شاپور زدران: پشاور کے پناہ گزین کیمپ سے کرکٹ کی شروعات کرنے والے افغان فاسٹ بولر کس مرض میں مبتلا تھے؟

شاپور زدران ان کھلاڑیوں میں شامل تھے جنھوں نے افغانستان میں کرکٹ کے ابتدائی سفر میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ 1990 کی دہائی کے اواخر میں، جب پشاور میں مقیم افغان مہاجرین نے افغانستان کی قومی کرکٹ ٹیم کی تشکیل کی کوششیں شروع کیں تو شاپور زدران بھی اس ٹیم کا حصہ بنے۔
Getty Images
Getty Images

افغانستان کرکٹ کے ابتدائی دور کے نمایاں کھلاڑی شاپور زدران تقریباً پانچ ماہ تک انڈیا میں زیرِ علاج رہے، تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے اور 38 برس کی عمر میں وفات پا گئے۔

شاپور زدران ان کھلاڑیوں میں شامل تھے جنھوں نے افغانستان میں کرکٹ کے ابتدائی سفر میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ 1990 کی دہائی کے اواخر میں، جب پشاور میں مقیم افغان مہاجرین نے افغانستان کی قومی کرکٹ ٹیم کی تشکیل کی کوششیں شروع کیں تو شاپور زدران بھی اس ٹیم کا حصہ بنے۔

افغان کرکٹ کے ابتدائی دور کے ایک اور کھلاڑی، ہستی گل عابد نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے شاپور زدران کی ٹیم میں شمولیت کا دلچسپ واقعہ بیان کیا۔

انھوں نے کہا کہ ’مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جب دولت احمدزئی شمسٹو سے انھیں ہمارے پاس لائے۔ اس وقت ہم پشاور جمخانہ میں کرکٹ کھیلا کرتے تھے۔ دولت احمدزئی نے شاپور کی بہت تعریف کی اور کہا کہ وہ بہترین بلے باز ہیں جبکہ ان کی فاسٹ بولنگ بھی غیر معمولی ہے۔‘

ہستی گل عابد کے مطابق اسی دن سے شاپور زدران کے کرکٹ سفر کا آغاز ہوا جو بعد ازاں افغانستان کرکٹ کی تاریخ کا ایک اہم باب بن گیا۔ اب ان کی وفات کے ساتھ افغان کرکٹ کے ابتدائی دور کی ایک یادگار داستان اپنے اختتام کو پہنچی۔

Getty Images
Getty Images

’شاپور زدران نے کرکٹ کے ابتدائی دنوں میں مُشکل حالات کے باوجود حوصلہ نہیں ہارا‘

افغان کرکٹ کے ابتدائی دور میں شاپور زدران نے دیگر ساتھی کھلاڑیوں کے ساتھ کابل کے گرد و غبار بھرے میدانوں میں کھیلتے ہوئے افغان کرکٹ کی بنیاد مضبوط کرنے اور اسے آگے بڑھانے کا سفر شروع کیا۔

افغان ٹیم کے ابتدائی کپتانوں میں شامل اور موجودہ انڈر 19 ٹیم کے کوچ رئیس احمدزئی نے شاپور زدران کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’شاپور نے کرکٹ کے ابتدائی دنوں میں مُشکل حالات کے باوجود کبھی حوصلہ نہیں ہارا۔ آج افغان کرکٹ جس مقام پر کھڑی ہے، وہ انہی نوجوانوں کی قربانیوں اور محنت کا ثمر ہے۔‘

اُن کا کہنا تھا کہ ’انھوں نے وسائل کی کمی، محدود مواقع اور کسی قسم کی سرپرستی نہ ہونے کے باوجود ہمت نہیں ہاری۔ شاپور کی سب سے بڑی کامیابی یہی تھی کہ انھوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ہر مشکل کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور کبھی ہار نہیں مانی۔‘

شاپور زدران اس دور میں بھی افغان ٹیم کا حصہ رہے جب ٹیم شدید مشکلات اور محدود مواقع کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی تھی۔

افغان کرکٹ کے ابتدائی دور کے کھلاڑی اور افغانستان کرکٹ بورڈ کے رکن احمد شاہ سلیمان خیل نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’شاپور اس زمانے کے کھلاڑی تھے جب سہولیات کا فقدان ہوا کرتا تھا۔ ہم لکڑی کے ڈنڈوں سے کھیلتے تھے، کھلاڑیوں کے پاس مالی وسائل نہیں تھے اور نہ ہی بورڈ کے پاس کوئی انتظامی یا مالی سہولت موجود تھی۔‘

Getty Images
Getty Images

خوش مزاج اور محفلوں کی جان

ساتھی کھلاڑیوں کے مطابق شاپور زدران خوش مزاج اور ایسی شخصیت کے مالک تھے جو اپنی موجودگی سے ہر محفل کی جان بن جاتے تھے۔

افغان ٹیم کے سابق کپتان اور موجودہ انڈر 19 ٹیم کے کوچ رئیس احمدزئی کہتے ہیں کہ ’شاپور ہمیشہ دوستوں اور ساتھی کھلاڑیوں کے درمیان مسکراتے رہتے تھے۔ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ نہایت ملنسار اور خوش اخلاق انسان تھے۔ وہ زندہ دل تھے اور اپنی باتوں سے سب کو ہنسا دیتے تھے۔‘

افغان کرکٹ کے ابتدائی دور میں جب میچ ٹیلی ویژن پر نشر نہیں ہوتے تھے اور زیادہ تر خبریں اور کمنٹری ریڈیو پر سنی جاتی تھی، تو شائقین ہر کھلاڑی کی ایک تصوراتی تصویر اپنے ذہن میں بناتے تھے۔

ریڈیو کمنٹری میں جب شاپور زدران کا ذکر ہوتا تو ان کے قد، لمبے بالوں اور پرکشش شخصیت کا تذکرہ بھی کیا جاتا، جس کے باعث شائقین بے تابی سے ان کی تصویر یا انھیں میدان میں دیکھنے کے منتظر رہتے تھے۔

جب پہلی بار شاپور زدران کی تصاویر منظرِ عام پر آئیں تو ان کی تیز رفتار بائیں ہاتھ کی بولنگ کے ساتھ ساتھ ان کی وجیہہ شخصیت بھی افغانستان بھر میں پہچان بن گئی۔ تاہم بہت کم لوگ یہ بات جانتے تھے کہ لوگوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے والا یہ زندہ دل کھلاڑی بولنے کی صلاحیت سے محروم ہو جائے گا۔

رئیس احمدزئی شاپور زدران کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’وہ لمبے رن اپ کے ساتھ گیند بازی کرتے تھے۔ ان کے لمبے بال اور انداز انھیں میدان میں نمایاں بناتا تھا۔ وہ ہم سب کھلاڑیوں کے لیے جوش اور توانائی کا باعث تھے۔‘

افغان کرکٹ کے ابتدائی دور کے کھلاڑی اور شاپور کے ساتھ احمد شاہ سلیمان خیل کہتے ہیں کہ ’شاپور نہایت نرم دل اور شفیق انسان تھے۔ جتنے خوبصورت وہ دکھائی دیتے تھے، اتنی ہی خوبصورت ان کی شخصیت تھی۔ شہرت حاصل کرنے کے باوجود ان میں کبھی غرور نہیں آیا۔‘

شاپور زدران کو گھڑ سواری کا بھی بے حد شوق تھا۔ ان کی کئی ویڈیوز منظرِ عام پر آئیں جن میں وہ فتوحات کا جشن مناتے ہوئے گھوڑے پر سوار دکھائی دیتے ہیں۔

احمد شاہ سلیمان خیل کے مطابق ’وہ رقص کے بہت شوقین تھے۔ جہاں بھی شادی یا خوشی کی تقریب ہوتی، شاپور سب سے پہلے وہاں پہنچتے اور بھرپور انداز میں خوشیوں میں شریک ہوتے تھے۔‘

ہستی گل عابد نے بی بی سی سے گفتگو میں شاپور زدران کی نجی زندگی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ’شاپور کی زندگی محبت، خلوص اور اپنائیت سے بھرپور تھی۔ جب بھی ہم انھیں دیکھتے، وہ مسکراتے ہوئے ملتے۔ جہاں شاپور موجود ہوتے، وہاں خوشی کا ماحول بن جاتا۔ وہ باوقار، باہمت اور اصولوں پر قائم رہنے والے انسان تھے، جنھوں نے اپنی زندگی عزت اور حوصلے کے ساتھ گزاری۔‘

Getty Images
Getty Images

شاپور زدران اور حمید حسن کی جوڑی

افغان کرکٹ کے ابتدائی دور میں جب سپن بولنگ ابھی زیادہ نمایاں نہیں تھی، افغانستان کی فاسٹ بولنگ کا ذکر آتے ہی شاپور زدران اور حمید حسن کی جوڑی ذہن میں آتی تھی۔

یہ دونوں ایسے فاسٹ بولرز تھے جنھوں نے اپنی رفتار، جارحانہ انداز اور شاندار بالنگ سے افغان کرکٹ کو نئی شناخت دی۔ طویل عرصے تک ان کی جوڑی حریف ٹیموں کے لیے دردِ سر بنی رہی۔

افغان ٹیم کے سابق کپتان اور موجودہ انڈر 19 ٹیم کے کوچ رئیس احمدزئی کہتے ہیں کہ ’مجھے ان دونوں پر ہمیشہ مکمل اعتماد تھا۔ ان کی جوڑی دیکھنے والوں کے لیے بھی انتہائی دلچسپ ہوتی تھی اور مخالف ٹیموں کو وہ مسلسل دباؤ میں رکھتے۔ دنیا کی چند مشہور فاسٹ بولنگ جوڑیوں کی طرح شاپور اور حمید حسن کی شراکت بھی خاصی معروف تھی۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’شاپور لمبے رن اپ کے ساتھ گیند بازی کرتے تھے اور ان کی گیندیں غیر معمولی طور پر وکٹ کی دونوں جانب موو ہوتی تھیں، جبکہ حمید حسن اپنی تیز رفتار یارکرز کے لیے مشہور تھے۔ شاپور کی بیک آف لینتھ گیندیں اور اِن سوئنگ بھی انتہائی مؤثر ہوتی تھیں۔ جب ایک اینڈ سے حمید حسن اور دوسرے اینڈ سے شاپور بولنگ کرتے تو ان کا مقابلہ کرنا کسی بھی بیٹنگ لائن اپ کے لیے آسان نہیں ہوتا تھا اور ہمیں ان دونوں پر مکمل بھروسا تھا۔‘

رئیس احمدزئی کے مطابق شاپور زدران میں ایک کامیاب فاسٹ بولر کی تمام خصوصیات موجود تھیں۔

’ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ کبھی ہمت نہیں ہارتے تھے اور ہر چیلنج کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے تھے۔ ایک فاسٹ بولر میں یہی جذبہ ہونا چاہیے۔ وہ نہ تو کسی بلے باز سے مرعوب ہوتے تھے اور نہ ہی مخالف ٹیم سے خوفزدہ۔‘

افغان کرکٹ کے ابتدائی دور کے کھلاڑی افغان کرکٹ بورڈ سے وابستہ احمد شاہ نے شاپور زدران اور حمید حسن کی جوڑی کا موازنہ پاکستان کے عظیم فاسٹ بولرز وسیم اکرم اور وقار یونس، جبکہ آسٹریلیا کے بریٹ لی اور گلین میک گرا سے کیا۔

Getty Images
Getty Images

ورلڈ کپ میں سکاٹ لینڈ کے خلاف شاپور زدران کی تاریخی چار وکٹیں

شاپور زدران نے افغانستان کرکٹ کی 22 برس تک خدمت کی اور اس دوران قومی ٹیم کی کئی تاریخی کامیابیوں میں اہم کردار ادا کیا۔

بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے موقع پر اپنے الوداعی پیغام میں انھوں نے لکھا تھا کہ ’22 سال تک خدمت، قربانی اور محبت کے بعد آج میں بین الاقوامی کرکٹ کو الوداع کہہ رہا ہوں۔‘

شاپور زدران نے افغانستان کو مختلف عالمی مقابلوں تک پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ سنہ 2010، 2012، 2014 اور 2016 کے ٹی20 ورلڈ کپ میں افغان ٹیم کی کامیابیوں کا اہم حصہ رہے، جبکہ سنہ 2015 کے ون ڈے کرکٹ ورلڈ کپ میں بھی ٹیم کی نمائندگی کی۔

Getty Images
Getty Images

اسی ورلڈ کپ میں سکاٹ لینڈ کے خلاف افغانستان کی ون ڈے ورلڈ کپ تاریخ کی پہلی فتح آج بھی شائقین کو یاد ہے، جہاں شاپور زدران نے چار وکٹیں حاصل کرکے کامیابی کی بنیاد رکھی۔ فاسٹ بولر کی حیثیت سے ان کی شاندار کارکردگی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی تاہم اس میچ میں ان کی آل راؤنڈ کارکردگی نے انھیں افغان کرکٹ کی تاریخ کا ناقابلِ فراموش کردار بنا دیا۔

میچ کے آخری لمحات انتہائی سنسنی خیز تھے۔ افغانستان کو میچ جیتنے کے لیے صرف پانچ رنز درکار تھے، مگر اس کی صرف ایک وکٹ باقی تھی۔

آخری اوور کی پہلی گیند پر حمید حسن نے ایک رن بنایا۔ دوسری گیند پر شاپور زدران رن آؤٹ ہونے سے بال بال بچے۔ تیسری گیند پر انھوں نے فائن لیگ کی سمت شاندار چوکا لگا کر افغانستان کو تاریخی کامیابی دلادی۔

شاپور زدران نے اپنے بین الاقوامی کیریئر میں افغانستان کی جانب سے مجموعی طور پر 80 بین الاقوامی میچز کھیلے، جن میں 44 ایک روزہ اور 36 ٹی20 انٹرنیشنل میچ شامل ہیں۔

نایاب بیماری سے شاپور زدران کی لڑائی اور پھر وفات

شاپور زدران گزشتہ کئی ماہ سے انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی کے ایک ہسپتال میں زیرِ علاج تھے۔ وہ ایک نایاب بیماری ہیموفیگوسائٹک لیمفو ہسٹیوسائٹوسس یعنی ’ایچ ایل ایچ‘ میں مبتلا تھے۔

ہیموفیگوسائٹک لیمفو ہسٹیوسائٹوسس ایک نایاب مگر انتہائی خطرناک بیماری ہے جس میں جسم کا مدافعتی نظام غیر معمولی طور پر زیادہ فعال ہو جاتا ہے۔ عام حالات میں مدافعتی نظام جراثیم اور وائرس سے لڑتا ہے، لیکن اس بیماری میں مبتلا ہو جانے کے بعد یہی نظام ضرورت سے زیادہ ردِعمل دکھاتے ہوئے جسم کے اپنے صحت مند خلیوں اور اعضا کو نقصان پہنچانا شروع کر دیتا ہے۔

یہ بیماری عموماً بچوں میں پائی جاتی ہے تاہم کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے یا ماضی میں کینسر کا شکار رہنے والے بالغ افراد بھی اس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

دورانِ علاج افغانستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اور دیگر عہدیداروں کے علاوہ راشد خان، محمد نبی، نور احمد، اصغر افغان، اللہ محمد غضنفر اور دیگر کھلاڑی بھی ان کی عیادت اور خیریت دریافت کرنے ہسپتال پہنچے۔

شاپور زدران کی وفات کی خبر سامنے آتے ہی سوشل میڈیا پر تعزیتی پیغامات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ہزاروں مداحوں، سابق و موجودہ کھلاڑیوں اور ساتھیوں نے ان سے وابستہ یادیں، پرانی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے انھیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔

پاکستان کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے شاپور زدران کی وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انھیں ایک ’بے خوف فاسٹ بولر‘ قرار دیا، جنھوں نے ان کے بقول افغان کرکٹ کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں اہم کردار ادا کیا۔

شعیب اختر نے ایکس پر لکھا کہ ’شاپور زدران کی وفات کی خبر سن کر انھیں گہرا صدمہ پہنچا۔‘ انھوں نے کہا کہ شاپور نہ صرف ایک جارحانہ انداز کے حامل اور بے خوف فاسٹ بولر تھے بلکہ انھوں نے افغانستان کرکٹ کو عالمی کرکٹ کے نقشے پر نمایاں مقام دلانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

انڈیا کے سابق آل راؤنڈر یوراج سنگھ نے شاپور زدران کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے کھلاڑی کو کھونا ہمیشہ افسوسناک ہوتا ہے جس نے کرکٹ کے لیے بے مثال خدمات انجام دی ہوں۔

یوراج سنگھ نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ ’ایسے شخص کو کھونا ہمیشہ دل توڑ دینے والا لمحہ ہوتا ہے جس نے اس کھیل کو اتنا کچھ دیا ہو۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’شاپور زدران افغان کرکٹ کے حقیقی معماروں میں سے ایک تھے۔ کھیل کے لیے ان کا جذبہ، عزم اور غیر متزلزل وابستگی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔‘

افغانستان کے سابق صدر اشرف غنی نے شاپور زدران کی وفات پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اپنے ایکس پر وہ تصویر شیئر کی جس میں وہ شاپور زدران کو اعزاز سے نواز رہے ہیں۔

اپنے پیغام میں اشرف غنی نے شاپور زدران کو ایک ’تناور چنار‘ قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ان کی وفات کی خبر سن کر انھیں انتہائی دکھ پہنچا۔

انھوں نے کہا کہ ’شاپور زدران کی وفات سے افغان کرکٹ اپنے ایک درخشاں ستارے سے محروم ہو گئی ہے، جبکہ بے شمار نوجوان بھی اپنے اس آئیڈیل اور رول ماڈل سے محروم ہو گئے ہیں، جن سے وہ حوصلہ اور رہنمائی حاصل کرتے تھے۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US