اسرائیلی فضائیہ کے سربراہ جنرل اوہمر ٹشلر نے انکشاف کیا ہے کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان عارضی جنگ بندی کے بعد کشیدگی بڑھنے پر رواں ماہ 8 جون کو اسرائیلی فضائیہ ایران پر ایک بڑے حملے کے لیے مکمل طور پر تیار تھی۔
اسرائیلی اخبار کی رپورٹ کے مطابق فضائیہ کے چیف نے بتایا کہ اس آپریشن کے تحت ایران میں سیکڑوں اہداف کو نشانہ بنایا جانا تھا، تاہم اس حملے کو آغاز سے محض ایک گھنٹہ قبل روک دیا گیا۔
جنرل اوہمر ٹشلر کے مطابق اسکواڈرنز کو حملے کی حتمی بریفنگ دی جا رہی تھی کہ اسی دوران کارروائی روکنے کے احکامات موصول ہوئے۔
انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت پیغام دیتے ہوئے حکم دیا تھا کہ اگر اسرائیل نے یہ حملہ کیا تو وہ اس جنگ میں بالکل اکیلا ہوگا، جس کے بعد اس فوجی آپریشن کو منسوخ کرنا پڑا۔