریزیاں کو بتایا کہ ان کے خلاف کیس ’ریت سے تعمیر کیا گیا۔‘
فرانس کی عدالتانھوں نے کہا کہ ’کسی کو معلوم نہیں کہ کیا ہوا اور قانون کے مطابق اگر آپ کو معلوم نہ ہو، تو آپ سزا نہیں دے سکتے۔‘
ان کی وکیل نجوا الحائتی نے دلیل دی کہ ’جس طریقے سے یہ قتل کیا گیا، یہ جرائم پیشہ دنیا کے طریقے تھے، منظم جرائم کے۔ نہ سر، نہ ہاتھ۔ یہ کسی بھی طرح میری تھیرز جیسی خاتون کا طریقہ قتل نہیں ہو سکتا، جن کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں۔‘
تاہم پیچیدہ پہلو یہ ہے کہ گارسیا اور دی دیو دونوں کے جرائم پیشہ دنیا سے گہرے روابط تھے۔
1980 کی دہائی میں دی دیو ہسپانوی شہری انتونیو مارکیزگومیز کی محبوبہ تھیں، جو منشیات کی خرید و فروخت سے منسلک ہونے کے سبب پولیس کی نظر میں تھے۔
دونوں کا ایک بیٹا رومین بھی ہے، جن کی عمر اب 41 برس ہے اور اکثر ان کی دیکھ بھال گارسیا کیا کرتی تھیں۔ دوسری جانب گارسیا کا تعلق انتونیو کے بھائی فرانسسکو کے ساتھ بھی تھا۔
رپورٹس کے مطابق ان کے وسیع حلقہ احباب میں جرائم پیشہ دنیا کے دو معروف بھائی ژاں ژاک اور فلیپ موریس بھی شامل تھے۔ فلیپ اس وقت مشہور ہوئے جب وہ فرانس میں سزائے موت پانے والے آخری شخص بنے تاہم بعد میں اُس وقت کے صدر فرانسوا میتراں نے انھیں معاف کر دیا تھا۔
تین ہفتوں پر مشتمل اس مقدمے میں استغاثہ یہ مؤقف اختیار کرے گی کہ گارسیا نے دی دیو کو پیرس کے جنوب مغرب میں واقع رامبوئیے کے قریب اپنے گھر بلایا، جہاں انھیں ڈرائنگ روم میں چھرا گھونپ کر قتل کیا گیا اور پھر ان کے اعضا کاٹ دیے گئے۔
استغاثہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے گی کہ اس قتل کا محرک گارسیا اور مارکیز گومیز کے درمیان ایک ایسا معاہدہ تھا، جس کا مقصد اس وقت 10 سالہ رومین کو ان کی ماں سے الگ کرنا تھا۔ مزید یہ بھی الزام ہے کہ ملزمہ کو مقتولہ سے ذاتی رنجش تھی کیونکہ ان کا فرانسسکو کے ساتھ تعلق رہا تھا۔
مارکیزگومیز پر بھی اس مقدمے میں قتل کا الزام ہے تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ وہ کولمبیا میں مقیم ہیں اور اُن کا سراغ نہیں لگایا جا سکا۔
رومین نے گذشتہ ہفتے لے پاریزیاں اخبار کو بتایا تھا کہ اپنی والدہ کے لاپتہ ہونے کے چند دن بعد گارسیا نے انھیں ان کے والد کے حوالے کر دیا، جو اس وقت تک میڈرڈ میں اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ رہ رہے تھے۔
انھوں نے کہا کہ ’میں 10 سال کا تھا اور میں اچانک سپین لایا گیا، ایک ایسے باپ کے پاس جنھیں میں بمشکل جانتا تھا اور ایک ایسے خاندان کے درمیان جس کی زبان مجھے سمجھ نہیں آتی تھی۔ وہ لمحہ محض ایک یاد نہیں بلکہ ایک زخم ہے۔‘
فائل فوٹو: گارسیا ابتدا ہی سے مشتبہ افراد میں شامل تھیں تاہم شواہد کی کمی کے باعث دو مرتبہ یہ کیس بند کر دیا گیامقدمے میں پیش کیے جانے والے دیگر شواہد میں 79 سالہ گارسیا کی بیٹی نینسی کی گواہی بھی شامل ہو سکتی ہے، جنھوں نے سنہ 2004 میں پولیس کو بتایا تھا کہ دی دیو کے لاپتا ہونے سے کچھ عرصہ پہلے انھوں نے اپنی ماں کوٹیلیفون پر قتل کے بارے میں بات کرتے ہوئے سنا تھا۔
پولیس کو سنہ 2022 میں ایک نوجوان جوڑے کے لاپتا ہونے کے بعد ایک عجیب اتفاق نے ایک مرتبہ پھر دی دیو کے قتل کی طرف متوجہ کیا، جن میں ملزمہ کی نواسے کی بیٹی بھی شامل تھی۔
جب پولیس نے گارسیا کا فون ٹیپ کیا تو وہ یہ کہتے ہوئی سنائی دیں کہ اگر وہ مجرموں کو پکڑ لیں تو انھیں ’ٹکڑے ٹکڑے کر کے سوٹ کیس میں ڈال دیں گی۔‘
فرانسیسی میڈیا میں انھیں ایک مضبوط ارادے والی خاتون کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، جو دوستوں کے لیے فیاض مگر دشمنوں کے لیے سخت ہیں تاہم گارسیا کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف کیس محض بالواسطہ شواہد پر مبنی ہے۔
انھوں نے لے پاریزیاں کو بتایا کہ ’جو بال ملے تھے وہ بھورے رنگ کے تھے جبکہ اُس وقت سب جانتے ہیں کہ میرے بال سیاہ تھے۔‘
’اور اگر میں ہر اُس عورت کو اپنی راہ سے ہٹانا چاہتی جن کے ساتھ فرانسسکو سوئے تھے، تو دنیا میں بہت ہی کم عورتیں باقی رہ جاتیں۔ میرے خلاف کوئی ثبوت نہیں، کوئی سراغ نہیں اور سب کچھ ریت پر کھڑا ہے۔‘