’ماں، میں مرنے والی ہوں‘: کولہے بڑے کروانے والی ’برازیلین بٹ لفٹ‘ کا تاریک رُخ

کاسمیٹک ایکریڈیٹیشن سروس ’سیو فیس‘ کا کہنا ہے کہ انھوں نے کاسمیٹک طریقۂ علاج سے جڑے سنگین نقصانات کے متعدد واقعات دیکھے ہیں۔ ایک کیس میں ایک مریض پلکوں کی ناکام سرجری کے بعد اپنی آنکھیں بند نہیں کر پا رہے تھے جبکہ ایک اور مریض کی لیپوسکشن کے دوران آنتیں چھلنی ہو گئیں۔
A montage image shows photograph of a hand in a white latex glove holding a black marker pen and marking a woman's right buttock and thigh with two broken lines and a row of three arrows pointing upwards. The photograph is in black and white and there is a red background, with a beige border and a green dot in the top right-hand corner.
BBC
کاسمیٹک ایکریڈیٹیشن سروس 'سیو فیس' کا کہنا ہے کہ انھوں نے کاسمیٹک طریقۂ علاج سے جڑے سنگین نقصانات کے متعدد واقعات دیکھے ہیں

جب ستمبر 2024 کی ایک صبح ایلس ویب ایک کرائے کے بیوٹی سیلون کے اندر قائم عارضی کلینک میں نان سرجیکل برازیلین بٹ لفٹ (بی بی ایل) کروانے گئیں تو انھیں توقع تھی کہ وہ دوپہر میں بچوں کا سکول ختم ہونے سے پہلے فارغ ہو جائیں گی۔

بی بی ایل بنا سرجری کے کولہے کی ساخت بہتر بنانے کا ایسا طریقہ ہوتا ہے، جس میں کولہوں میں ڈرمل فلر کی بڑی مقدار انجیکٹ کی جاتی ہے۔

لیکن 33 سالہ ایلس اس پروسیجر کے بعد کبھی گھر واپس نہ آ سکیں۔

پانچ بچوں کی ماں اس علاج کے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت بعد وفات پا گئیں۔ وہ برطانیہ میں نان سرجیکل بی بی ایل پروسیجر کے بعد ہلاک ہونے والی پہلی مریضہ ہیں۔ ان کی موت کی وجہ معلوم کرنے کے لیے رواں سال عدالتی تحقیقات کی جائیں گی۔

ان کی کہانی برطانیہ کی تیزی سے پھیلتی ہوئی بیوٹی اور جمالیاتی صنعت کے بارے میں بڑھتی ہوئی بحث کا اہم حصہ بن گئی ہے، جہاں اب کاسمیٹک انجیکشنز ہائی سٹریٹ کے بیوٹی پارلرز سے لے کر کرائے کے دفاتر اور ہوٹلوں کے کمروں تک ہر جگہ قائم ہیں۔

A close-up photograph of the face of Alice Webb, a young woman with long dark hair.
PA Media
ایلس ویب نے نان سرجیکل برازیلین بٹ لفٹ کروائی تھی

گذشتہ دو برس کے دوران میں نے اس صنعت کے بارے میں تحقیقات کیں اور خفیہ طور پر یہ جاننے کی کوشش کی کہ کلینکس کے بند دروازوں کے پیچھے کیا ہوتا ہے۔

اس دوران مجھے ایسے معالج ملے جو دفتری عمارتوں میں بنائے گئے عارضی کلینک میں میرے جسم میں سینکڑوں ملی لیٹر فلر انجیکٹ کرنے پر آمادہ تھے۔ مجھے مناسب مشاورت کے بعد ایسی ادویات کی پیشکش کی گئی جو بنا ڈاکٹر کے نسخے کے نہیں دی جا سکتیں اور ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بغیر لیبل والی وزن کم کرنے والے انجیکشنز بھی فروخت کیے گئے۔

میں نے درجنوں ایسی خواتین سے بات کی جنھوں نے بتایا کہ انھیں اس ہی طرز کی کاسمیٹک انجیکشنز کے باعث شدید اور ناقابلِ برداشت درد جھیلنا پڑا حالانکہ انھیں بتایا گیا تھا کہ علاج کا یہ طریقہ نہ صرف درد سے پاک ہے بلکہ اس میں خطرہ بھی کم ہے۔ کئی خواتین کو بعد ازاں ہونے والے انفیکشنز کے باعث ہسپتال میں بھی داخل ہونا پڑا۔

کاسمیٹک ایکریڈیٹیشن سروس ’سیو فیس‘ کا کہنا ہے کہ انھوں نے کاسمیٹک طریقۂ علاج سے جڑے سنگین نقصانات کے متعدد واقعات دیکھے ہیں۔ ایک کیس میں ایک مریض پلکوں کی ناکام سرجری کے بعد اپنی آنکھیں بند نہیں کر پا رہے تھے جبکہ ایک اور مریض کی لیپوسکشن کے دوران آنتیں چھلنی ہو گئیں۔

سیو فیس کی ڈائریکٹر ایشٹن کولنز کہتی ہیں کہ ’یہ اتنا خوفناک ہے کہ کسی ہارر فلم کا منظر محسوس ہوتا ہے لیکن یہ سب کام ہماری ہائی سٹریٹس پر انجام دیے جا رہے ہیں۔‘

برطانیہ یورپ کی ان منڈیوں میں شامل ہے جہاں کاسمیٹک انجیکشنز پر نسبتاً کم ضابطہ کار لاگو ہوتا ہے۔ بہت سے یورپی ممالک کے برعکس، یہاں کوئی بھی شخص قانونی طور پر تربیت حاصل کر کے ڈرمل فلر انجیکٹ کر سکتا ہے اور عوام کو یہ خدمات فراہم کر سکتا ہے۔

تاہم اب سکاٹ لینڈ اور انگلینڈ میں وزرا کا کہنا ہے کہ وہ اربوں پاؤنڈ مالیت کی اس صنعت کے لیے قواعد و ضوابط کو سخت کر رہے ہیں۔ لیکن کیا یہ مؤثر ثابت ہو گا؟ماہرین کی جانب سے ایک دہائی سے زیادہ عرصہ قبل ڈرمل فلرز کے ممکنہ بحران کی شکل اختیار کیے جانے کے انتباہات کے باوجود مریض اب بھی ایسے نقصانات سے کیوں دوچار ہو رہے ہیں جنھیں روکا جا سکتا تھا؟

سلیبریٹیز سے لے کر ہائی سٹریٹ تک

جون 2024 میں جوآن (جو چاہتی ہیں کہ ہم صرف ان کا پہلا نام استعمال کریں) ایسیکس میں ایک فلیٹ کے اندر قائم عارضی کلینک میں نان سرجیکل بی بی ایل کروانے گئیں۔ ان کا خیال تھا کہ یہ کام ترکی جا کر سرجیکل بی بی ایل کروانے سے کم خطرناک ہو گا۔ یہ ایلس کی موت سے پہلے کی بات ہے۔

جنوبی ویلز سے تعلق رکھنے والی دو بچوں کی ماں جوآن کہتی ہیں کہ ان کی خواہش محض خوبصورت گولائی والے کولہے کی تھی۔ ’مجھے فوراً وہاں سے نکل جانا چاہیے تھا۔‘

اس عارضی کلینک میں ان کے جسم میں ایک لیٹر (1.8 پنٹس) فلر انجیکٹ کیا گیا جس کے بعد انھیں سیپسس کی وجہ سے ہسپتال میں داخل ہونا پڑا۔ اس واقعے کو دو برس گزر جانے کے بعد بھی ان کی رانوں اور کولہوں پر نشانات موجود ہیں۔

کسی زمانے میں کاسمیٹک انجیکشنز کو دولت مند اور درمیانی عمر کے ایسے افراد سے جوڑا جاتا تھا جو بڑھتی عمر کے اثرات کم کرنے کے لیے ہلکا پھلکا علاج کرانا چاہتے تھے، لیکن گذشتہ ایک دہائی میں اس صنعت میں ڈرامائی تبدیلی آئی ہے۔

A montage image showing two photographs of Joanne. On the left, she has fashionably dyed grey hair and blue eyes, wears a grey woolly hat and black coat, and looks seriously at the camera on an empty Welsh beach at dusk. On the right is a selfie of Joanne in hospital, with a canula in her arm. She is wearing a navy blue T-shirt and has blonde hair. The white sheets of the hospital bed can be seen in part of the frame.
BBC
بی بی ایل ٹریٹمنٹ کے بعد جوآن کو سیپسس ہو گیا تھا اور انھیں ہسپتال میں داخل ہونا پڑا

ڈرمل فلرز جیسے علاج میں عموماً ہائیلورونک ایسڈ سے بنے انجیکشن کے ذریعے دیے جانے والے جیل جسم کے کسی مخصوص حصے کے حجم اور ساخت کو بڑھانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ دوسری جانب بوٹوکس کو اب پہلے سے کہیں زیادہ کم عمر افراد کو طبی طریقۂ علاج کے بجائے معمول کی خوبصورتی سے متعلق سروسز کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

سیو فیس کی ایشٹن کولنز کا خیال ہے کہ اس تبدیلی میں سوشل میڈیا اور رئیلٹی ٹی وی کا اہم کردار ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’کارڈیشینز، لَو آئی لینڈ اور سوشل میڈیا نے کم عمر خواتین کے نظر میں بڑے بڑے ہونٹ، ابھرے ہوئے گال اور منجمد تاثرات والے چہرے کو فیشن بنا دیا ہے۔‘

کولنز کے مطابق اسی دوران انجیکشن کے ذریعے کیے جانے والے علاج اب زیادہ وسیع پیمانے پر دستیاب ہیں اور اکثر بیوٹی سیلونز میں یہ خدمات پیش کی جاتی ہیں، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ یہ بھی دیگر معمول کی خوبصورتی کی سروسز جیسا کچھ ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ لوگ ناخن یا بھنویں بنوانے جاتے ہیں اور اس علاج کو اسی کا تسلسل سمجھتے ہیں۔ ’اگر آپ کی عمر 35 برس سے کم ہے تو بہت امکان ہے کہ آپ انھیں طبی نہیں بلکہ خوبصورتی سے متعلق علاج سمجھتے ہوں۔‘

Ashton Collins, with long blonde hair, a black top, white necklace, sits in her white office. Visible on the window is the logo of her organisation, Save Face.
BBC
سیو فیس کی ایشٹن کولنز کا کہنا ہے کہ کاسمیٹک سرجری کا بھی ضابطہ کار ہونا چاہیے۔

کولنز کے مطابق بالآخر اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ صارفین اکثر حفاظت کے معیار پر دھیان دینے کے بجائے سہولت، مقبولیت اور قیمت پر توجہ دیتے ہیں۔

’ہمیں بار بار دیکھنے کو ملتا ہے کہ لوگوں کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ بوٹوکس صرف ڈاکٹر کے نسخے پر دستیاب دوا ہے۔ انھیں یہ بھی نہیں پتا ہوتا کہ انھیں کسی ڈاکٹر سے معائنہ کروانا چاہیے۔‘

ان تمام عوامل کے باعث یہ شعبہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ تاہم کولنز کے مطابق اس سے غیر محفوظ معالجوں کے پھلنے پھولنے کے لیے بھی حالات سازگار ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’سوشل میڈیا پر علاج کے ان طریقوں کو جس انداز میں پیش کیا جاتا ہے، اس سے خطرے کا احساس بڑی حد تک ختم ہو جاتا ہے۔‘

خاطر خواہ اضافہ

معالجوں کا کوئی مرکزی رجسٹر نہ ہونے اور اس شعبے کے لیے کسی سرکاری ڈیٹا بیس کی غیر موجودگی میں اس صنعت کے حجم کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروسز (این ایچ ایس) کے پلاسٹک سرجن اور یونیورسٹی کالج لندن کے محقق ڈاکٹر الیگزینڈر زرگران نے اس مارکیٹ کے بڑے حصوں میں سے ایک، یعنی بوٹوکس، کے حجم کا اندازہ لگانے کی کوشش کی ہے۔

ان کے تجزیے کے مطابق 2025 میں برطانیہ بھر میں تقریباً 20 ہزار افراد بوٹوکس کی خدمات فراہم کر رہے تھے جبکہ محض دو برس قبل 2023 میں یہ تعداد صرف ساڑھے تین ہزار سے کچھ زیادہ تھی۔

زرگران کہتے ہیں کہ ’ہم جانتے ہیں کہ یہ صنعت بڑھ رہی ہے۔‘

اگرچہ اس اضافے کی ایک وجہ آن لائن اور سوشل میڈیا پر معالجوں کی جانب سے دیے جانے والے اشتہارات کی بھرمار بھی ہے لیکن محض دو سال میں ترقی کی یہ رفتار قابلِ توجہ ہے۔

The hands of a nurse prepare a Botox injection by drawing liquid from a container using a syringe. In the background is a much larger container and a triangular yellow and black toxic sign appears out of focus.
Reuters
محققین کے مطابق بوٹوکس کے پروسیجر سب سے زیادہ محروم اور پسماندہ علاقوں میں نسبتاً زیادہ دستیاب تھے

زرگران کی تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس صنعت کی ترقی میں غیر طبی معالجوں کا بھی کردار رہا ہے۔ ان کے مطالعے کے مطابق 2023 سے 2025 کے درمیان غیر طبی جمالیاتی ماہرین کا تناسب 12 فیصد سے بڑھ کر 24.8 فیصد ہو گیا۔

مطالعے میں یہ بھی سامنے آیا کہ بوٹوکس کا علاج ایسی آبادیوں میں زیادہ آسانی سے دستیاب تھا، جہاں صحت اور دیگر ضرورتِ زندگی کی سہولیات کا فقدان تھا۔ ان علاقوں میں معالجوں کی تعداد دوسرے علاقوں کے مقابلے میں چھ گنا تھی۔

اس کے علاوہ ان آبادیوں میں طبی طور پر اہل معالجوں تک رسائی بھی کم تھی۔

اس سے ایک بڑا سوال یہ جنم لیتا ہے کہ اگر اب برطانیہ بھر میں دسیوں ہزار کاسمیٹک انجیکٹر کام کر رہے ہیں تو کیا کسی پر ان کو ریگولیٹ کرنے کی ذمہ داری ہونی چاہیے؟

ضابطہ کار میں نرمی

برطانیہ میں موجودہ قوانین کے تحت کوئی بھی شخص قانونی طور پر تربیت حاصل کر سکتا ہے، ڈرمل فلر مصنوعات خرید سکتا ہے اور عوام کو یہ خدمات فراہم کر سکتا ہے۔

اگرچہ ڈاکٹر، نرسیں اور دندان ساز ایسے پیشہ ور اداروں کے زیرِ نگرانی ہوتے ہیں جو ان کے خلاف کسی بھی شکایات کی تحقیق اور تادیبی کارروائی کر سکتے ہیں، لیکن غیر طبی جمالیاتی معالجوں کی نگرانی کا ایسا کوئی قانونی ادارہ موجود نہیں۔

اس کے برعکس آسٹریا میں بوٹولینم ٹاکسن اور ڈرمل فلر کے علاج کو طبی طریقہ کار سمجھا جاتا ہے اور عموماً صرف ڈاکٹرز ہی یہ کام کر سکتے ہیں۔ فرانس میں غیر طبی معالجوں کو انجیکشن کے ذریعے کاسمیٹک علاج کرنے کی اجازت نہیں۔

جوائنٹ کونسل فار کاسمیٹک پریکٹشنرز (جے سی سی پی) کے چیف ایگزیکٹو اینڈریو رینکن کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں لاگو ضابطہ اخلاق ایک وسیع ضابطہ جاتی نظریے کی عکاسیہے، جس میں صارف کی پسند اور معاشی ترقی کو ترجیح دی جاتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ معاشی سرگرمیوں کے حوالے سے ہمارا فلسفہ جامع نوعیت کا ہے، جس کے تحت حکومت کی کوشش ہوتی ہے کہ عوامی تحفظ اور ایک مؤثر، جدت پسند معیشت کے درمیان توازن پیدا کیا جائے۔

2023 میں جب حکومت نے انگلینڈ میں لائسنسنگ سکیم پر مشاورت کی تو بعض جواب دہندگان کا کہنا تھا کہ نئی ضابطہ کاری متناسب ہونی چاہیے۔ اگرچہ حفاظتی معیار کو بہتر بنانے کی وسیع پیمانے پر حمایت کی گئی لیکن ساتھ ہی ضابطہ اخلاق لاگو کرنے سے چھوٹے کاروباروں پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کے بارے میں بھی تشویش ظاہر کی گئی۔

یاد رہے کہ اس شعبے کا ایک بڑا حصہ چھوٹے کاروباروں پر مشتمل ہے۔ اس خدشے کا بھی اظہار کیا گیا کہ حد سے زیادہ سخت قواعد صارفین کے انتخاب کو محدود کر سکتے ہیں یا صنعت کے بعض حصوں کو زیرِ زمین دھکیل سکتے ہیں۔

تاہم زرگران کے مطابق موجودہ صورتحال میں صارفین کے لیے یہ جاننا مشکل ہو جاتا ہے کہ جس معالج کے پاس وہ جا رہے ہیں اس کی اہلیت کیا ہے، اس نے کس نوعیت کی تربیت حاصل کی ہے اور علاج میں خرابی کی صورت میں کہاں رجوع کیا جا سکتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’آپ میڈیکل پریکٹشنر ہیں تو آپ مخصوص تربیت سے گزرے ہوتے ہیں، جس میں رضامندی کے اصول، کسی بھی پروسیجر کو انجام دینا، بعد از علاج دیکھ بھال اور پیچیدگیوں کی شناخت شامل ہوتی ہے۔‘

Surgery
Getty Images
حکام نے بھی بارہا خبردار کیا ہے کہ غیر منظور شدہ اور جعلی مصنوعات برطانیہ کی مارکیٹ میں داخل ہو رہی ہیں

ایک دہائی سے زائد عرصہ قبل حکومت نے پی آئی پی بریسٹ امپلانٹ سکینڈل کے بعد کاسمیٹک سرجری کی صنعت کے متعلق ایک آزاد سروے کروایا تھا۔

پی آئی پی بریسٹ امپلانٹ سکینڈل میں ہزاروں خواتین کو ایسے سلیکون امپلانٹس لگائے گئے تھے جو طبی استعمال کے لیے منظورشدہ نہیں تھے۔

اس جائزے کی سربراہی اس وقت کے این ایچ ایس میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر سر بروس کیوگ نے کی اور اس دوران ڈرمل فلرز، بوٹوکس اور دیگر نان سرجیکل طریقوں سمیت پورے شعبے کا جائزہ لیا گیا۔

جائزے میں خبردار کیا گیا کہ نان سرجیکل کاسمیٹک طریقوں سے گزرنے والے افراد کو ’کسی بال پوائنٹ پین یا دانتوں کا برش خریدنے والے شخص کے جتنا ہی تحفظ اور قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہے۔ جائزے میں نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ڈرمل فلرز کا معاملہ کسی بھی وقت بحران کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔

سروے میں معالجوں کے لیے لائسنسنگ، زیادہ سخت تربیت کی ضرورت اور اس بات پر سخت کنٹرول کا مطالبہ کیا گیا کہ کن افراد کو کاسمیٹک سرجریز کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔

کیوگ جائزہ رپورٹ کے بعد حکومت نے رضاکارانہ ضابطہ کاری (وولینٹری سیلف ریگولیشن) کا نظام متعارف کروایا۔ جے سی سی پی جیسی تنظیمیں قائم کی گئیں، جن کا مقصد معیار متعین کرنا اور معالجوں کو خود کو رجسٹر کروانے کی ترغیب دینا تھا۔

لیکن رینکن کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار مؤثر ثابت نہیں ہوا اور بہت سے معالج اب بھی رضاکارانہ سکیموں سے مکمل طور پر باہر ہیں۔ ان کے مطابق حکومت اس بات کا اندازہ نہیں لگا پائی کہ معالجوں کو وولینٹری سیلف ریگولیشن کے تحت معیار پر پورا اترنے میں زیادہ دلچسپی نہیں ہو گی۔

’ماں، میں مرنے والی ہوں‘

اکتوبر 2023 میں ایسیکس کے ایک کلینک میں لیکوئیڈ بی بی ایل کروانے کے چار روز بعد بولٹن سے تعلق رکھنے والی 28 سالہ لوئز مولر کو سیپسس ہونے پر ہنگامی طور پر ہسپتال منتقل کرنا پڑا۔

انہوں نے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ (اے اینڈ ای) سے اپنی والدہ جینیٹ ٹیلر کو فون کیا اور کہا: ’ماں، مجھے لگتا ہے کہ میں مرنے والی ہوں۔‘

سیپسس کو ان کے جسم میں مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے سرجنوں نے ان کے بائیں کولہے کے حصے سے بڑی مقدار میں مردہ ٹشو نکالا۔

جینیٹ کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس واقعے اور کولہے سے متعلق سرجری کرنے والے شخص رکی ساویئر کے بارے میں پولیس کو اطلاع دی۔ ساویئر ایک معروف غیر قانونی کاسمیٹک انجیکٹر کے طور پر جانے جاتے ہیں اور انھوں نے جوآن کا نان سرجیکل بی بی ایل بھی کیا تھا، جس کے بعد وہ سیپسس کا شکار ہو گئی تھیں۔

تاہم جینیٹ کے مطابق چونکہ یہ پروسیجر ایسیکس میں انجام دیا گیا تھا جبکہ لوئز گریٹر مانچسٹر میں رہتی تھیں، اس لیے انہیں بتایا گیا کہ مقدمہ ایک پولیس فورس سے دوسری فورس کو منتقل کرنا پڑے گا۔

جب 2025 میں بی بی سی نیوز نے اس معاملے پر گریٹر مانچسٹر پولیس اور ایسیکس پولیس سے رابطہ کیا تھا تو دونوں فورسز نے کہا تھا کہ تحقیقات کی ذمہ داری دوسری فورس پر عائد ہوتی ہے۔

اس مضمون کے لیے جب ہم نے گریٹر مانچسٹر پولیس سے رابطہ کیا تو اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ ایسیکس پولیس نے کہا: ’ہم اس معاملے کے حوالے سے پائی جانے والی مایوسی کو سمجھتے ہیں‘ لیکن اس نے ایک بار پھر اصرار کیا کہ تحقیقات کی ذمہ داری گریٹر مانچسٹر پولیس پر عائد ہوتی ہے۔

کولنز کے مطابق لوئز کو پیش آنے والی مشکلات نگرانی اور قانون کے نفاذ میں موجود ایک وسیع تر ناکامی کی عکاسی کرتی ہیں۔

وہ کہتے ہیں: ’لوگ سمجھتے ہیں کہ یقیناً کوئی نہ کوئی ادارہ ان پریکٹیشنرز کی نگرانی کر رہا ہوگا اور جب کچھ غلط ہو جائے تو انہیں جواب دہ ٹھہراتا ہوگا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اکثر ایسا بالکل نہیں ہوتا۔‘

جب جینیٹ اپنی بیٹی کے لیے انصاف حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھیں، تو میں ایک خفیہ گاہک کے طور پر لندن کے مضافات میں ایک دفتری عمارت میں قائم ایک عارضی کلینک میں گئی، جہاں رِکی ساویئر اب بھی کام کر رہے تھے۔

ملاقات کے دوران ساویئر نے ایک لیٹر تک فلر انجیکٹ کرنے کی پیشکش کی، نسخے کے بغیر صرف نسخے پر دستیاب ادویات فراہم کیں اور یہ بھی تجویز دی کہ کسی مجاز تجویز کنندہ (پریسکرائبر) کی موجودگی کے بغیر بھی مقامی طور پر تیار کی گئی بے ہوشی کی دوا استعمال کی جا سکتی ہے۔

اس ویڈیو کا جائزہ لینے والے پلاسٹک سرجن ڈاکٹر دَلوی حمزہ نے اس طریقۂ کار کو ’تشویش ناک‘ اور ’انتہائی خطرناک‘ قرار دیا۔

فروری 2025 میں رِکی ساویئر کے بارے میں ہماری رپورٹ نشر ہونے کے بعد ٹریفورڈ کونسل کی جانب سے حاصل کیے گئے عدالتی حکم کے تحت ان کے یہ کام کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔

حال ہی میں وہ اس حکم کی مبینہ خلاف ورزی کے مقدمے میں عدالت میں پیش ہوئے، تاہم انہیں بے گناہ قرار دے دیا گیا۔ عدالتی کارروائی کے دوران اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ انہیں معلوم تھا کہ یہ طریقۂ کار خطرناک ہے۔

اگرچہ ساویئر اب انگلینڈ اور ویلز میں کہیں بھی اپنا کام جاری نہیں رکھ سکتے، لیکن اس پابندی کے نفاذ تک پہنچنے میں کئی سال لگ گئے۔

Ricky Sawyer, filmed undercover in his small pop-up clinic at a London office, sits next to a metal trolley wearing green uniform. He is a man in his 20s with straight brown hair, a moustache and beard.
BBC
رکی ساویئر خود کو برطانیہ کا ’سب سے بڑا بٹ لفٹ انجیکٹر‘ قرار دیتے ہیں

اور مسئلہ صرف ان افراد تک محدود نہیں جو یہ پروسیجر انجام دیتے ہیں بلکہ استعمال ہونے والی مصنوعات بھی بڑی حد تک غیر منظم ہیں۔ حالیہ برسوں میں اس شعبے میں غیر قانونی ادویات اور جعلی مصنوعات کے استعمال سے متعلق خدشات بار بار سامنے آتے رہے ہیں۔

2025 میں بی بی سی کی ایک خفیہ تحقیقات کے ذریعے معلوم ہوا کہ بعض نرسیں اور فارماسسٹ پیشہ ورانہ رہنما اصولوں کے تحت لازمی قرار دی گئی بالمشافہ مشاورت کے بغیر ہی بوٹوکس فراہم کر رہے تھے۔

حکام نے بھی بارہا خبردار کیا ہے کہ غیر منظور شدہ اور جعلی مصنوعات برطانیہ کی مارکیٹ میں داخل ہو رہی ہیں۔ شمالی آئرلینڈ کی پولیس نے 2023 میں 700,000 سے زائد جعلی اور غیر لائسنس یافتہ ادویات ضبط کی تھیں، جن میں بوٹوکس کی مصنوعات بھی شامل تھیں۔

بعد ازاں گلاسگو میں جمالیاتی علاج (ایستھیٹکس) کے شعبے میں ایک کارروائی کے دوران پولیس نے ہزاروں پاؤنڈ مالیت کے ڈرمل فلرز، سوئیاں اور بوٹولینم ٹاکسن پر مشتمل مصنوعات بھی برآمد کی تھیں۔

اس غیر قانونی کام کے خلاف مہم چلانے والے افراد کا کہنا ہے کہ اس شعبے میں قانون کے نفاذ کی ذمہ داریاں اکثر مختلف اداروں کے درمیان تقسیم ہوتی ہیں، جن میں مقامی کونسلیں، پولیس فورسز، ادویات کے نگران ادارے اور پیشہ ورانہ تنظیمیں شامل ہیں، جبکہ کسی ایک ادارے کو مجموعی طور پر جوابدہی اور نگرانی کی مکمل ذمہ داری حاصل نہیں ہوتی۔

کولنز کہتے ہیں کہ: ’آپ ملک بھر کے بیوٹی سیلونز میں جا سکتے ہیں اور اسی دن بوٹوکس لگوا سکتے ہیں، بغیر معالج کے ساتھ باقاعدہ مشاورت کے۔ ایسا نہیں ہونا چاہیے، لیکن پھر بھی ہوتا ہے کیونکہ نگرانی اور قانون کے نفاذ کا نظام بہت کمزور ہے۔‘

تسلسل سے ہوتی تاخیر

سنہ 2013 سے اب تک آنے والی مختلف حکومتیں اس شعبے میں اصلاحات کی ضرورت کو تسلیم کرتی رہی ہیں، لیکن جامع ریگولیشن کا نفاذ بار بار مؤخر ہوتا رہا ہے۔

2022 کے ہیلتھ اینڈ کیئر ایکٹ کے تحت اس سمت میں ایک اہم پیش رفت ہوئی، جس نے وزرا کو انگلینڈ میں نان سرجیکل کاسمیٹک پروسیجر کے لیے لائسنسنگ نظام متعارف کرانے کے اختیارات فراہم کیے۔

2025 میں حکومت نے تصدیق کی کہ وہ ایسی خدمات فراہم کرنے والوں کے لیے باقاعدہ لائسنسنگ سکیم متعارف کروانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

وزارتِ صحت و سماجی نگہداشت کے ایک ترجمان کا کہنا ہے: ’ہم جلد ہی سخت نئے اقدامات پر مشاورت شروع کریں گے، جن کے تحت صرف مستند اور شعبہ صحت کے پیشہ ور افراد ہی زیادہ خطرے والے کاسمیٹک پروسیجر انجام دے سکیں گے۔‘

ترجمان کے مطابق حکومت ان پروسیجرز کے لیے بھی ایک لائسنسنگ کا نظام متعارف کرانے کا ارادہ رکھتی ہے جنہیں نسبتاً کم خطرے والے عمل قرار دیا جاتا ہے۔

سکاٹ لینڈ میں رواں سال منظور کیے گئے ایک قانون کے تحت بوٹوکس اور ڈرمل فلرز کے انجیکشن جیسے کاسمیٹک پروسیجر کو مخصوص اور باقاعدہ نگرانی والے مقامات، مثلاً رجسٹرڈ کلینکس، تک محدود کر دیا جائے گا۔

اس قانون کے تحت 18 سال سے کم عمر افراد کو ایسی خدمات فراہم کرنا بھی غیر قانونی ہوگا۔

سکاٹش حکومت کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ستمبر 2027 سے نافذ ہونے کی توقع ہے۔ اسی وقت نسبتاً کم خطرے والے کاسمیٹک پروسیجرز کے لیے مقامی حکومتوں کے تحت ایک لائسنسنگ نظام بھی متعارف کرایا جائے گا۔

شمالی آئرلینڈ کے محکمۂ صحت کا کہنا ہے کہ اس وقت نان سرجیکل کاسمیٹک پروسیجر کے لیے لازمی ریگولیشن بنانے یا لائسنسنگ نظام متعارف کرانے کا ’کوئی منصوبہ نہیں‘ ہے۔

تاہم محکمۂ صحت کے مطابق وہ بوٹوکس جیسی ادویات کی غیر قانونی فراہمی، غلط استعمال اور غیر مجاز تشہیر کے خلاف ’فیصلہ کن کارروائی‘ کرتا ہے۔

ویلز حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ایکیوپنکچر، ڈرائی نیڈلنگ، جسم چھدوانے (باڈی پیئرسنگ)، الیکٹرولائسز، ٹیٹو بنوانے اور نیم مستقل میک اپ کے لیے لازمی لائسنسنگ نظام کے نفاذ کی نگرانی کر رہی ہے اور یہ تجربہ ’مستقبل میں ایسی ضابطہ بندی کو دیگر طریقۂ کار تک توسیع دینے کے حوالے سے رہنمائی فراہم کرے گا۔‘

سکاٹ لینڈ اور انگلینڈ میں حالیہ پیش رفت کے باوجود کسی بھی لائسنسنگ نظام کے مکمل طور پر نافذ العمل ہونے سے پہلے ابھی کافی کام ہونا باقی ہے۔

اس مقصد کے لیے مزید قانون سازی درکار ہوگی، تفصیلی ضوابط ابھی تیار کیے جانے ہیں اور مقامی حکام کو بھی وہ وسائل فراہم کرنا ہوں گے جو کسی نئے ضابطہ جاتی نظام کے مؤثر نفاذ کے لیے ضروری ہوں گے۔

Surgery
Getty Images
سنہ 2013 سے اب تک آنے والی مختلف حکومتیں اس شعبے میں اصلاحات کی ضرورت کو تسلیم کرتی رہی ہیں

اس دوران انگلینڈ میں وزرا نے اشارہ دیا ہے کہ مجوزہ درجہ بندی کے تحت سب سے زیادہ خطرناک پروسیجرز کو ترجیحی بنیادوں پر ’ریڈ کیٹیگری‘ میں شامل کیا جائے گا۔

توقع ہے کہ اس زمرے میں نان سرجیکل بی بی ایل (برازیلین بٹ لفٹ)، نان سرجیکل فیس لفٹ اور فلرز کے ذریعے جسمانی ساخت میں تبدیلی لانے والے علاج شامل ہوں گے، جن کے ذریعے پیٹ، رانوں یا کولہوں جیسے جسم کے حصوں کی شکل میں تبدیلی کی جاتی ہے۔

رینکن کہتے ہیں کہ اس بات پر وسیع پیمانے پر اتفاقِ رائے موجود ہے کہ بعض پروسیجرز واقعی صرف مناسب تربیت اور اہلیت رکھنے والے پیشہ ور افراد تک محدود ہونے چاہییں۔

اصلاحات کے حامیوں کو امید ہے کہ مجوزہ لائسنسنگ نظام کے تحت بالآخر نہ صرف پروسیجر انجام دینے والے افراد بلکہ ان مقامات اور کلینکس کے لیے بھی لائسنس حاصل کرنا لازمی قرار دیا جائے گا، جہاں یہ خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔

کیوگ ریویو کی جانب سے ڈرمل فلرز کو ’ایک بحران‘ قرار دیے جانے کے ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے بعد اصلاحات کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اب مسئلہ صرف وارننگ دینے کی کمی تک ہی محدود نہیں رہا ہے۔

تاہم، نئے قوانین متعارف کرائے جانے کے باوجود ایک بڑا چیلنج یہ رہے گا کہ پہلے سے موجود ضوابط اور نئی پابندیوں پر مؤثر عمل درآمد کیسے یقینی بنایا جائے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US