انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے کپتان بین اسٹوکس کی نیوزی لینڈ کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میچ میں واپسی کا قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق، اسکواڈ میں واپسی پر بین اسٹوکس ہی ممکنہ طور پر ٹیم کی قیادت کے فرائض بھی سنبھالیں گے، تاہم ایک برطانوی اخبار کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ان کی واپسی تو ممکن ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ وہ بطور کپتان ہی واپس آئیں۔
یاد رہے کہ ٹیم پروٹوکولز کی خلاف ورزی کرنے پر کپتان بین اسٹوکس اور فاسٹ بولر گس ایٹکنسن کو نیوزی لینڈ کے خلاف دوسرے ٹیسٹ میچ سے ڈراپ کردیا گیا تھا۔
برطانوی میڈیا کے مطابق، کرکٹ ریگولیٹر نے اس سلسلے میں بین اسٹوکس اور گس ایٹکنسن کا انٹرویو مکمل کر لیا ہے، اور اب تک کی جانے والی تحقیقات کی رپورٹ دوسرے ٹیسٹ میچ کے اختتام پر ریلیز کی جائے گی۔ اگرچہ انگلینڈ کرکٹ بورڈ (ای سی بی) نے ابھی اس معاملے پر اپنا حتمی فیصلہ سنانا ہے، لیکن گزشتہ ایک ہفتے کے دوران بورڈ کے رویے میں نرمی دیکھنے میں آئی ہے۔ انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان سیریز کا آخری اور تیسرا ٹیسٹ میچ جمعرات سے شروع ہوگا۔
دوسری جانب، انگلینڈ کے سابق مایہ ناز آل راؤنڈر سر این بوتھم نے بین اسٹوکس کے خلاف فوری اور سخت ایکشن نہ لیے جانے پر شدید تنقید کی ہے۔
این بوتھم کا کہنا ہے کہ لارڈز ٹیسٹ کے بعد ٹیم کرفیو کو توڑنے کی کوئی بھی وضاحت پیش نہیں کی جاسکتی، بین اسٹوکس نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا اور کیا یہ سب اب ٹھیک سمجھا جا رہا ہے؟ انہوں نے یاد دلایا کہ 2017 میں جب برسٹل میں بین اسٹوکس کے ساتھ مسائل پیدا ہوئے تھے تو ہم سب نے ان کا ساتھ دیا تھا، وہ خود اس وقت ڈرہم کلب کے چیئرمین تھے اور انہوں نے سمیت پوری ٹیم نے اسٹوکس کی بھرپور سپورٹ کی تھی۔