حکومتِ سندھ نے صوبے میں موٹر تھرڈ پارٹی انشورنس کا نفاذ کردیا ہے، جس کے تحت اب کسی بھی ٹریفک حادثے کے شکار فرد کا معاوضہ 20 ہزار روپے سے بڑھا کر 7 لاکھ روپے مقرر کردیا گیا ہے، جبکہ یہ معاوضہ کسی عدالتی کارروائی کے بغیر ایک خودکار نظام کے تحت فوری طور پر دیا جائے گا۔
اس اقدام کے بعد کمرشل گاڑیوں کی انشورنس پالیسیوں میں ریکارڈ 1300 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے پالیسیوں کی تعداد 11 ہزار سے بڑھ کر 1 لاکھ 65 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔
اس کامیابی کے بعد اب موٹر انشورنس کا دائرہ کار پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان تک بڑھانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ریٹائرڈ افراد کے لیے لائف انشورنس اینیوٹی پروڈکٹس متعارف کرائی گئی ہیں اور فصلوں کی انشورنس کے لیے انشورنس کمپنیوں کا ایک کنسورشیم بھی قائم کردیا گیا ہے۔
مزید برآں، ملک میں تکافل سیکٹر کا شیئر 14 فیصد تک پہنچ گیا ہے جس کے لیے نئی گائیڈ لائنز جاری کردی گئی ہیں۔