وفاقی دارالحکومت کے راول ڈیم میں ہزاروں مچھلیوں کی ہلاکت نے شہریوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ بنی گالا اور ڈھوکڑی چوک کے اطراف ڈیم کے کناروں پر بڑی تعداد میں مردہ مچھلیاں جمع ہونے سے علاقے میں شدید تعفن پھیل گیا ہے جس کے باعث مقامی آبادی کو مشکلات کا سامنا ہے۔
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ کئی روز سے مسلسل مردہ مچھلیاں پانی کے کناروں پر آ رہی ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ سال بھی مبینہ طور پر زہریلے کیمیکل کے باعث سیکڑوں مچھلیاں ہلاک ہوئی تھیں، تاہم ذمہ دار عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہونے کے باعث صورتحال ایک بار پھر سامنے آئی ہے۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر پانی میں آلودگی یا زہریلے مادوں کی بروقت اور جامع تحقیقات نہ کی گئیں تو اس کے اثرات صرف آبی حیات تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ انسانی صحت اور ماحول پر بھی سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کے محکمہ فشریز کا کہنا ہے کہ ابتدائی جائزے کے مطابق مچھلیوں کی ہلاکت کی ممکنہ وجوہات میں ڈیم میں پانی کی کم سطح اور حالیہ شدید گرمی شامل ہیں۔ تاہم حتمی وجہ معلوم کرنے کے لیے پانی کے نمونے حاصل کر کے مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ آیا پانی میں کسی زہریلے کیمیکل یا آلودہ مادے کی آمیزش تو نہیں ہوئی۔