امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے صدر کی ہدایت پر ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے تیسرے مرحلے کا آغاز کرتے ہوئے 140 ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے قبرص کے ایک تجارتی کنٹینر بردار جہاز پر کروز میزائل حملے کے جواب میں کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں جہاز کے انجن روم کو شدید نقصان پہنچا، آگ بھڑک اٹھی اور عملے کا ایک رکن لاپتہ ہو گیا۔
امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران نے غلط فیصلہ کیا اور اب اسے اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
پاسدارانِ انقلاب کا امریکی کمانڈ سینٹر اور ڈرون ہینگر تباہ کرنے کا اعلان
دوسری جانب، ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے بحری جہاز کو نشانہ بنانے کی تصدیق کرتے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ مذکورہ جہاز نے اپنی شناخت اور ٹریکنگ نظام بند کرکے مقررہ راستے سے انحراف کیا تھا، جس پر انتباہی فائرنگ کے بعد میزائل داغا گیا۔
ایران نے امریکی مداخلت کے خاتمے تک آبنائے ہرمز کو ہر قسم کی بحری آمدورفت کے لیے مکمل بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ مزید برآں، تہران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکی حملوں کے جواب میں اردن، قطر، یو اے ای، کویت، بحرین اور عمان میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا ہے، جس میں اردن کے اندر ایک امریکی کمانڈ سینٹر اور ڈرون ہینگر کو تباہ کرنا بھی شامل ہے۔