امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مجوزہ نئے معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ معاہدہ ایران کی جوہری صلاحیت کے خلاف ایک مضبوط دیوار ثابت ہوگا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم کردار ادا کرے گا۔
فرانس میں متحدہ عرب امارات کے صدر سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کو نظرثانی کے لیے امریکی کانگریس بھیجا جا سکتا ہے اور ان کے خیال میں یہ ایک اچھا اقدام ہوگا۔
انہوں نے اپنے معاہدے کا موازنہ سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں ہونے والے ایران معاہدے سے کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اوباما کا معاہدہ مشرق وسطیٰ کے لیے خطرناک تھا اور اس کے نتیجے میں ایران کے لیے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی تھی۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران جلد از جلد اس معاملے کو حل کرکے معمول کے تجارتی اور معاشی سرگرمیوں کی جانب واپس آنا چاہتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایران معاہدے کی تفصیلات آئندہ ایک یا دو روز میں میڈیا کے سامنے پیش کریں گے۔
امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز جمعہ سے مکمل طور پر کھول دی جائے گی اور وہاں سے گزرنے والے جہازوں پر کسی قسم کا ٹول ٹیکس عائد نہیں ہوگا۔
ٹرمپ کے ان بیانات نے ایران معاہدے سے متعلق عالمی سطح پر جاری بحث کو مزید تیز کر دیا ہے جبکہ معاہدے کی حتمی تفصیلات سامنے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔