ٹرمپ کا یو ٹرن، آبنائے ہرمز پر فیس سے پسپائی: ایران جنگ کے خاتمے میں مشکلات کا اشارہ

آبنائے ہرمز پر ٹرمپ کا یو ٹرن اس بات کا تازہ ترین ثبوت ہے کہ صدر کے پاس آگے بڑھنے کا کوئی واضح راستہ دکھائی نہیں دیتا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
Bloomberg via Getty Images

ڈونلڈ ٹرمپ نے 24 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں آبنائے ہرمز پر محصول نافذ کرنے سے متعلق اپنا بیان واپس لے لیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکی صدر ایک مشکل صورتحال سے نکلنے کے لیے غیر روایتی راستے تلاش کر رہے ہیں۔

پیر کی صبح، ایرانی جہاز رانی پر امریکی بحری ناکہ بندی کی بحالی کے اعلان سے متعلق ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں انھوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام جہازوں کو 20 فیصد فیس ادا کرنا ہو گی تاکہ ’دنیا کے اس انتہائی غیر مستحکم حصے میں تحفظ اور سلامتی فراہم کرنے‘ پر امریکہ کے جو اخراجات اٹھیں گے، ان کی واپسی ہو سکے۔

اگلے روز، انھوں نے یہ تجویز واپس لے لی اور اس کے بجائے کہا کہ وہ امریکہ کے خلیجی اتحادیوں کے ساتھ ’تجارت اور سرمایہ کاری کے معاہدے‘ کریں گے، مطلب یہ کہ امریکہ بدلے میں ان ممالک کو آبنائے سے محفوظ گزر گاہ فراہم کرے گا۔

ٹرمپ کا اپنے مؤقف سے اچانک پیچھے ہٹنا چار ماہ سے جاری امریکہ، ایران تنازع کا تازہ ترین موڑ تھا۔

ایک ماہ قبل دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے باوجود اس تنازع کے خاتمے کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ حالانکہ مفاہمتی یادداشت نے عارضی جنگ بندی کو یقینی بنایا تھا اور مزید مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک قائم کیا تھا۔

ہو سکتا ہے کہ ٹرمپ جنگ میں مزید شدت لانے سے گریزاں ہوں کیوں کہ یہ مسلسل غیر مقبول ہوتی جا رہی ہے، اس کی وجہ سے توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ہے اور امریکہ کی افواج اور اتحادیوں پر ایک بار پھر ایرانی حملوں کے خطرات بھی موجود ہیں۔

تاہم امریکی صدر کے لیے یہ امکان بھی نا گوار ہو گا کہ وہ کسی ایسے معاہدے کے بغیر تنازع ختم کریں جس کے بارے میں وہ دعویٰ کر سکیں کہ وہ 2015 میں باراک اوباما کی حکومت کے طے کردہ معاہدے سے بہتر ہے۔

ڈیفنس پریارٹیز میں مشرقِ وسطیٰ پروگرام کی ڈائیریکٹر روزمیری کیلانیڈ نے کہا: ’میرے خیال میں سب سے زیادہ امکان اسی بات کا ہے کہ اس کا کوئی اختتام نہ ہو۔ یہ ایک تھکا دینے والی جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے اور ایسی جنگیں عموماً بہت طویل عرصے تک جاری رہتی ہیں۔‘

امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمت کی یادداشت اور اس سے وابستہ جنگ کے خاتمے کی امیدیں منگل کو اس وقت دم توڑ گئیں جب ٹرمپ نے ایران پر امریکی حملوں کے دوران اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز پر ناکہ بندی بھی دوبارہ نافذ کی جا رہی ہے۔

جواباً ایران نے خطے میں امریکی اتحادیوں اور تجارتی بحری جہازوں پر حملے مزید شدید کر دیے، جس سے آبنائے ہرمز کے ذریعے ہونے والی آمد و رفت ایک بار پھر تقریباً معطل ہو گئی۔

اس وقت ٹرمپ اور امریکہ کو ایک بار پھر بظاہر انھی چیلنجز کا سامنا ہے جو ایران سے مذاکرات سے پہلے درپیش تھے۔

مذاکرات سے پہلے اگرچہ فوجی اعتبار سے امریکی اپنے مقاصد حاصل کر رہے تھے، ایران میں موجود اہداف کو تباہ کیا جا رہا تھا، لیکن سیاسی طور پر تنازع ابھی تک حل نہیں ہوا تھا۔

عسکری لحاظ سے کمزور ہونے کے باوجود ایران آبنائے ہرمز تک رسائی روک سکتا تھا۔ اور جب تک امریکی خطے میں اپنی فوجی کارروائیوں میں ڈرامائی حد تک اضافہ کرنے پر آمادہ نہ ہوں، ان کے پاس ایران کو روکنے کے لیے بہت کم اختیارات تھے۔

اور پھر ایک نیا موڑ آیا جب ٹرمپ نے 20 فیصد فیس وصول کرنے کا اعلان کیا۔ یہ اعلان ممکنہ طور پر اس لیے تھا کہ ایران میں جاری عسکری کارروائیوں کو امریکی عوام کے لیے زیادہ قابلِ قبول بنایا جا سکے۔

البتہ یہ اعلان بھی مکمل طور پر نیا نہیں تھا، یہ تجویز ٹرمپ جنگ کے دوران کئی مواقع پر پیش کر چکے تھے۔

لیکن ابھی ایک ماہ پہلے تو امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی جہازوں پر ’فیس‘ عائد کرنے کے ایرانی منصوبے کی مذمت کی تھی۔

انھوں نے کہا تھا: ’کسی بھی ملک کو بین الاقوامی آبی گزر گاہ پر محصولات یا فیس عائد کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ موجودہ بین الاقوامی قانون ہے۔ دنیا بھر کی بین الاقوامی آبی گزر گاہوں میں یہی اصول لاگو ہوتا ہے، اور ہماری توقع ہے کہ یہاں بھی ایسا ہی ہو گا۔‘

آبنائے ہرمز پر ٹرمپ کا یو ٹرن اس بات کا تازہ ترین ثبوت ہے کہ صدر کے پاس آگے بڑھنے کا کوئی واضح راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ مفاہمت کی یادداشت کو امریکہ اور ایران دونوں نے ہی اپنی اپنی کامیابی قرار دیا تھا، لیکن جان بوجھ کر اسے مبہم رکھا گیا تھا اور بہت سی تفصیلات بعد کے مذاکرات پر چھوڑ دی گئی تھیں۔

اس دستاویز میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی نگرانی میں ایران کے لیے ایک کردار کا تصور پیش کیا گیا تھا۔ اس میں لکھا تھا کہ ایران خلیج فارس اور بحیرۂ عمان کے درمیان تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کے لیے اپنی بہترین کوششیں کرے گا اور 60 دن تک کسی قسم کا محصول یا فیس وصول نہیں کرے گا۔

یہ وہ کردار ہے جسے ادا کرنے پر ایران اصرار کرتا ہے۔ مفاہمت کی یادداشت میں ایران میں اربوں ڈالر کی ’سرمایہ کاری‘ اور بین الاقوامی پابندیوں کے خاتمے کے بھی وعدے تھے۔

امریکیوں کا شاید خیال تھا کہ یہ مراعات اور یادداشت میں درج شقوں پر عمل نہ کرنے کے نتائج سے متعلق انتباہات ایران کو آبنائے ہرمز پر زیادہ مضبوط کنٹرول نافذ کرنے سے باز رکھیں گے۔

لیکن کم از کم فی الحال یہ اندازہ غلط ثابت ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

کیلانیڈ نے کہا: ’مفاہمت کی یادداشت مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے۔ اس میں درج تمام چیزیں اب واپس لی جا چکی ہیں۔‘

اب ٹرمپ اور ایرانی ایک بار پھر مشکل صورتحال میں ہیں۔ ایران کو دوبارہ ملک بھر میں امریکی فوجی حملوں کا سامنا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ اپنی علاقائی خود مختاری کے دفاع میں ناکام ہے۔ اس پر ناکہ بندی بھی پھر سے عائد کر دی گئی ہے جس کے باعث ایرانی نظام کے لیے اہم سہارا، جو کہ تیل کی آمدنی ہے، ایک بار پھر منقطع ہو چکی ہے۔

دوسری جانب، ٹرمپ کو بھی انتخاب کرنا ہے کہ کیا وہ ایک بار پھر ایران پر حملے بڑھا کر اس کی سیاسی اور اقتصادی قیمت ادا کریں گے یا کسی ایسے تصفیے تک پہنچیں گے جس کے نتیجے میں مخالف ایرانی حکومت اقتدار میں رہے۔

کونسل آن فارن ریلیشنز میں مشرقِ وسطیٰ سے متعلق سینیئر فیلو ایلیٹ ایبرامز نے کہا: ’ہم دوبارہ وہیں پہنچ گئے ہیں جہاں ابتدا میں تھے، جب اصل سوال یہ تھا کہ زیادہ صبر کس کے پاس ہے؟ ایرانیوں کے پاس، جو تیل برآمد نہیں کر سکیں گے، یا امریکہ اور دوسرے ممالک کے پاس جو خلیج فارس کا تیل استعمال کرتے ہیں؟‘

ایران جنگ کے نتیجے میں بڑھتی مہنگائی کے باعث مقبولیت کو نقصان پہنچنے کے خدشات کا کئی ماہ تک سامنا کرنے کے بعد منگل کے روز ٹرمپ کو ایک اچھی خبر ملی کہ قیمتیں کم ہو رہی ہیں۔

اگر ایران کے خلاف جنگی کارروائیاں پھر سے مکمل طور پر بحال کی جاتی ہیں، یا تنازع میں مزید شدت آتی ہے تو دوبارہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہے اور نومبر میں ہونے والے وسط مدتی کانگریسی انتخابات سے قبل ریپبلکنز ایک بار پھر نازک صورتحال سے دوچار ہو جائیں گے۔

پیر کے روز، ٹرمپ کی ٹروتھ سوشل پوسٹ کے بعد، تیل کے ایک بیرل کی قیمت تقریباً 10 فیصد بڑھ گئی، جو چھ برسوں میں ایک دن کے دوران سب سے بڑا اضافہ تھا۔

تیل کی بڑھتی قیمتیں
AFP via Getty Images

پہلی بار جب یہ حکمتِ عملی اپنائی گئی تھی، تو ٹرمپ کی ناکہ بندی نے ایرانیوں کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کرنے میں مدد دی تھی اور مفاہمت کی یادداشت اور نسبتاً پائیدار امن کے ایک فریم ورک کی راہ ہموار کی تھی۔

اب، کیلانیڈ کے مطابق، ہو سکتا ہے کہ ایران پر صدر ٹرمپ کے اثر و رسوخ میں کمی آ گئی ہو۔

انھوں نے کہا: ’ٹرمپ پہلے ہی وہ اقدامات آزما چکے ہیں جو وہ آسانی سے کر سکتے تھے۔ وہ فوجی اہداف اور حکومتی اہداف پر حملے کر سکتے ہیں، لیکن یہ کام تو وہ پہلے بھی کر چکے ہیں اور اس سے ایران نے ہتھیار نہیں ڈالے۔‘

ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں جس ہدف کا ذکر کیا ہے وہ پک ایکس ماؤنٹین ہے، جو تہران کے جنوب میں واقع ایک انتہائی مضبوط حفاظتی انتظامات والا جوہری تحقیقی مرکز ہے۔ لیکن اس مقام کی اہمیت کے بارے میں متضاد شواہد موجود ہیں، اور یہ بھی واضح نہیں کہ آیا امریکی فضائی حملے گرینائٹ چٹانوں کے نیچے گہرائی میں واقع سرنگوں کو قابلِ ذکر نقصان پہنچا سکتے ہیں یا نہیں۔

اگر ٹرمپ کے تازہ ترین اقدامات کا نتیجہ ایک اور جنگ بندی اور آمنے سامنے مذاکرات کی صورت میں نکلتا ہے، تب بھی بنیادی اختلافات برقرار رہیں گے، جیسے کہ آبنائے ہرمز، ایران کے جوہری پروگرام کا مستقبل، اور مشرق وسطیٰ میں ایران کا اثر و رسوخ۔

ایبرامز نے کہا: ’میرے خیال میں آبنائے ہرمز سے متعلق کسی معاہدے پر مذاکرات کی گنجائش موجود ہے۔ لیکن مفاہمت کی یادداشت کی طرف واپسی ممکن نہیں۔‘

جنگ کو اب پانچ ماہ ہونے والے ہیں اور ٹرمپ نے پیر کو ایک بار پھر نشاندہی کی کہ دیگر امریکی تنازعات، بشمول ویتنام جنگ، برسوں تک جاری رہے تھے۔

تاہم اس جنگ نے لنڈن بینز جانسن کی صدارت کو کمزور کر کے بالآخر ختم کر دیا تھا اور کم از کم ایک دہائی تک امریکہ کی عالمی حیثیت کو نقصان پہنچایا تھا۔

ٹرمپ یقیناً ایسے انجام سے بچنا چاہتے ہیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US