پرتگال کی شکست کے ساتھ رونالڈو کا ورلڈ کپ کا سفر اختتام پذیر

image

”یہ میرا آخری ورلڈ کپ تھا۔ اسپین کے خلاف شکست یقیناً تکلیف دہ ہے، کیونکہ یہ مقابلہ کسی بھی طرف جا سکتا تھا، مگر شاید قسمت اسپین کے ساتھ تھی۔ میں نے اپنی جانب سے پوری محنت کی اور پرتگال کی نمائندگی ہمیشہ دیانت داری سے کی، اس لیے مجھے اپنے سفر پر فخر ہے۔ اب میں اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزاروں گا اور مستقبل کے بارے میں سکون سے سوچوں گا۔ قومی ٹیم سے متعلق کوئی فیصلہ جذبات یا جلدبازی میں نہیں کروں گا۔“

فیفا ورلڈ کپ 2026ء میں پرتگال کا سفر اسپین کے ہاتھوں ایک گول کی شکست کے ساتھ ختم ہو گیا، تاہم اس ناکامی نے فٹبال کی دنیا کے ایک بڑے باب کا بھی اختتام کر دیا۔ پرتگال کے کپتان کرسٹیانو رونالڈو نے اعلان کیا کہ اسپین کے خلاف پری کوارٹر فائنل ان کے ورلڈ کپ کیریئر کا آخری میچ تھا۔

سخت اور سنسنی خیز مقابلے میں دونوں ٹیمیں طویل وقت تک ایک دوسرے کو روکنے میں کامیاب رہیں، مگر اختتامی لمحات میں ہسپانوی کھلاڑی میکل میرینو کے گول نے پرتگال کی امیدیں توڑ دیں۔ ایک گول کے فرق نے رونالڈو اور ان کی ٹیم کو عالمی کپ سے باہر کردیا۔

میچ کے بعد رونالڈو نے شکست کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ پرتگال نے ٹورنامنٹ میں بھرپور جدوجہد کی اور ٹیم کے کھلاڑی سر اٹھا کر وطن واپس جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بین الاقوامی مستقبل کے بارے میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں گے اور نہیں چاہتے کہ ان کی ذاتی صورتحال قومی ٹیم کی آئندہ مہم پر اثر انداز ہو۔

41 سالہ فٹبالر نے پرتگال کے لیے اپنی کامیابیوں کو بھی یاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی قیادت میں ٹیم نے تین بڑے اعزاز اپنے نام کیے، جبکہ ان سے قبل پرتگال کے پاس کوئی بڑا بین الاقوامی ٹائٹل نہیں تھا۔ رونالڈو کے مطابق 2016ء کی یورپی چیمپئن شپ ان کے لیے سب سے یادگار فتح ہے، جس کی اہمیت ان کی نظر میں ورلڈ کپ سے کم نہیں۔

رونالڈو کی قیادت میں پرتگال نے 2016ء میں یورپی چیمپئن شپ جیتی، جبکہ 2019ء اور 2025ء میں یوئیفا نیشنز لیگ کے ٹائٹل بھی اپنے نام کیے۔ عالمی کپ سے رخصتی کے ساتھ پرتگال کے ہیڈ کوچ روبرٹو مارٹینز کا دور بھی مکمل ہو گیا۔ رونالڈو نے کوچ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ کام کرنا خوشگوار تجربہ رہا اور پرتگالی فٹبال کے لیے ان کی خدمات قابلِ قدر رہیں۔


Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US