انسٹاگرام ایسے اشتہار چلا رہا ہے جو انڈیا میں بچوں کے جنسی استحصال کو فروغ دیتے ہیں: بی بی سی کی تحقیقات میں انکشاف

بی بی سی آئی کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ انڈیا میں انسٹاگرام ایسے پیڈ اشتہار چلا رہا ہے جن میں بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد کو فروغ دیا جاتا ہے۔
A silouhette of a boy holding his knees in front of a red background and a mobile phone featuring the Instagram logo.
BBC

انتباہ: اس تحریر میں بدسلوکی سے متعلق تفصیلات شامل ہیں

بی بی سی آئی کی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ انڈیا میں انسٹاگرام ایسے پیڈ اشتہار چلا رہا ہے جن میں بچوں کے جنسی استحصال سے متعلق مواد کو فروغ دیا جاتا ہے۔

بی بی سی ورلڈ سروس کی جانب سے دیکھے گئے ان اشتہارات میں ’ریپ ویڈیو‘ اور ’چائلڈ ویڈیو‘ جیسی اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں۔ ان اشتہاروں کے ذریعے صارفین کو میسجنگ ایپ ’ٹیلی گرام‘ پر اِن چینلز تک رسائی ملتی ہے جہاں وہ یہ مواد صرف 99 انڈین روپے (تقریباً ایک ڈالر) میں خرید سکتے ہیں۔

انسٹاگرام پر اشتہارات شائع ہونے سے پہلے انھیں اشتہاروں کی نگرانی کے لیے قائم ماڈریشن ٹیکنالوجی کی منظوری درکار ہوتی ہے۔

جب بی بی سی نے ان میں سے ایک اشتہار کی اطلاع انسٹاگرام کو دی تو اس نے 24 گھنٹوں بعد جواب دیا کہ یہ پوسٹ اس کی ’کمیونٹی گائیڈ لائنز‘ کی خلاف ورزی نہیں کرتی۔

بعد ازاں جب بی بی سی نے انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا سے موقف مانگا تو اس نے کہا کہ وہ پہلے ہی متعدد اشتہارات غیر فعال کر چکی اور انھیں پوسٹ کرنے والے اکاؤنٹس معطل کر دیے گئے ہیں۔

کمپنی نے کہا کہ بی بی سی کی تحقیقات کے بعد اس نے مزید اشتہارات ہٹائے، مزید اکاؤنٹس غیر فعال کیے اور ایسے دیگر مواد کے یو آر ایل بلاک کیے جو اس کی پالیسیوں کی خلاف ورزی کرتے تھے۔

ٹیلی گرام نے کہا کہ اس نے 2026 میں بچوں کے جنسی استحصال کے مواد سے متعلق دو لاکھ 74 ہزار سے زیادہ گروپس اور چینلز ہٹا دیے ہیں۔

جب ہم نے دیکھا کہ پلیٹ فارم ایسے صارفین کو بھی جنسی نوعیت کا مواد دکھا رہا تھا جنھوں نے اس قسم کے مواد کی تلاش نہیں کی تھی تو بی بی سی نے انسٹاگرام پر ایک فرضی اکاؤنٹ بنایا۔

اس مواد میں ایسی خواتین شامل تھیں جو انڈیا میں کھانے پینے، موسم اور روزمرہ زندگی کے بارے میں پوسٹ کرتی تھیں مگر ان کے لباس چھوٹے تھے اور وہ اپنی پوسٹس میں جنسی نوعیت کے اشارے کرتی تھیں۔

انڈیا میں قائم کیے گئے اس نئے فرضی اکاؤنٹ نے ان خواتین اور اسی نوعیت کے دیگر افراد کو فالو کرنا شروع کیا جن کی تعداد 10 تھی۔ اس کا مقصد پلیٹ فارم پر موجود جنسی نوعیت کے مواد کی تحقیق کرنا تھا۔

ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں انسٹاگرام نے اس اکاؤنٹ کی فیڈ میں ایسے اشتہارات دکھانے شروع کر دیے جن میں خواتین ویڈیو کالز کی پیشکش کر رہی تھیں اور واضح طور پر برہنہ جوڑوں کو جنسی عمل کرتے ہوئے دکھایا جا رہا تھا۔

چند روز بعد اس نے ایسے اشتہارات دکھانا شروع کر دیے جن میں بچوں کو بالغ افراد کے ساتھ جنسی نوعیت کے حالات میں دکھایا گیا تھا اور ان میں ٹیلی گرام چینلز کے لنکس موجود تھے۔

انڈیا کی سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج مدن لوکر کو تشویش ہے کہ انسٹاگرام ’ایک مجرمانہ سرگرمی میں شریک ہو کر اس سے پیسہ کما رہا ہے‘
BBC
انڈیا کی سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج مدن لوکر کو تشویش ہے کہ انسٹاگرام ’ایک مجرمانہ سرگرمی میں شریک ہو کر اس سے پیسہ کما رہا ہے‘

مجموعی طور پر بچوں کے جنسی استحصال کو فروغ دینے والے تقریباً 30 اشتہارات سامنے آئے۔ ان میں سے بعض کو متعدد اکاؤنٹس نے شیئر کیا تھا۔

اس فرضی اکاؤنٹ کو ایڈلٹ پورنوگرافی پر مبنی تقریباً 20 اشتہارات بھی دکھائے گئے۔

انڈیا میں بچوں کے جنسی استحصال کے مواد اور ایڈلٹ پورنوگرافی دونوں کی تقسیم جرم ہے جبکہ میٹا کی پالیسی کے مطابق اشتہارات میں بالغوں کا برہنہ ہونا، جنسی اعضا یا ایسا مواد جس میں بچوں کا جنسی استحصال کیا جائے یا انھیں خطرے میں ڈالا جائے، اس کی اجازت نہیں۔

بی بی سی نے تمام اشتہارات اور ٹیلی گرام چینلز کی اطلاع انڈین حکام کو دے دی ہے۔

ایک اشتہار میں ایک لڑکے اور لڑکی کو، دونوں کی عمریں تقریباً 12 سال معلوم ہوتی تھی، جنسی عمل میں ملوث دکھایا گیا تھا۔

ایک اور اشتہار میں ایک مرد کو ایک لڑکی کے گرد بازو رکھے دکھایا گیا تھا جبکہ متن میں کہا گیا تھا کہ مرد کی عمر 52 سال اور لڑکی کی عمر 12 سال ہے۔ اس میں لکھا تھا کہ ’مزید دیکھنے کے لیے کلک کریں‘۔ اس کے ساتھ ایک ٹیلی گرام چینل کا لنک دیا گیا تھا۔

بی بی سی نے انسٹاگرام کو ایک ایسے اشتہار کی اطلاع دی جس میں ایک بہت کم عمر لڑکی کو روتے ہوئے دکھایا گیا تھا اور متن سے ظاہر ہوتا تھا کہ اس کا جنسی استحصال ہوا۔

تاہم 24 گھنٹے بعد انسٹاگرام نے جواب دیا کہ اس نے اشتہار نہیں ہٹایا کیونکہ ’ہماری جائزہ ٹیم نے پایا کہ اشتہار ہمارے کمیونٹی معیارات کے خلاف نہیں۔‘

میٹا نے بعد میں بی بی سی کو بتایا کہ ’کوئی بھی نظام مکمل نہیں ہوتا اور ہمارا ریویو پراسیس پالیسی کی تمام خلاف ورزیاں نہیں پکڑ سکتا۔‘

میٹا نے کہا کہ ’اشتہارات کے شائع ہونے کے بعد بھی ہم ان پر پیشگی نگرانی کی ٹیکنالوجی استعمال کرتے رہتے ہیں اور کوئی بھی شخص ایسے اشتہار کی اطلاع دے سکتا ہے جو اس کے خیال میں ہمارے قواعد کی خلاف ورزی کرتا ہو۔‘

کمپنی نے مزید کہا کہ جب بھی اسے بچوں کے ممکنہ استحصال کا علم ہوتا ہے تو قانون کے مطابق نیشنل سینٹر فار مسنگ اینڈ ایکسپلائٹڈ چلڈرن (این سی ایم ای سی) کو اطلاع دی جاتی ہے۔ این سی ایم ای سی بچوں کے آن لائن جنسی استحصال سے متعلق عالمی مرکزی رپورٹنگ نظام ہے۔

ہم نے ٹیلی گرام کو ایسے دو چینلز کی اطلاع دی جو بچوں کے جنسی استحصال کی ویڈیوز فروخت کر رہے تھے۔

بعد میں ان میں سے ایک بند کر دیا گیا اور اس کی جگہ یہ پیغام آ گیا کہ ’یہ گروپ نہیں دکھایا جا سکتا کیونکہ اس نے ٹیلی گرام کی سروس شرائط کی خلاف ورزی کی‘ تاہم دوسرا چینل نئی ویڈیوز فروخت کرنے کے لیے پوسٹ کرتا رہا۔

ناقدین پہلے بھی ٹیلی گرام پر یہ الزام عائد کر چکے ہیں کہ وہ مجرمانہ مواد کی شیئرنگ روکنے کے لیے مناسب اقدامات نہیں کرتا۔

دبئی میں قائم یہ کمپنی نہ تو این سی ایم ای سی کی رکن ہے اور نہ ہی انٹرنیٹ واچ فاؤنڈیشن کی۔ انٹرنیٹ واچ فاؤنڈیشناکثر آن لائن پلیٹ فارمز کے ساتھ مل کر ایسے مواد کی نشاندہی، رپورٹنگ اور اسے ہٹانے کا کام کرتی ہے۔

ٹیلی گرام نے بی بی سی کو بتایا کہ کمپنی اپنی ایپ پر سے بچوں کے جنسی استحصال کے مواد کو ہٹانے کے لیے خودکار اور انسانی نگرانی دونوں نظام استعمال کرتی ہے اور اسی وجہ سے اس نے ’اپنے پلیٹ فارم سے ایسے مواد کے عوامی پھیلاؤ کو تقریباً ختم کر دیا۔‘

Meta's logo is displayed against pink, frosted glass. Behind the logo are the silhouettes of people.
Reuters

اشتہارات میٹا کی آمدن کا اہم ذریعہ ہیں۔

جنوری میں کمپنی نے بتایا کہ مالی سال 2025 میں اس کی 200 ارب ڈالر (152 ارب پاؤنڈ) آمدن کا تقریباً 98 فیصد اشتہارات سے حاصل ہوا تھا۔

تجزیہ کاروں کا اندازہ ہے کہ انسٹاگرام کی آمدن کا 90 فیصد سے زیادہ حصہ اشتہارات سے آتا ہے۔

عام پوسٹوں کو عموماً شائع ہونے سے پہلے میٹا کی ٹیکنالوجی کے ذریعے نہیں جانچا جاتا تاہم میٹا کا کہنا ہے کہ اس کے پلیٹ فارمز پر چھپنے سے پہلے ہر اشتہار کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

اس کا ریویو نظام بنیادی طور پر خودکار ٹیکنالوجی پر انحصار کرتا ہے اور تصاویر، ویڈیو، متن اور آڈیو کے ساتھ ساتھ یہ بھی جانچتا ہے کہ اشتہار کس کو ٹارگٹ کر رہا ہے اور کوئی لنک صارفین کو کہاں لے جاتے ہیں۔

یہ سافٹ ویئر پھر اشتہارات کو مسترد یا منظور کرتا ہے اور جہاں اسے یقین نہ ہو وہاں معاملہ انسانی جائزے کے لیے بھیج دیتا ہے۔

مارچ میں میٹا نے اعلان کیا تھا کہ تھرڈ پارٹی انسانی نگرانوں پر انحصار کم کر کے مصنوعی ذہانت کے استعمال میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ کمپنی نے کہا تھا کہ ’ماہرین ہمارے اے آئی نظام کو ڈیزائن کریں گے، اس کی تربیت کریں گے، اس کی نگرانی کریں گے اور اسے جانچیں گے۔‘

بی بی سی نے ان اشتہارات کی تفصیلات مدن لوکر کو بتائیں جو انڈیا کی سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج ہیں۔ انھوں نے تشویش ظاہر کی کہ انسٹاگرام ’ایک مجرمانہ سرگرمی میں شریک ہو کر اس سے پیسہ کما رہا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ اتنا سنگین معاملہ ہے کہ انڈیا کی سپریم کورٹ از خود نوٹس لے سکتی ہے اور حکومت کو کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے کہہ سکتی ہے۔‘

جسٹس لوکر نے مزید کہا کہ اگرچہ انڈین قانون میں صارفین کی جانب سے اپ لوڈ کیے گئے مواد پر سوشل میڈیا کمپنیوں کو تحفظ حاصل ہے تاہم ’پلیٹ فارم اپنی ذمہ داری سے نظریں نہیں چُرا سکتا۔‘

سابق نائب صدر فیس بک برائن بولینڈ
BBC
سابق نائب صدر فیس بک برائن بولینڈ نے کہا کہ وہ اس لیے الگ ہوئے کیونکہ ان کے خیال میں ’انھیں کہیں بھی صارفین کی پروا نہیں تھی‘

2021 میں نام کی تبدیلی تک فیس بک میٹا کے نام سے نہیں جانا جاتا تھا۔ فیس بُک کے سابق نائب صدر نے کہا کہ وہ بی بی سی کی تحقیقات کے نتائج دیکھ کر ’خوف زدہ‘ ہیں مگر ’حیران نہیں۔‘

برائن بولینڈ نے 2009 سے 2020 تک کمپنی میں کام کیا اور اشتہارات و مارکیٹنگ کے کاروبار کی تعمیر میں مدد کی۔ انھوں نے کہا کہ وہ اس لیے الگ ہوئے کیونکہ ان کے خیال میں ’انھیں کہیں بھی صارفین کی پروا نہیں تھی۔‘

انھوں نے کہا کہ انسٹاگرام کا نظام صارفین کو پلیٹ فارم پر برقرار رکھنے کے لیے ’زیادہ انتہا پسند، زیادہ دلکش‘ مواد دکھانے کے لیے بنایا گیا تھا۔

’یہ ایسا الگورتھم نہیں جو کہے کہ ’آئیے لوگوں کو بچوں کا جنسی استحصال کرنے والا بنائیں‘ لیکن چونکہ اس کی ذمہ دارانہ رہنمائی اور نگرانی نہیں کی جا رہی اور یہ صرف آمدن اور کلکس کا پیچھا کر رہا ہے، اس لیے اگر لوگ ان نظاموں کے تحفظ کے لیے حقیقی اور بھرپور انداز میں اقدامات نہ کریں تو ایسے نتائج سامنے آئیں گے۔‘

بولینڈ نے کہا کہ 2009 اور 2010 کے درمیان انھوں نے ایسے اشتہارات ہٹانے کے منصوبے کی سربراہی کی تھی جو صارفین کے ساتھ دھوکہ دہی کر رہے تھے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ’اس وقت مجھے صارفین کے تحفظ اور تجربے کی خاطر کمپنی کی آمدن کا ایک بڑا حصہ ختم کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔‘

’میرے خیال میں افسوسناک اور المناک بات یہ ہے کہ وقت کے ساتھ آمدنی اور صارف کے تجربے کے درمیان سمجھوتہ گفتگو کا زیادہ بنیادی حصہ بنتا گیا۔‘

وہ کہتے ہیں کہ انھوں نے 2025 میں اپنا انسٹاگرام اکاؤنٹ ڈیلیٹ کر دیا تھا اور مزید کہا کہ ’اگر لوگ بڑی تعداد میں یہ کہنا شروع کر دیں کہ ’میں جا رہا ہوں، میں ختم کر چکا ہوں، اسے بھول جاؤ‘ تو کمپنی توجہ دے گی۔‘

بی بی سی کو بھیجے گئے ایک بیان میں میٹا نے کہا کہ ’بچوں کا استحصال ایک ہولناک جرم ہے اور میٹا اپنی ایپس پر اس کے خلاف بھرپور اقدامات کرتی ہے۔‘

کمپنی نے کہا کہ یہ کہنا ’واضح طور پر غلط‘ ہے کہ میٹا نے ’جان بوجھ کر اور دانستہ طور پر بچوں والے اشتہارات ایسے صارفین کو دکھائے جنھیں اس قسم کے نامناسب مواد میں دلچسپی ہو۔‘

کمپنی نے آمدن کو تحفظ پر ترجیح دینے کی تردید کی اور کہا کہ 2025 میں اس نے ’ممکنہ طور پر مشتبہ رویے کی علامات والے‘ 40 لاکھ سے زیادہ اکاؤنٹس خودکار طور پر غیر فعال کیے۔

میٹا نے مزید کہا کہ ’اگرچہ مجرم ہماری نگرانی سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں تاہم ہماری ماہر ٹیمیں مسلسل اپنے دفاعی نظام بہتر بنانے، شکاریوں کو بے نقاب کرنے کے لیے نئی ٹیکنالوجی تیار کرنے، خلاف ورزی کرنے والی ویب سائٹس کے لنکس بلاک کرنے اور دیگر کمپنیوں کے ساتھ معلومات شیئر کرنے پر کام کر رہی ہیں تاکہ وہ بھی کارروائی کر سکیں۔‘

بولینڈ نے رواں سال کے آغاز میں امریکی ریاست نیو میکسیکو میں میٹا کے خلاف ایک مقدمے میں گواہی دی تھی جس میں کمپنی پر بچوں کے لیے اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت کے بارے میں صارفین کو گمراہ کرنے کا الزام تھا۔

عدالت نے میٹا کو نیو میکسیکو ریاست کو 375 ملین ڈالر ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس وقت کمپنی کی ایک ترجمان نے کہا تھا کہ وہ فیصلے سے اختلاف کرتے ہیں اور اپیل کا ارادہ رکھتے ہیں۔

Shikha Goel is pictured inside the Cyber Security Bureau. She has long, dark hair and is wearing a bright green dress with flowers.
BBC
تلنگانہ کے سائبر سکیورٹی بیورو کی شیکھا گوئل کا کہنا ہے کہ انھیں میٹا کے پلیٹ فارمز سے کسی بھی دوسرے پلیٹ فارم کے مقابلے میں زیادہ الرٹس موصول ہوتے ہیں

امریکہ میں قائم سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے پلیٹ فارم پر موجود بچوں کے جنسی استحصال کے مواد کی اطلاع این سی ایم ای سی کی سائبر ٹپ لائن کو دیں۔

اس کے بعد ٹپ لائن اس رپورٹ کو اس ملک کے متعلقہ قانون نافذ کرنے والے ادارے کو بھیجتی ہے جہاں اس کے خیال میں واقعہ پیش آیا۔

2025 میں انڈیا کو 19 لاکھ رپورٹس موصول ہوئیں جو امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر تھا۔ امریکہ میں 20 لاکھ رپورٹس موصول ہوئی تھیں۔

انڈیا میں سائبر کرائم کی اعلیٰ پولیس افسر شیکھا گوئل ریاست تلنگانہ کے سائبر سکیورٹی بیورو کی ڈائریکٹر ہیں۔ انھوں نے کہا کہ میٹا کی ملکیت والے انسٹاگرام اور فیس بک سے سب سے زیادہ الرٹس موصول ہوئے۔

انھوں نے کہا کہ ’لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ سب سے بڑے ذرائع ہیں۔‘

’اگر ان کے پاس بچوں کے جنسی استحصال کے مواد کی نشاندہی کے لیے اچھا الگورتھم موجود ہے تو ظاہر ہے کہ زیادہ الرٹس پیدا ہوں گے۔‘

ممبئی میں قائم ایک غیر سرکاری تنظیم رتی فاؤنڈیشن آن لائن نقصانات کا سامنا کرنے والے بچوں کے لیے ہیلپ لائن سروس چلاتی ہے۔ اس نے بھی کہا کہ بچوں کے جنسی استحصال کے مواد سے متعلق اسے موصول ہونے والی اکثریت رپورٹس میٹا کے پلیٹ فارمز سے آتی ہیں۔

یہ تنظیم نقصان دہ مواد ہٹانے میں مدد کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ تعاون کرتی ہے تاہم اس کے شریک بانی اور ڈائریکٹر سدھارتھ پلئی نے کہا کہ ’مجرم انسٹاگرام سے ٹیلی گرام تک آسان رسائی کا استعمال کرتے ہوئے ہماری نگرانی کی کوششوں سے بچ نکلتے ہیں اور جس مواد کو ہم ہٹواتے ہیں اسے بار بار دوبارہ اپ لوڈ کرتے رہتے ہیں۔‘

ماہرین کا کہنا ہے کہ انڈیا میں بچوں کے جنسی استحصال کا مواد عموماً مجرمانہ گروہوں، مثلاً انسانی سمگلروں کی جانب سے تیار کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات خاندان اور برادری کے افراد بھی ذمہ دار ہوتے ہیں۔

جسٹ رائٹس فار چلڈرن کے بانی بھوان ربھو انڈیا میں بچوں کے خلاف تشدد روکنے کے لیے کام کرنے والی 250 سے زیادہ تنظیموں کے نیٹ ورک کی قیادت کرتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس جرم کی مناسب رپورٹنگ نہیں ہوتی اور پولیس اب بھی اس سے نمٹنے کے لیے تکنیکی صلاحیتیں پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

ان کے مطابق اس میں کامیابی کے لیے بین الاقوامی تعاون اور سرحدوں کے پار معلومات کا تبادلہ نہایت اہم ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’منظم جرائم تک پہنچنے کے لیے طلب اور رسد کے پورے نظام کا سراغ لگانا ضروری ہے۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US