پاکستان کی 2009ء کے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں تاریخی فتح کو 17 سال مکمل ہوگئے ہیں۔ 21 جون 2009ء کو لارڈز کے تاریخی میدان پر یونس خان کی قیادت میں پاکستان نے سری لنکا کو 8 وکٹوں سے شکست دے کر پہلی بار یہ ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔
اس تاریخی کامیابی میں فاسٹ بولر عمر گل نے مرکزی کردار ادا کیا جو 7 میچوں میں 13 وکٹیں حاصل کر کے ٹورنامنٹ کے سب سے کامیاب بولر رہے، جبکہ آل راؤنڈر شاہد آفریدی نے 11 وکٹیں لینے کے ساتھ ساتھ دو نصف سنچریوں کی مدد سے 176 رنز اسکور کیے۔
اس وقت کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے عمر گل کا کہنا ہے کہ ٹیم نے 2007ء کے فائنل کی غلطیاں نہ دہرانے کا فیصلہ کیا تھا اور مسلسل فتوحات سے ٹیم کا اعتماد بڑھا۔ انہوں نے نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں اپنے 5 وکٹوں کے اسپیل کے دوران شاہد آفریدی کے شاندار کیچ کو ٹورنامنٹ کا اہم موڑ قرار دیا اور بتایا کہ فائنل کی فتح کے بعد شائقین کے جوش و جذبے کی وجہ سے ٹیم کو گراؤنڈ سے نکلنے میں دو گھنٹے لگ گئے تھے۔
سابق کپتان مصباح الحق نے بھی اس فتح کو انتہائی خاص قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2007ء کی شکست کا دکھ ابھی باقی تھا لیکن نیوزی لینڈ کے خلاف میچ کے بعد ٹیم میں جیت کا پختہ یقین پیدا ہوا، جس میں شاہد آفریدی کی فارم اور باؤلرز کی شاندار کارکردگی کا بڑا ہاتھ تھا۔
موجودہ کرکٹرز نے بھی اس یادگار دن کے حوالے سے اپنی بچپن کی یادیں شیئر کیں۔ اسپنر ساجد خان نے بتایا کہ 2009ء میں وہ پشاور میں انڈر 13 کرکٹ کھیل رہے تھے اور گھر میں ٹی وی نہ ہونے کی وجہ سے انہیں اگلی صبح بھائی کے موبائل سے پاکستان کی فتح کا علم ہوا۔
اوپنر امام الحق نے یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ امتحانات کے باوجود وہ پاکستان کے تمام میچز فالو کرتے تھے اور انہوں نے فائنل میچ اپنے ریاضی کے استاد کے ساتھ دیکھا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ شاہد آفریدی کی میچ وننگ اننگز، کامران اکمل کی جارحانہ بیٹنگ، عمر گل کی یارکرز، یونس خان کی کپتانی، محمد عامر کے اسپیلز اور سعید اجمل کی باؤلنگ آج بھی ان کے ذہن میں تازہ ہیں۔