پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے نئے سینٹرل کنٹریکٹس کے لیے کھلاڑیوں پر ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے اور فٹنس کے حوالے سے سخت شرائط عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، نئے کنٹریکٹ سسٹم میں سینئر ٹریکس میں دو دو ٹئیرز رکھے گئے ہیں، اور پی سی بی خود یہ طے کرے گا کہ کون سا کھلاڑی کس کیٹیگری یا ٹریک میں شامل ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے سینٹرل کنٹریکٹ کے لیے کم سے کم انٹرنیشنل میچز کی شرائط کے ساتھ ڈومیسٹک کرکٹ کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ٹریک 'اے' کے کھلاڑیوں کے لیے کم از کم 6 فرسٹ کلاس میچز کھیلنا لازمی ہوگا، جبکہ ٹریک 'اے بی' کے کھلاڑیوں کو گزشتہ 12 ماہ میں کم از کم 4 فرسٹ کلاس اور 4 لسٹ اے میچز کھیلنے ہوں گے۔ یہ کڑی شرائط صرف چار سینئر ٹریکس (اے، اے بی، بی سی اور سی) پر لاگو ہوں گی، جبکہ ٹریک 'ڈی' کو ان شرائط سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے جس میں ایمرجنگ یا اکیڈمی کے نوجوان کھلاڑی شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ، تمام کنٹریکٹ یافتہ کھلاڑیوں کے لیے ہر چار ماہ بعد فٹنس اور میڈیکل ٹیسٹ پاس کرنا لازمی ہوگا۔
دوسری جانب، غیر ملکی ٹی ٹوئنٹی لیگز کھیلنے کے لیے این او سی (نیشنل آبجیکشن سرٹیفکیٹ) کی پالیسی میں بڑی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق، صرف ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کے اسپیشلسٹ کھلاڑیوں کے لیے غیر ملکی لیگز کھیلنے پر این او سی کی حد مکمل طور پر ختم کردی گئی ہے اور وہ اب سال میں متعدد فرنچائز لیگز میں شرکت کرسکیں گے۔ تاہم، سینٹرل کنٹریکٹ کے دیگر ٹریکس کے لیے حدود قائم کی گئی ہیں، جس کے تحت 'اے بی' ٹریک کے کھلاڑی سال میں صرف ایک جبکہ 'بی سی' ٹریک کے کھلاڑی دو غیر ملکی ٹی ٹوئنٹی لیگز کھیل سکیں گے۔