پاکستان مینز وائٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے پی سی بی ڈیجیٹل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے بتایا ہے کہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں 15 جون سے وائٹ بال کیمپ جاری ہے، جس کا مقصد کھلاڑیوں کی فٹنس، کنڈیشننگ اور اسکلز میں بہتری لانا ہے۔
اس کیمپ میں وائٹ بال اسپیشلسٹ اور مستقبل کے لیے منتخب کیے گئے تقریباً 27 سے 28 کھلاڑی حصہ لے رہے ہیں۔ کیمپ کے ابتدائی دو ہفتوں میں کھلاڑیوں کی میڈیکل ٹیسٹنگ اور فٹنس اسیسمنٹس پر کام کیا گیا ہے جس سے ان کی موجودہ حالت کا اندازہ لگانے میں مدد ملی ہے۔ ڈاکٹر جاوید مغل نے میڈیکل اسکریننگ اور کنڈیشننگ کے اعلیٰ معیار مقرر کیے ہیں اور اگرچہ کھلاڑیوں کے لیے ٹریننگ سخت ہے، لیکن انٹرنیشنل کرکٹ کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے ان کا فٹ اور مضبوط ہونا ضروری ہے۔
آئندہ ہفتے سے فٹنس کے ساتھ ساتھ کھلاڑیوں کی اسکلز پر بھی کام شروع ہوگا اور اس وقت تقریباً تین ماہ کا وقت موجود ہے جس میں کنڈیشننگ کے حوالے سے بڑی بہتری لائی جاسکتی ہے۔ کیمپ میں فٹنس اور سٹرینتھ دونوں شعبوں پر کام ہو رہا ہے اور ہر کھلاڑی کے لیے انفرادی کارکردگی پلان تیار کیا گیا ہے۔ ہر کیمپ کا آغاز کھلاڑی، ہیڈ کوچ، این سی اے اسٹاف، کنڈیشننگ اور میڈیکل ٹیموں کی میٹنگز سے ہوتا ہے اور آئندہ تین ہفتوں میں ہر کھلاڑی کے لیے واضح فوکس پوائنٹس ہوں گے جن کے تحت ان کے تکنیکی، ٹیکٹیکل، میڈیکل اور کنڈیشننگ شعبوں پر کام کیا جائے گا۔ نیشنل کرکٹ اکیڈمی میں مکمل منصوبہ بندی اور مقصد کے ساتھ کام ہو رہا ہے اور وہاں موجود ہر فرد کھلاڑیوں کی بہتری میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
مائیک ہیسن نے انڈر 19 ٹیلنٹ کے ساتھ کام کرنے کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے بتایا کہ ان کی سمیر منہاس اور فرحان یوسف سے ملاقات ہوئی ہے، جبکہ علی رضا اور عبدالسبحان کے ساتھ بھی وہ گزشتہ ایک ماہ میں کام کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان کھلاڑیوں کو اس معیار سے روشناس کرانا، تجربہ دینا اور چیلنجز کا سامنا کرانا ضروری ہے تاکہ وہ پاکستان کے لیے تیار ہوسکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایشیئن گیمز کے اسکواڈ پر اچھا کام کرنے کے لیے مناسب وقت موجود ہے اور یہ اسکواڈ تجربہ کار اور نوجوان ٹیلنٹ کا اچھا کمبینیشن ہے، جبکہ ون ڈے ورلڈ کپ کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی کھلاڑیوں کی یہ تیاری انتہائی اہم ہے۔