وفاقی حکومت نے حج و عمرہ ایکٹ 2024 کے تحت نئے عمرہ رولز کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا، جس کے تحت عمرہ انتظامات، ریگولیشن اور نگرانی کا مکمل اختیار وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کو سونپ دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق اب صرف وہی کمپنیاں عمرہ خدمات فراہم کرنے کی مجاز ہوں گی جو وزارت مذہبی امور سے باقاعدہ تصدیق شدہ ہوں گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ نئے قواعد کا مقصد عمرہ انتظامات کو مزید شفاف، منظم اور مؤثر بنانا ہے۔
وزارت مذہبی امور نے نئی عمرہ پالیسی کی تیاری کے لیے عمرہ پالیسی کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔ ایڈیشنل سیکرٹری مذہبی امور کمیٹی کے چیئرمین ہوں گے جبکہ وزارت داخلہ، وزارت خارجہ، وزارت قانون و انصاف اور کابینہ ڈویژن کے اعلیٰ افسران کمیٹی کے ارکان کے طور پر شامل ہوں گے۔ کمیٹی متعلقہ فریقین سے مشاورت کے بعد پالیسی مرتب کرے گی، جسے وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد نافذ کیا جائے گا۔
وزارت نے تمام عمرہ کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ وزارت کی ویب سائٹ پر جاری کردہ طریقہ کار کے مطابق اپنے نسک معاہدوں کی فوری تصدیق مکمل کریں تاکہ انہیں مستند عمرہ آپریٹرز کی سرکاری فہرست میں شامل کیا جا سکے۔ تصدیق شدہ کمپنیوں کی فہرست وزارت کی ویب سائٹ پر بھی جاری کی جائے گی تاکہ عوام مستند آپریٹرز کا آسانی سے انتخاب کر سکیں۔
وزارت مذہبی امور نے عمرہ زائرین کو بھی مشورہ دیا ہے کہ وہ صرف وزارت سے منظور شدہ کمپنیوں کے ذریعے ہی اپنی بکنگ کروائیں۔ وزارت نے خبردار کیا ہے کہ غیر رجسٹرڈ یا غیر مصدقہ کمپنیوں کے ذریعے بکنگ کی صورت میں پیش آنے والے مسائل کی ذمہ داری متعلقہ افراد پر ہوگی، جبکہ وزارت صرف تصدیق شدہ کمپنیوں سے متعلق موصول ہونے والی شکایات پر کارروائی کرے گی۔
وزارت نے زائرین کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ عمرہ پیکیج کی تمام ادائیگیاں بینکنگ چینل کے ذریعے کریں اور ادائیگی کی رسید، معاہدہ اور دیگر ضروری دستاویزات محفوظ رکھیں تاکہ کسی بھی شکایت یا تنازع کی صورت میں ان کے حقوق کا مؤثر تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔