گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے کہا ہے کہ پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام میں تیزی سے ترقی ہو رہی ہے اور گزشتہ ایک سال کے دوران ریٹیل ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز کی تعداد تقریباً دوگنا ہو گئی ہے جبکہ فعال مرچنٹس کی تعداد بھی پانچ لاکھ سے بڑھ کر 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔
ایچ بی ایل، یونین پے انٹرنیشنل اور پے پاک کے مشترکہ کو-بیجڈ ڈیبٹ کارڈ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ یہ اقدام پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ، مالی شمولیت اور "کیش لیس پاکستان" کے وژن کو حقیقت کا روپ دینے کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران ریٹیل ڈیجیٹل لین دین کی تعداد تقریباً 6.9 ارب سے بڑھ کر 12 ارب تک پہنچ گئی جبکہ فعال مرچنٹس کی تعداد 5 لاکھ سے بڑھ کر 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ اسی طرح 13 کروڑ 70 لاکھ پاکستانی موبائل بینکنگ ایپس استعمال کر رہے ہیں، جبکہ ڈیجیٹل ذرائع سے موصول ہونے والی ترسیلاتِ زر کا تناسب 80 فیصد سے بڑھ کر 92 فیصد ہو گیا ہے۔
جمیل احمد کا کہنا تھا کہ یہ اعدادوشمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوام کا ڈیجیٹل مالیاتی خدمات پر اعتماد بڑھ رہا ہے اور پاکستان تیزی سے ایک شمولیتی اور کیش لیس معیشت کی جانب گامزن ہے۔
انہوں نے کہا کہ کو-بیجڈ ڈیبٹ کارڈ مقامی ادائیگیوں کے نظام پے پاک کو عالمی ادائیگی نیٹ ورک یونین پے سے جوڑتا ہے جس سے صارفین کو ملک کے اندر اور بیرونِ ملک محفوظ اور آسان لین دین کی سہولت میسر آئے گی۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے زور دیا کہ ملکی ڈیبٹ کارڈز کے اجرا میں پے پاک کو ترجیح دی جائے جبکہ بینک، فِن ٹیک ادارے، ادائیگی فراہم کرنے والے ادارے اور مرچنٹس ڈیجیٹل ادائیگیوں کے فروغ، سائبر سیکیورٹی کے استحکام اور صارفین میں آگاہی بڑھانے کے لیے مشترکہ کردار ادا کریں۔
انہوں نے ایچ بی ایل، یونین پے انٹرنیشنل، پے پاک اور ون لنک کو اس شراکت داری پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات پاکستان میں ڈیجیٹل معیشت کو مضبوط بنانے اور نقدی پر انحصار کم کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔