وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا ہے کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے موجودہ نظام میں اصلاحات پر کام کر رہی ہے اور انہیں مرحلہ وار مارکیٹ کے اصولوں کے مطابق ڈی ریگولیٹ کرنے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے اجلاس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین شفاف انداز میں کر رہا ہے، تاہم اب قیمتوں کے نظام کو بتدریج آزاد مارکیٹ کے مطابق بنانے پر غور کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر قائم کمیٹی اب تک تین اجلاس منعقد کر چکی ہے، جس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے نظام میں اصلاحات سمیت روزانہ کی بنیاد پر قیمتیں جاری کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور آئی ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق مجوزہ ڈی ریگولیشن کے تحت حکومت پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے براہِ راست تعین میں اپنا کردار محدود کر دے گی، جبکہ قیمتوں کا انحصار مارکیٹ کے اصولوں، طلب و رسد، درآمدی لاگت، ٹیکسوں اور دیگر تجارتی عوامل پر ہوگا۔
اس نظام کے تحت مختلف آئل مارکیٹنگ کمپنیاں اپنی لاگت اور کاروباری حکمتِ عملی کے مطابق الگ الگ قیمتیں مقرر کر سکیں گی، جس کے نتیجے میں مختلف کمپنیوں کے پٹرول پمپس پر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فرق دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
تاہم حکومت کی جانب سے اس حوالے سے حتمی فیصلہ یا نفاذ کی تاریخ کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا، جبکہ مجوزہ اصلاحات پر مشاورت کا عمل جاری ہے۔