میر رضا علی کی قبر کشائی کے لیے دائر درخواست منظور، والد پولیس کی تحقیقات سے غیر مطمئن

صوبہ سندھ کے شہر کراچی کی ایک مقامی عدالت نے 25 سالہ نوجوان میر رضا علی کی موت کی ازسر نو تفتیش کے لیے والد کی جانب سے دائر قبر کشائی کی درخواست منظور کر لی ہے۔

صوبہ سندھ کے شہر کراچی کی ایک مقامی عدالت نے 25 سالہ نوجوان میر رضا علی کی موت کی ازسر نو تحقیقات کے لیے والد کی جانب سے دائر قبر کشائی کی درخواست منظور کر لی ہے۔

عدالت نے یہ درخواست منظور کرتے ہوئے پولیس سرجن کراچی اور سیکریٹری صحت کو ہدایت کی ہے کہ وہ ’جلد از جلد میڈیکو لیگل بورڈ بنائیں‘ تاکہ قبر کشائی کی جا سکے۔

میر رضا علی کے والد میر حسین کے وکیل جبران ناصر کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کیے گئے بیان کے مطابق قبر کشائی کی درخواست اس لیے دائر کی گئی تھی تاکہ پولیس سرجن کراچی کی نگرانی میں سینیئر فارنزک ماہرین اور پیتھالوجسٹ پر مشتمل میڈیکو لیگل بورڈ بنا کر ’پوسٹ مارٹم، ایکسرے، ڈی این اے، فارنزک اور کیمیائی تجزیہ کیا جا سکے اور موت کی اصل وجہ کا تعین ہو سکے۔‘

سماعت کے موقع پر عدالت آئے میر حسین نے صحافیوں سے گفتگو میں اب تک کی جانے والی تفتیش پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

میر رضا علی کا دعویٰ ہے کہ ان کے بیٹے کو قتل کیا گیا جبکہ ’پولیس نے ابھی تک (اس موت کو) قتل تسلیم نہیں کیا‘ اور تفتیش میں ’مالیاتی اور سرمایہ کاری‘ کے امور زیرِ بحث ہیں۔

کراچی میں وافلکس نامی کاروبار کے 25 سالہ شریک مالک رضا علی خان 28 جولائی کو اپنے گھر سے نکلے تھے اور ایک روز بعد اُن کی لاش پراسرار حالات میں کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر بلاک ون میں پہاڑی اور شاہی قلعہ گراؤنڈ کے قریب جھاڑیوں سے ملی تھی۔

10 روز گزر جانے کے بعد بھی پولیس یہ تعین نہیں کر سکی کہ رضا علی کی موت کیسے ہوئی اور نہ ہی اب تک کوئی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔

تصویر
Getty Images

ابتدائی پوسٹ مارٹم پر پولیس سرجن کے اعتراضات

میر رضا علی کی پُراسرار موت کی وجوہات جاننے کے لیے جو ابتدائی پوسٹ مارٹم کیا گیا تھا، اس کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد بھی مزید سوالات اٹھ گئے اور پولیس سرجن سمعیہ سید نے اس رپورٹ میں خامیوں کی نشان دہی کی۔

بی بی سی کو ملنے والی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق میر رضا علی کا پوسٹ مارٹم موت کے 21 سے 36 گھنٹے بعد کیا گیا جبکہ اُن کے سینےپر بڑے زخموں کے نشانات پائے گئے ہیں۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق لاش پر تعفن کے آثار نمایاں تھے، جسم پر شدید سوجن اور رنگ میں تبدیلی آ چکی تھی۔

جمعرات کے روز عدالت پیشی پر میڈیا سے گفتگو میں میر رضا علی کے والد میر حسین نے کہا کہ پولیس نے ’ابھی تک ہمارا بیان ریکارڈ نہیں کیا‘ اور یہ سوال بھی اٹھایا کہ ان کے بیٹے کی لاش کا ’پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اسامہ کیوں غائب ہیں۔‘

میر حسین کے وکیل جبران ناصر نے ایکس پر لکھا: ’ہم نے ابتدائی ناقص معائنے کرنے والے میڈیکو لیگل افسر کے خلاف تحقیقات کے لیے پولیس سرجن کے پاس الگ سے شکایت بھی دائر کی ہے۔‘

بدھ کو ڈاکٹر سمعیہ سید نے ایس پی ایسٹ کو لکھے گئے خطمیں کہا ہے کہ پوسٹ مارٹم کے دوران نہ تو لاش کے ایکسرے کیے گئے اور نہ ہی داخلی زخم پر موجود بارود کے نشانات کا کیمیکل تجزیہ ہوا۔

ان کے مطابق لاش کی تصاویر بھی فارینزک معیار کے مطابق نہیں لی گئیں۔

سمعیہ سید کا کہنا ہے کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں داخلی زخم کو خارجی زخم سے نمایاں طور پر بڑا بتایا گیا ہے اور داخلی و خارجی زخم کی دوبارہ جانچ اور تصدیق ضروری تھی۔

پولیس سرجن کے مطابق لاش کے ہاتھوں پر بارودی ذرات یا گن پاؤڈر کی موجودگی جاننے کے لیے بھی نمونے نہیں لیے گئے۔

ان کا کہنا ہے کہ لاش کی ڈی کمپوزیشن کی نوعیت بھی واضح نہیں اور چہرہ ناقابلِ شناخت ہونے کے باوجود شناخت کی تصدیق کے لیے ڈی این اے کا نمونہ نہیں لیا گیا۔

ادھر کراچی پولیس کے سربراہ آزاد خان نے ڈاکٹر سمیعہ کے بیانات پر کہا ہے کہ ڈاکٹر سمیعہ نے نہ تو خود پوسٹ مارٹم کیا اور نہ ہی لاش دیکھی اور صرف تصویروں کی بنیاد پہ یہ رائے دی ہے۔

بدھ کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایڈیشنل آئی جی آزاد خانکا کہنا تھا کہ ’اگر خاندان والے کہیں گے اور قانونی تقاضے پورے ہوں گے تو دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔‘

ان کے مطابق ’پوسٹ مارٹم رپورٹ پولیس نہیں دیتی، یہ رپورٹ میڈیکل رپورٹ ہوتی ہے جو ڈاکٹر دیتے ہیں لہذا ایم ایل او نے جو رپورٹ دی ہے پولیس نے ابھی تک جو اپنی رائے بنائی ہےاسی رپورٹ کی بنیاد پر بنائی ہے۔‘

پولیس سرجن کے بیان پر مزید تبصرہ کرتے ہوئے آزاد خان کا کہنا تھا ’انھوں نے اگر کوئی آبزرویشن دی ہے، تو انھیں تحریری طور دینی چاہیے تھی بجائے اس کے کہ وہ میڈیا پر دیں۔ اس کا ایک طریقۂ کار ہے اور وہ طریقۂ کار یہ ہے کہ بورڈ بنے اور بورڈ جو رائے دے گا پولیس اس کے حساب سے چلے گی۔‘

’والدہ کو کہہ کر گیا تھا دس منٹ میں آ رہا ہوں‘

میر رضا علی 28 جولائی کو اپنی والدہ سے یہ کہہ کر گھر سے باہر نکلے تھے کہ وہ دس منٹ میں واپس آ جائیں گے۔

لیکن دس منٹ کا یہ وقفہ طویل ہوتا چلا گیا اور ایک دن بعد بدھ کے کو پولیس کو ان کی تشدد زدہ لاش ملی۔

میر رضا علی کی موت کا معمہ حل کرنے کے لیے پولیس نے ایک تین رُکنی کمیٹی قائم کی ہے جس کی سربراہی

سپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کے ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو کو سونپی گئی ہے جبکہ ایس ایس پی ایسٹ اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن محمد عثمان سدوزئی بھی اس میں شامل ہیں۔

کراچی پولیس کے سربراہ کی جانب سے تشکیل دی گئی تحقیقاتی ٹیم کو مقتول میر رضا علی خان کے مبینہ اغوا اور قتل میں ملوث ملزمان کا سراغ لگانے اور ان کی گرفتاری کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

پولیس حکام کے مطابق تحقیقاتی ٹیم ضرورت پڑنے پر کراچی کے کسی بھی پولیس افسر کو اپنی معاونت کے لیے طلب کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔

ٹیم کے اراکین نے پیر کو میر رضا علی کے والد اور اہل خانہ سے ملاقات کی تھی اور ان کے بیانات قلمبند کیے، جس کے بعد گلستان جوہر میں واقعے جائے وقوع کا بھی معائنہ کیا۔

میر رضا علی کراچی کے انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کے گریجویٹ تھے جبکہ وافلکس کے بانی بھی تھے۔

ان کے والد میر حسین علی کی جانب سے کراچی کے فیروز آباد تھانے میں دائر کی جانے والے مقدمہ کی ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ ان کا 25 سالہ بیٹا 28 جولائی کی شب اپنی دکان وافلکس بہادر آباد چورنگی سے اپنی گاڑی پر گھر آیا۔

ایف آئی آر کے مطابق میر رضا علی نے اپنی والدہ کو تقریباً چار بجے رات کو بتایا کہ وہ ’دس منٹ میں گھر کے نیچے سے ہو کر واپس آتا ہے۔‘

مدعی کے مطابق میر رضا علی کا موبائل فون ان کے پاس ہی تھا لیکن کافی دیر بعد جب بیٹا واپس نہیں آیا تو ان کی بیگم نے بیٹے کے نمبر پر کال کی جو بند تھا۔

میر رضا علی کی والدہ نے مدعی کو نیند سے اٹھا کر بتایا جس کے بعد وہ اپنے طور پر بیٹے کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ اس دوران انھوں نے مددگار 15 پر بھی اطلاع دی تھی۔

کپڑوں سے شناخت

ایک روز بعد پولیس کو گلستانِ جوہر کے بلاک ون میں شادی قلعہ کے قریب جھاڑیوں سے ایک لاش ملی۔ لیکن اس لاش کی شناخت آسان نہیں تھی۔

ایس ایچ او کامران قریشی کے مطابق ’ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ مقتول کو پہلے تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کے بعد انھیں گولی مار کر قتل کیا گیا۔‘

تاہم پولیس کے مطابق ’جسم کے بعض حصوں پر جلنے کے نشانات بھی موجود تھے جس کے باعث شناخت مشکل تھی۔‘

پولیس کے مطابق مقتول کے والد نے کپڑوں کی مدد سے اپنے بیٹے کی شناخت کی۔

پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کے مطابق مقتول کے سینے پر ایک گولی ماری گئی۔

’میرا غرور تو چلا گیا‘

میر حسین علی نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے ’دو ہی بچے تھے، ایک بیٹا اور ایک بیٹی۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’جہاں تک کسی سے دشمنی، لین دین کے معاملے کا تعلق ہے، تو ایسا بالکل کچھ نہیں تھا۔ ہماری کسی سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔‘

ان کے مطابق ’جس دن ایف آئی آرکٹی، اس کے اگلے ہی دن بچے کی باڈی مل گئی۔‘

و کہتے ہیں کہ ’لاش بھی تھانے کو ملی تھی اور انھوں نے اسے نامعلوم کے طور پر درج کیا تھا۔ اب اس معاملے کی تفتیش جاری ہے۔ کل بچے کی تدفین تھی اور آج اس کا سوئم ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ان کا بیٹا انسٹیٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن میں پڑھتا تھا اور مارکیٹنگ کے شعبے کا آنر سٹوڈنٹ تھا۔ ’وہ ایک بہت ہی لائق اور قابل بچہ تھا۔‘


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US