کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر حاجی تواب خان اور جنرل سیکریٹری محمد الیاس نے کہا ہے کہ ای چالان سسٹم کے نفاذ کے بعد سے ٹرانسپورٹرز اب تک کروڑوں روپے کے جرمانے ادا کر چکے ہیں، تاہم جرمانوں کی شرح میں مسلسل اضافہ اب ان کے لیے ناقابل برداشت ہو چکا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ای چالان جرمانوں کی زیادہ سے زیادہ حد 2 ہزار روپے مقرر کی جائے، کیونکہ بروقت چالان موصول نہ ہونے کے باوجود جرمانوں میں اضافہ کرنا ٹرانسپورٹرز کے ساتھ ناانصافی ہے۔ اس کے علاوہ چالان کی ادائیگی کے لیے مقرر کردہ محدود مدت کو بھی فوری طور پر ختم کیا جائے۔
رہنماؤں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھاری جرمانے اور اضافی اخراجات ٹرانسپورٹرز کی معاشی مشکلات میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایکسائز ریکارڈ روم سے گاڑیوں کی فائلوں کے غائب ہونے کے واقعات انتہائی تشویشناک ہیں اور گاڑیوں کی متبادل فائلوں کی فراہمی کے لیے بھاری رشوت طلب کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر گاڑی کا مالک ٹیکس ادا کرنا چاہتا ہے لیکن نظام میں موجود رکاوٹیں شدید مسائل پیدا کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے حکومت سے تھرڈ پارٹی انشورنس پالیسی کے لازمی نفاذ کے فیصلے پر نظرثانی کا بھی مطالبہ کیا۔
حاجی تواب خان نے بتایا کہ سندھ حکومت کی جانب سے ٹرانسپورٹرز کو وعدہ کردہ سبسڈی تاحال ادا نہیں کی گئی، جبکہ دفعہ 144 کے نفاذ سے متعلق حکومتی احکامات پر بھی تاحال مکمل عملدرآمد یقینی نہیں بنایا جا سکا۔ انہوں نے گلہ کیا کہ اس سلسلے میں وزیراعلیٰ سندھ اور وزیر ٹرانسپورٹ سے متعدد بار ملاقات کا وقت مانگا گیا مگر موقع نہیں دیا جا رہا۔ کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد نے انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر ٹرانسپورٹرز کے یہ جائز مطالبات فوری طور پر منظور نہ کیے گئے تو وہ غیر معینہ مدت کی ہڑتال کرنے پر مجبور ہوں گے۔