آئی سی سی ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان ویمن کرکٹ ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کے بعد ٹیم کے اندرونی معاملات اور ناکامیوں کی وجوہات سامنے آنا شروع ہوگئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق کروڑوں روپے معاوضے اور بہتر مراعات حاصل کرنے کے باوجود بعض کھلاڑیوں کی توجہ کارکردگی کے بجائے گروپ بندی اور اندرونی سیاست پر مرکوز رہی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چند سینئر کھلاڑی کوچز کو جوابدہ ہونے سے گریزاں رہیں جبکہ ایک گروہ کوچنگ اسٹاف کے گیم پلان پر عملدرآمد سے بھی انکاری تھا۔
ذرائع کے مطابق جب کوچز نے بہتر کارکردگی کا مطالبہ کیا تو بعض کھلاڑیوں نے کوچنگ اسٹاف کے خلاف محاذ آرائی شروع کردی۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ چند سینئر کھلاڑی نئی آنے والی کرکٹرز کو اپنے اثر و رسوخ میں لانے کی کوشش کرتی رہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ٹورنامنٹ کے دوران بعض کھلاڑیوں کی جانب سے یہ تاثر بھی دیا گیا کہ ہم نے تو رہنا ہے، کوچز نے چلے جانا ہے، جس سے ڈریسنگ روم کے ماحول پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے ویمن کرکٹرز کے سنٹرل کنٹریکٹس کی تمام کیٹیگریز میں 50 فیصد اضافہ کیا گیا، جبکہ ایمرجنگ پلیئرز کی حوصلہ افزائی کے لیے نئی کیٹیگری بھی متعارف کرائی گئی تاہم ان اقدامات کے باوجود ٹیم کے نتائج میں خاطر خواہ بہتری نہ آسکی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ کا اس حوالے سے مؤقف ہے کہ ایونٹ ابھی جاری ہے، اس لیے اس مرحلے پر تبصرہ کرنا مناسب نہیں۔ بورڈ حکام کا کہنا ہے کہ ہمیشہ کی طرح ٹورنامنٹ کے بعد ٹور رپورٹس کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا اور اس کی روشنی میں ضروری فیصلے اور اقدامات کیے جائیں گے۔