بابر اعظم تینوں فارمیٹس کے لیے پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں: مصباح الحق، عاقب جاوید

image

پاکستان کے سینئر سلیکٹر عاقب جاوید نے کہا ہے کہ سلیکٹرز نے متفقہ طور پر پاکستان کرکٹ بورڈ کو بابر اعظم کو دوبارہ ٹیسٹ کپتان بنانے کی سفارش کی تھی۔

لاہور میں ہائی پرفارمنس سینٹر کے سربراہ اور سابق ٹیسٹ فاسٹ بولر نے اتوار کو لاہور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ سلیکٹرز نے قیادت کے کردار اور کرکٹ کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا، جس کے بعد متفقہ طور پر کپتانی کے لیے بابر اعظم کے نام کی سفارش کی گئی۔

عاقب جاوید نے کہا: "سلیکشن کمیٹی نے سر جوڑ کر تفصیلی مشاورت کی۔ انہوں نے اس بات کا جائزہ لیا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں کون سا کھلاڑی بہترین کپتان ثابت ہو سکتا ہے۔ بہت سی بحثیں ہوئیں، لیکن سلیکشن کمیٹی نے صرف ایک ہی سفارش کی، اور وہ نام بابر اعظم کا تھا۔ بس اتنی سی بات ہے۔"

سابق ٹیسٹ کپتان، سابق ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق نے بھی ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے خلاف آئندہ سیریز کے لیے بطور کپتان بابر اعظم کی واپسی کی حمایت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بابر اعظم کے حوالے سے واحد تشویش ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنلز میں ان کا اسٹرائیک ریٹ رہا ہے، ورنہ وہ دیگر فارمیٹس میں پاکستان کے سب سے ماہر اور قابلِ اعتماد بلے باز ہیں۔

مصباح الحق نے مزید کہا: "ٹی ٹوئنٹی میں بھی بابر نے یہ ثابت کیا کہ انہوں نے اس فارمیٹ پر کام کیا ہے، جب وہ رواں سال پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی رہے۔"

ان کا کہنا تھا: "مختصر ترین فارمیٹ میں بھی ان کی اہمیت برقرار ہے۔ بابر تینوں فارمیٹس میں ایک قیمتی اثاثہ ہیں اور مستقبل میں ان کا کردار ان کی صلاحیتوں میں کسی کمی کے بجائے ٹیم مینجمنٹ کے منصوبوں اور مجموعی کمبینیشن پر منحصر ہوگا۔"

31 سالہ بابر اعظم اس سے قبل 2019 سے 2023 کے دوران تینوں فارمیٹس میں پاکستان کی قیادت کر چکے ہیں، اور جن 20 ٹیسٹ میچوں میں انہوں نے کپتانی کی، ان میں پاکستان نے 10 فتوحات حاصل کیں، 6 میں شکست کا سامنا کیا جبکہ 4 میچ ڈرا ہوئے۔

مصباح الحق نے کہا کہ وہ تکنیکی طور پر بابر کو پاکستان کا بہترین بلے باز مانتے ہیں اور ان کا تسلسل ان کی ایک اور بڑی طاقت ہے۔ انہوں نے واضح کیا: "اصل بات یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ان کا استعمال کیسے کیا جائے اور انہیں اس طرح پرفارم کرنے کا اعتماد دیا جائے جیسے وہ برسوں سے پاکستان کے لیے کرتے آئے ہیں۔"

عاقب جاوید نے فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی کو اسکواڈ میں شامل نہ کرنے کے فیصلے پر بھی بات کی اور اصرار کیا کہ قومی سلیکشن کمیٹی دورے کی بنیاد پر کھلاڑیوں کا جائزہ لیتی ہے اور کسی بھی سلیکشن کے فیصلے کو کھلاڑی کے طویل مدتی مستقبل کا فیصلہ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

عاقب نے کہا: "آپ ہر دورے کے حساب سے سلیکشن کرتے ہیں، اور کوئی بھی سلیکٹر یا فرد واحد کسی کے کیریئر یا مستقبل کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔"

انہوں نے وضاحت کی کہ یہ فیصلہ دونوں بیرونی دوروں کے دوران متوقع پچز اور کنڈیشنز کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے، کیونکہ پاکستان کی حالیہ ٹیسٹ سیریز کے بعد سلیکٹرز کا ماننا تھا کہ ٹیم کو مزید تیز رفتار (پیس) کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا: "گزشتہ ٹیسٹ سیریز کے بعد ہمیں محسوس ہوا کہ ہمیں مزید اسپیڈ کی ضرورت ہے، یہی وجہ ہے کہ ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے دوروں کے لیے اس اسکواڈ کا انتخاب کیا گیا ہے۔"


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US