لانا عیسیٰ انٹرنیٹ پر ابھرنے والے ایک ایسے بڑھتے ہوئے مگر نسبتاً محدود حلقے کا حصہ ہیں، جہاں مواد تخلیق کرنے والے، خصوصاً خواتین، اکیلے رہنے سے جڑی اپنی روزمرہ عادات اور رسومات شیئر کرتی ہیں۔
’سولو‘ زندگی کے سکون کو شیئر کرنے والے انفلوئنسرز سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کر رہے ہیںجمعے کی رات ہے۔ ایک نوجوان خاتون دن بھر کام کرنے کے بعد تھکی ہاری اپنے اپارٹمنٹ واپس آتی ہیں۔ وہ چمکتے ہوئے صاف ستھرے باورچی خانے میں داخل ہوتی ہیں، شاپنگ بیگ خالی کرتی ہیں اور فریزر سے پیزا نکال کر اوون میں گرم کرنے رکھ دیتی ہیں۔
اس کے بعد ان کی روزمرہ روٹین کا ایک ایسا حصہ شروع ہوتا ہے، جو اپنی سادگی میں کسی مراقبے سے کم محسوس نہیں ہوتا۔
وہ ایک موم بتی روشن کرتی ہیں، چند لمحوں کے لیے کھڑکی سے باہر برف سے ڈھکے منظر کو خاموشی سے دیکھتی ہیں، پھر پیزا کے ساتھ تیار شدہ سلاد پلیٹ میں سجاتی ہیں اور ٹی وی کے سامنے کھانا کھانے کے لیے اپنے صوفے پر آ بیٹھتی ہیں۔
اس منظر کے ساتھ ویڈیو پر درج عبارت کچھ یوں ہے: ’پی او وی: آپ ایک غیر شادی شدہ اور بے اولاد خاتون ہیں، آپ کے کوئی دوست نہیں اور آپ اکیلی رہتی ہیں، اس لیے آپ کی جمعے کی رات کچھ اس طرح گزرتی ہے۔‘
اس ویڈیو میں مرکزی شخصیت ٹورنٹو میں رہائش پزیر سافٹ ویئر سیلز مینیجر لانا عیسیٰ ہیں، جن کی یہ ٹک ٹاک ویڈیو سات ملین سے زیادہ مرتبہ دیکھی جا چکی ہے۔
اپنی رات کے ’سیلف کیئر‘ کے معمولات دکھانے کے علاوہ وہ ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر موجود اپنے تقریباً چار لاکھ فالوورز کے ساتھ زندگی کے مختلف لمحات بھی شریک کرتی ہیں۔
کبھی وہ رات گئے فاسٹ فوڈ لینے نکلتی ہیں، کبھی جھیل کنارے ایک چٹان پر بیٹھ کر مطالعہ کرتی ہیں اور کبھی آدھی رات کو اپنے ہی اپارٹمنٹ سے باہر بند ہو جانے کا قصہ سناتی نظر آتی ہیں۔
لانا عیسیٰ انٹرنیٹ پر ابھرنے والے ایک ایسے بڑھتے ہوئے مگر نسبتاً محدود حلقے کا حصہ ہیں، جہاں مواد تخلیق کرنے والے، خصوصاً خواتین، اکیلے رہنے سے جڑی اپنی روزمرہ عادات اور رسومات شیئر کرتی ہیں۔
ان کا مواد ایسے طرزِ زندگی کی عکاسی کرتا ہے جس میں سکون، خودمختاری اور تنہائی کو ترجیح دی جاتی ہے، جو سوشل میڈیا کی ہنگامہ خیز اور توجہ طلب دنیا کے بالکل برعکس ہے۔
لانا عیسیٰ کے مطابق اپنی زندگی کے ’کوئی دوست نہیں‘ والے پہلو کو نمایاں کرنا محض ایک دل چسپ جملہ یا سوشل میڈیا کا حربہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک ایسی حقیقت تھی جس کے ساتھ وہ کئی برسوں سے زندگی گزار رہی تھیں۔
اکیلی مگر تنہا نہیں
لانا عیسیٰ کہتی ہیں کہ ان کی ویڈیوز ان کی حقیقی زندگی دکھاتی ہیں اور ان کا مقصد کبھی بھی ’دوست نہ ہونے کو دلکش بنانا‘ نہیں تھامتعدد ہائی سکول تبدیل کرنے، کالج کے زمانے میں کووِڈ وبا کے باعث تنہائی کا سامنا کرنے اور پہلی محبت میں ناکامی کے بعد ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے منتقل ہونے کے بعد لانا عیسیٰ خود کو ایسی صورتحال میں پاتی ہیں جہاں انھیں قریبی دوستوں کے بغیر اکیلے زندگی گزارنے کی عادت ڈالنا پڑتی ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’لوگوں میں دوست نہ ہونے کے بارے میں بات کرنے کا رجحان بہت کم ہے۔ میرے خیال میں آج بھی بہت سے لوگ اسے شرمندگی کا باعث یا کسی حد تک ممنوع موضوع سمجھتے ہیں۔‘
جب انھوں نے سوشل میڈیا پر اپنی اس تنہائی اور دوستوں سے محرومی کے تجربے کو کھل کر بیان کرنا شروع کیا تو آہستہ آہستہ ایک ایسا حلقہ وجود میں آنے لگا جو ان کی بات سے خود کو جوڑ پاتا تھا۔
ٹک ٹاک پر ان کے تقریباً دو ہزار فالوورز صرف آٹھ ماہ کے دوران بڑھ کر ایک لاکھ پچھتر ہزار سے تجاوز کر گئے۔
وہ کہتی ہیں ’میرے لیے یہ دیکھنا حیران کن تھا کہ کتنے لوگ میری ہی طرح کی زندگی گزار رہے تھے۔ اور شاید ایک طویل عرصے بعد پہلی بار مجھے یہ احساس ہوا کہ میں دوسروں سے تعلق اور وابستگی محسوس کر سکتی ہوں۔‘
اور یہی ہوا۔
جلد ہی عیسیٰ کی ویڈیوز کے کمنٹس ایسے لوگوں کے تجربات سے بھر گئے جو اکیلے رہتے تھے یا دوست نہ ہونے کی کیفیت سے گزر رہے تھے۔ ان میں سے بہت سے لوگوں نے اس بات پر سکون اور اطمینان کا اظہار کیا کہ کسی نے ان کے تجربے کی عکاسی کی اور انھیں یوں محسوس ہوا جیسے انھیں واقعی دیکھا اور سمجھا جا رہا ہو۔
زیادہ تر دیگر آن لائن رجحانات کی طرح ابتدا میں جس چیز نے لوگوں کا تجسس جگایا، وہ ہی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تنقید اور مخالفت کی وجہ بن گئی۔
لانا عیسیٰ اور ان جیسی دیگر خواتین کو ’لونلی نیس انفلوئنسرز‘ کا نام دیا جانے لگا۔ بعض ناقدین نے انھیں ایک ایسے نئے سماجی رجحان کی علامت قرار دیا، جس میں اداس، تنہا اور بے اولاد خواتین اپنی زندگیوں کو سوشل میڈیا پر پیش کر رہی ہیں۔
کچھ لوگوں نے ان پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ خود اختیار کردہ تنہائی کو دلکش بنا کر پیش کر رہی ہیں اور سماجی روابط سے دوری کو ایک قابلِ قبول، بلکہ پسندیدہ طرزِ زندگی کے طور پر فروغ دے رہی ہیں۔ ناقدین کے نزدیک یہ رجحان دراصل ’آرام دہ شکست پسندی‘ کی ایک شکل ہے۔
یہ خواتین تنہا کافی یا کھانے کے لیے نکل پڑتی ہیں، اچانک سڑکوں پر طویل سفر کے لیے نکل پڑتی ہیں، نئی جگہیں دریافت کرتی ہیں اور اکیلے تقریبات میں شرکت سے جڑی جھجک اور بے یقینی کا سامنا بھی کرتی ہیں۔ ان کے نزدیک اکیلا رہنا گوشہ نشینی نہیں، بلکہ خود انحصاری، آزادی اور اپنی رفاقت میں آسودگی تلاش کرنے کا ایک طریقہ ہے۔
تنہائی سے وابستہ بدنامی کا خاتمہ
فینکس، ایریزونا میں مقیم کل وقتی انفلوئنسر اور خود کو انٹروورٹ (کم میل جول کر ترجیح دینے والی) قرار دینے والی ڈیون نوہرنگ کے لیے یہ دیکھنا مایوس کن رہا ہے کہ ان کے اکیلے گزرنے والے ویک اینڈز، جن میں وہ کھانا پکاتی ہیں، کتابیں پڑھتی ہیں یا اپنے کتے کے ساتھ گھر میں سکون سے وقت گزارتی ہیں، محض خواتین کی تنہائی کی علامت کے طور پر پیش کیے جا رہے ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’یہ ہماری ویڈیوز کے اصل مقصد کے بالکل برعکس ہے۔‘
’مجھے اس خیال سے نفرت ہے کہ اکیلا ہونا لازماً تنہا ہونے کے مترادف سمجھا جائے۔‘
اگرچہ نوہرنگ کے دوستوں کا ایک قریبی حلقہ موجود ہے، لیکن بچپن میں وہ اپنی سماجی بے چینی کے باعث ایک خاموش اور کم گو لڑکی کے طور پر جانی جاتی تھیں اور اس بات پر اکثر شرمندگی محسوس کرتی تھیں۔
ان کا کہنا ہے کہ جب انھوں نے سوشل میڈیا پر اپنی جھجھک اور غیر یقینی کیفیت کے بارے میں کھل کر بات کرنا شروع کی تو انھیں ایسے لوگوں کی ایک پوری کمیونٹی مل گئی جو ان کے تجربات سے خود کو جوڑ سکتے تھے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے اکیلے رہتے ہوئے سب سے زیادہ آزادی ملتی ہے اور اسی وقت میں خود کو اپنی اصل شخصیت کے قریب محسوس کرتی ہوں۔‘
’میں اپنی توانائی اسی طرح بحال کرتی ہوں۔ مجھے خود مختار ہونے اور اپنے کام خود انجام دینے پر فخر ہے اور میرے خیال میں یہ ایسی خوبی ہے جس کا اعتراف اور جشن منایا جانا چاہیے۔‘
ایک خاتون اپنے فون کے ساتھ ایک صوفے پر بیٹھی ہے، جس پر مختلف رنگوں کے تکیے ہیں، وہ گلابی کمبل اوڑھے ہوئے ہے اور اس کے پاس ایک کتا بیٹھا ہےسڈنی یونیورسٹی میں سماجی روابط اور تنہائی پر تحقیق کرنے والی وبائی امراض کی ماہر پروفیسر میلوڈی ڈِنگ کہتی ہیں کہ ’ہر شخص کسی نہ کسی وقت تنہائی محسوس کرتا ہے، لیکن کچھ لوگ اسے تسلیم کرنے میں راحت محسوس نہیں کرتے۔‘
’اس سے یہ غلط توقع پیدا ہو سکتی ہے کہ آپ کو ہر وقت سماجی طور پر خوش اور دوسروں سے جڑا ہوا ہونا چاہیے۔‘
تاہم وہ خبردار کرتی ہیں کہ اگرچہ انفلوئنسرز اکیلے رہنے کو ’بہت دلکش‘ بنا کر پیش کر سکتے ہیں، لیکن انسانوں کو سماجی روابط کی ضرورت ہوتی ہے اور شدید تنہائی کے چکر میں پھنس جانا ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
میلوڈی ڈِنگ کہتی ہیں کہ ’ہم ایک سماجی نوع ہیں۔‘
’ہم ساتھ، رفاقت اور لوگوں کی موجودگی میں بہتر طور پر زندہ رہتے ہیں۔‘
وہ تسلیم کرتی ہیں کہ زندگی کے مختلف مراحل میں لوگوں کی سماجی ضروریات مختلف ہوتی ہیں، لیکن ان کی امید یہ ہے کہ جن لوگوں نے تعلقات کھو دیے ہیں وہ اپنی زندگی میں دوست نہ ہونے کے پہلو پر کم زور دیں اور نئے سماجی تعلقات قائم کریں۔
میلوڈی ڈِنگ مزید کہتی ہیں کہ ’یہ اہم ہے کہ ہماری زندگی میں لوگ ہوں اور یہ بھی اہم ہے کہ یہ تعلقات مثبت ہوں اور ہماری زندگی کو تقویت دیں۔‘
’ہم ایسے لوگوں کو تلاش کرنا چاہتے ہیں جن سے ہم خود کو وابستہ محسوس کریں‘
یہ خواتین کہتی ہیں کہ اگرچہ وہ کبھی کبھار تنہائی محسوس کرتی ہیں، لیکن یہ احساس ان کی پوری زندگی کی نمائندگی نہیں کرتا۔ نہ ہی وہ ہمیشہ دوستوں کے بغیر رہنے کو اپنی پسندیدہ حالت سمجھتی ہیں۔
برطانیہ میں صفائی کے شعبے سے وابستہ ایس جے ہوڈلی نے لانا عیسیٰ کی ویڈیوز دیکھنے کے بعد اپنی اکیلی زندگی کے تجربات سوشل میڈیا پر شیئر کرنا شروع کیے۔
وہ کہتی ہیں کہ ’ہم خود کو تنہا نہیں سمجھتے۔‘
ان کے مطابق، ’کبھی کبھی میرے دوست نہ ہونے کی بات مجھے اتنا پریشان نہیں کرتی جتنا میرے اردگرد کے لوگوں کو کرتی ہے۔‘
ایس جے ہوڈلی سات سال پر محیط ایک بدسلوکی پر مبنی تعلق ختم ہونے کے بعد ایک نئے علاقے میں منتقل ہو گئی تھیں، جہاں وہ کسی کو نہیں جانتی تھیں۔ وہاں پہنچ کر انھیں اپنی زندگی نئے سرے سے ترتیب دینا پڑی۔
وہ کہتی ہیں کہ ابتدا میں یہ تجربہ ان کے لیے ایک بڑے صدمے سے کم نہیں تھا، لیکن وقت کے ساتھ انھوں نے اپنی خودمختاری کو قبول کرنا اور اس سے لطف اٹھانا سیکھ لیا۔ آخرکار وہ اپنی ہی رفاقت میں سکون اور اطمینان محسوس کرنے لگیں۔
ایس جے ہوڈلی خود کو ’اتفاقاً مشہور ہونے والی انفلوئنسر‘ قرار دیتی ہیں اور انھوں نے کبھی یہ توقع نہیں کی تھی کہ ان کے اتنے زیادہ فالوورز بن جائیں گےسوشل میڈیا کے ایسے ماحول میں، جہاں لوگوں کی فیڈز اکثر دلکش طرزِ زندگیوں اور مسلسل ’فومو‘، یعنی کچھ اہم چھوٹ جانے کے خوف، سے بھری رہتی ہیں، اکیلے رہنے کی زندگی دکھانے والے مواد تخلیق کار بہت سے لوگوں کے لیے حوصلہ افزائی اور توثیق کا ذریعہ بن رہے ہیں۔
یہ بات یونیورسٹی آف کنیکٹیکٹ کی ڈاکٹر این اولڈورف ہِرش کہتی ہیں، جو آن لائن کمیونٹیز کی تشکیل اور انسانی روابط پر تحقیق کرتی ہیں۔
ان کے مطابق ’کافی عرصے سے اس تصور کے خلاف ردِعمل بڑھ رہا ہے کہ سوشل میڈیا پر ہمیں صرف دوسروں کی رنگینیوں سے بھری زندگیوں کی جھلک دکھائی جاتی ہے، جبکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہوتی ہے۔‘
ڈاکٹر اولڈورف ہِرش کا خیال ہے کہ تنہائی، خلوت اور خودمختار زندگی کے بارے میں مواد تخلیق کرنے والے افراد اور ان کے سامعین، دونوں ایک حقیقی سماجی ضرورت پوری کر رہے ہیں۔
ان کے نزدیک یہ رجحان سوشل میڈیا پر حاوی مصنوعی چمک دمک اور بناوٹی کمال کے تاثر کے مقابلے میں ایک طرح کا توازن فراہم کرتا ہے۔
وہ کہتی ہیں، ’ہم اب ایسے انفلوئنسرز کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں جو زیادہ حقیقی محسوس ہوتے ہیں اور اپنی اصل زندگی جی رہے ہوتے ہیں۔‘
’آخرکار ہم سب ایسے لوگوں کو تلاش کرتے ہیں جن میں ہمیں اپنی جھلک دکھائی دے اور جن کے تجربات سے ہم خود کو وابستہ کر سکیں۔‘
اس رجحان کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ایس جے ہوڈلی کے بقول بعض اوقات ان کے فالوورز کی تعداد ایک ہی دن میں دسیوں ہزار بڑھ جاتی ہے، جبکہ ڈیون نوہرنگ کی ویڈیوز مختلف پلیٹ فارمز پر لاکھوں مرتبہ دیکھی جا چکی ہیں۔
ان آن لائن تعلقات اور روابط نے ایس جے ہوڈلی کو مستقبل کے بارے میں پُرامید بنا دیا ہے۔ انھیں امید ہے کہ ایک روز ان کے پاس قریبی سہیلیوں کا ایک چھوٹا مگر مضبوط حلقہ ہوگا۔
دوسری جانب نوہرنگ کی خواہش ہے کہ وہ ایک دن اپنی ورچوئل کمیونٹی کے لوگوں سے حقیقی دنیا میں ملاقات کا اہتمام کریں، جبکہ لانا عیسیٰ کہتی ہیں کہ آن لائن ملنے والی حمایت اور حوصلہ افزائی نے انھیں دوبارہ دوستیاں قائم کرنے کے بارے میں مثبت انداز میں سوچنے پر آمادہ کیا ہے۔
ایس جے ہوڈلی کے الفاظ میں، ’میرے خیال میں اس سارے مواد کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ اپنی زندگی کا راستہ خود تلاش کریں۔‘
وہ کہتی ہیں، ’ضروری نہیں کہ خوشی یا کامیابی کا صرف وہی ایک معیار ہو جو سوشل میڈیا پر مسلسل ہمارے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ ہر شخص اپنی شرائط پر بھی ایک بھرپور اور مطمئن زندگی گزار سکتا ہے۔‘