سابق وفاقی وزیر خزانہ اور پاکستان عوام پارٹی کے جنرل سیکریٹری مفتاح اسماعیل نے کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سندھ حکومت کی 18سالہ کارکردگی اور ملکی معاشی صورتحال پر کڑی تنقید کی ہے۔
انہوں نے ایک عالمی جریدے کی درجہ بندی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کے 173 رہنے کے قابل شہروں میں کراچی 170ویں نمبر پر آیا ہے، جو تعلیم، صحت اور بنیادی ڈھانچے کی تباہ حالی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ جنگ زدہ شہر بھی اس فہرست میں کراچی سے اوپر ہیں، جب کہ شہر میں اب انفراسٹرکچر خراب نہیں بلکہ سرے سے موجود ہی نہیں ہے، اور یونیورسٹی روڈ بھی مبینہ کرپشن کی وجہ سے نہیں بن سکا۔
مفتاح اسماعیل نے تعلیمی نظام پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پورے ملک میں تعلیم کا سب سے برا حال سندھ میں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وفاقی اردو یونیورسٹی کے اساتذہ اور پی ایچ ڈی پروفیسرز کو تین ماہ سے تنخواہیں اور ریٹائرڈ ملازمین کو پینشن نہیں مل رہی، جو اردو زبان اور یونیورسٹی کے ساتھ زیادتی ہے۔ انہوں نے صدرِ پاکستان آصف علی زرداری اور ایم کیو ایم کے سربراہ خالد مقبول صدیقی سے اس مسئلے کے فوری حل کی اپیل کی۔
پیٹرولیم مصنوعات اور مہنگائی پر بات کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ ایران میں بم گرنے کا اثر پاکستان میں پیٹرول بم کی صورت میں نکلتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی ٹیکس 18 فیصد سے بڑھا کر 34 فیصد کردیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فروری سے اپریل کے دوران جب آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ریفائنریز نے بھاری منافع کمایا تو حکومت خاموش رہی، اور اب ان کے برے دنوں میں حکومت کو ان کا خیال آگیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ فروری میں پیٹرول کی قیمتیں غلط طریقے سے بڑھائی گئیں اور ریفائنریز کو 75 ارب روپے سے نوازا گیا جس کی انکوائری اب وزیر اعظم خود کرا رہے ہیں۔ معیشت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پچھلے چار سالوں میں مہنگائی میں 78 فیصد اضافہ ہوا، یعنی سو روپے والی چیز اب 178 روپے کی ہوچکی ہے۔ ملک میں غربت اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ ہر 10 میں سے 3 پاکستانیوں کو ماہانہ 9 ہزار روپے بھی میسر نہیں ہیں، جب کہ گذشتہ 40 سالوں میں بیرونی سرمایہ کاری کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ موجودہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو اسحاق ڈار کام کرنے سے روکتے ہیں۔ صحافیوں کے ساتھ غیر رسمی گفتگو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر معیشت بہتر نہیں ہو رہی تو کیا وزیر اعظم کو ہٹ جانا چاہیے؟ تو مفتاح اسماعیل نے جواب دیا کہ وزیر اعظم کو ہٹ جانا چاہیے کیونکہ وہ منتخب وزیراعظم نہیں ہیں اور حاکمِ وقت انہیں ہٹا سکتا ہے۔
وفاقی وزیر محسن نقوی سے متعلق سوال پر انہوں نے تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہا کہ ان پر بات کرنے سے ڈر لگتا ہے کہ کہیں رات کو پولیس گھر نہ آجائے، کیونکہ انہیں رات کے وقت پولیس سے مار کھانا اچھا نہیں لگتا۔