ملائیشیا میں ایک خاتون سے مبینہ نازیبا رویے کے الزام میں پاکستانی شہری کے خلاف باقاعدہ فردِ جرم عائد کردی گئی۔ ملزم نے عدالت میں پیش ہو کر اپنے خلاف لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے خود کو بے قصور قرار دیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق 33 سالہ پاکستانی شہری، جو ملائیشیا کے شہر باتو پاہت میں عطر فروخت کرنے کا کام کرتا ہے، پر الزام ہے کہ اس نے 26 سالہ خاتون کے ساتھ ملاقات کے دوران مبینہ طور پر اس کی عزتِ نفس مجروح کرنے کی کوشش کی۔
استغاثہ کے مطابق دونوں کی جان پہچان سوشل میڈیا کے ذریعے ہوئی تھی، جس کے بعد ملزم نے خاتون کو ملاقات کے لیے بلایا۔ بتایا گیا ہے کہ یکم اگست کی شام ایک پارکنگ میں کھڑی گاڑی کے اندر یہ واقعہ پیش آیا۔ الزام ہے کہ جب خاتون وہاں سے جانے لگی تو ملزم نے اس کے ساتھ مبینہ طور پر نامناسب حرکت کی، جس پر خاتون نے بعد میں پولیس سے رجوع کیا۔
پولیس نے شکایت موصول ہونے کے چند گھنٹوں بعد ہی ملزم کو گرفتار کرلیا۔ اس کے خلاف ملائیشیا کے تعزیراتی قانون کی دفعہ 354 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، جس کے تحت جرم ثابت ہونے کی صورت میں قید، جرمانہ، کوڑوں کی سزا یا ان میں سے ایک سے زائد سزائیں دی جاسکتی ہیں۔
عدالت نے ملزم کی 7 ہزار ملائیشین رنگٹ کے ضمانتی مچلکوں کے عوض رہائی منظور کرتے ہوئے کیس کی اگلی سماعت 25 ستمبر مقرر کردی، جہاں مقدمے سے متعلق دستاویزات پیش کیے جائیں گے اور ملزم اپنا وکیل بھی مقرر کرے گا۔