کیا آپ کو انگلیاں چٹخانا بند کر دینی چاہییں؟

بعض لوگوں کے لیے انگلیوں کے جوڑ چٹخانا محض ایک لاشعوری عادت ہوتی ہے۔ کچھ دوسرے افراد کو جوڑ چٹخانے سے حاصل ہونے والا احساس پسند ہوتا ہے۔ لیکن سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی کیروپریکٹک ایڈجسٹمنٹ کی ویڈیوز کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے، جو اس چٹخنے کی آواز سن کر لطف محسوس کرتی ہے۔
ہڈیاں
Getty Images
بعض لوگوں کے لیے انگلیوں کے جوڑ چٹخانا محض ایک لاشعوری عادت ہوتی ہے

ڈونلڈ اَنگر کو بچپن سے ہی پہلے ان کی والدہ اور کئی خالاؤں کی اور پھر بعد میں ساس کی جانب سےیہ تنبیہ کی جاتی رہی تھی کہ مسلسل انگلیوں کو چٹخانے سے انھیں گٹھیا ہو جائے گا۔

یہ ثابت کرنے کے لیے کہ یہ بات درست نہیں، ڈونلڈ اَنگر نے 50 سال تک روزانہ کم از کم دو بار اپنے بائیں ہاتھ کے جوڑ چٹخائے، یعنی مجموعی طور پر تقریباً 36,500 بار، جبکہ اپنے دائیں ہاتھ کے جوڑوں کو بالکل نہیں چٹخایا۔

سنہ 1998 میں 72 برس کی عمر میں انہوں نے اپنی اس عمر بھر کی کوشش کا نتیجہ جاننے کے لیے دونوں ہاتھوں کے ایکسرے کروائے۔ انہوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ ’کسی بھی ہاتھ میں آرتھرائٹس کی کوئی علامت موجود نہیں تھی اور دونوں ہاتھوں کے درمیان بھی کوئی واضح فرق نہیں تھا۔‘

یقیناً یہ صرف ایک فرد پر مبنی مشاہدہ تھا۔ مختلف مطالعات سے معلوم ہوتا ہے کہ تقریباً 20 سے 50 فیصد لوگ انگلیوں کے جوڑ چٹخاتے ہیں۔ تو کیا یہ واقعی تشویش کی بات ہے؟ کیا جوڑوں سے آنے والی ہر ٹَک، چٹخ یا کڑک کی آواز طویل مدت میں کسی نقصان کا باعث بن سکتی ہے؟

جسم کے جوڑ چٹخانے سے کیا ہوتا ہے؟

بعض لوگوں کے لیے انگلیوں کے جوڑ چٹخانا محض ایک لاشعوری عادت ہوتی ہے۔ کچھ دوسرے افراد کو جوڑ چٹخانے سے حاصل ہونے والا احساس پسند ہوتا ہے۔ لیکن سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی کیروپریکٹک ایڈجسٹمنٹ کی ویڈیوز کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے، جو اس چٹخنے کی آواز سن کر لطف محسوس کرتی ہے۔

جب ہم اپنے جوڑ چٹخاتے ہیں تو درحقیقت ایک نسبتاً سادہ عمل وقوع پذیر ہوتا ہے۔ جوڑ وہ مقام ہوتا ہے جہاں دو ہڈیاں آپس میں ملتی ہیں اور ہماری انگلیوں، گردن اور کمر میں موجود جوڑ سائنوویئل فلوئیڈ نامی ایک مادے سے گھرے ہوتے ہیں، جو انڈے کی سفیدی جیسی ساخت رکھتا ہے اور چکناہٹ فراہم کرنے کا کام کرتا ہے۔

جب آپ اپنے جوڑوں کو موڑتے، کھینچتے یا دباتے ہیں تاکہ وہ چٹخ جائیں، تو جوڑ کے اندر موجود جگہ عارضی طور پر پھیل جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں سائنوویئل فلوئیڈ کا دباؤ کم ہو جاتا ہے اور پھر وہ گیسیں جو پہلے اس مائع میں حل شدہ ہوتی ہیں، بلبلوں کی صورت میں ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔

جوڑ چٹخنے کی آواز دراصل بننے والے ان بلبلوں کے پھٹنے یا سکڑنے کی آواز ہوتی ہے اور یہ حیرت انگیز طور پر کافی بلند ہو سکتی ہے، یہاں تک کہ 83 ڈیسی بیل تک۔

یہ تقریباً اتنی ہی بلند آواز ہے جتنی 40 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گزرتے ہوئے ایک ڈیزل ٹرک کی ہوتی ہے۔

جب یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، ڈیوس کے سائنس دانوں نے الٹراساؤنڈ کے ذریعے ایک ایسے جوڑ کا مشاہدہ کیا جسے چٹخایا جا رہا تھا، تو انہوں نے بتایا کہ ’چٹخنے‘ کا لمحہ سکرین پر ایسا دکھائی دیتا تھا جیسے آتش بازی کا کوئی پھٹتا ہوا شعلہ۔

بے ضرر سی عادت

جوڑوں کے چٹخنے کی آواز اگرچہ نمایاں اور بعض اوقات بلند ہو سکتی ہے لیکن برطانیہ کی یونیورسٹی آف مانچسٹر سے وابستہ ماہرِ امراضِ جوڑ کِمی ہائریخ کے مطابق یہ ’جسم کا ایک معمول کا فزیالوجیکل عمل‘ ہے۔

لیکن کیا یہ معمول کی عادت واقعی بے ضرر ہے؟

امریکہ کی ریاست مشی گن میں نجی پریکٹس کرنے والے نیورو سرجن جے جگن ناتھن کہتے ہیں ’یقیناً بعض علامات تشویش کا باعث ہو سکتی ہیں، جیسے جوڑوں میں درد یا سوجن۔‘

وہ بتاتے ہیں کہ انہوں نے ایسے مریض بھی دیکھے ہیں، جنہیں گردن کو بہت زور سے چٹخانے کی کوشش کے بعد کھنچاؤ یا دیگر مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق گردن کو اس طرح زور لگا کر چٹخانا تجویز نہیں کیا جاتا۔

تاہم جے جگن ناتھن کہتے ہیں کہ عمومی طور پر جب آپ کو اپنے جوڑ چٹخانے کی خواہش محسوس ہوتی ہے تو اسے کافی حد تک بے ضرر عادت سمجھا جاتا ہے۔

کچھ لوگ اب بھی اس بات پر فکر مند رہتے ہیں کہ انگلیوں کے جوڑ بار بار یا بہت زور سے چٹخانے سے انگلی اپنی جگہ سے ہٹ سکتی ہے یا ٹینڈنز کو نقصان پہنچ سکتا ہے، خاص طور پر اس صورت میں جب بہت زیادہ قوت استعمال کی جائے یا انگلی کو اس انداز میں جھٹکا دیا جائے کہ اتفاقاً جوڑ متاثر ہو جائے۔ اور واقعی اس نوعیت کے چند واقعات ریکارڈ پر موجود ہیں۔

مثال کے طور پر 1999 میں فلاڈیلفیا سے تعلق رکھنے والے ایک ہینڈ سرجن نے دو ایسے مریضوں کا ذکر کیا جن کی انگلیوں میں موچ آ گئی تھی کیونکہ وہ جوڑ چٹخنے کی وہ تسلی بخش آواز سننے کے لیے حد سے زیادہ زور لگا رہے تھے۔

تاہم اگر جوڑ نسبتاً کم طاقت سے چٹخائے جائیں تو اس نوعیت کے واقعات بہت کم ہوتے ہیں۔

البتہ جو لوگ عادتاً جوڑ چٹخاتے ہیں، ان کی سب سے بڑی تشویش عام طور پر یہ ہوتی ہے کہ کہیں وہ اوسٹیو آرتھرائٹس کا شکار نہ ہو جائیں۔ یہ آرتھرائٹس کی سب سے عام قسم ہے اور جوڑوں میں موجود کارٹیلیج (وہ حفاظتی بافت جو ہڈیوں کے سروں کو سہارا دیتی ہے) کے بتدریج گھِسنے سے منسلک ہوتی ہے۔

برطانیہ کی یونیورسٹی آف مانچسٹر سے وابستہ ماہرِ امراضِ جوڑ کِمی ہائریخ کہتی ہیں کہ ’یہ وہ سوال ہے جو لوگ میرے کلینک میں بھی اکثر پوچھتے ہیں اور کھانے کی میز پر غیر رسمی گفتگو کے دوران بھی۔‘

وہ کہتی ہیں ’مختصر جواب یہ ہے کہ نہیں، جوڑ چٹخانے سے اوسٹیو آرتھرائٹس نہیں ہوتا۔‘

Bones and Joints
Getty Images
امریکہ کی ریاست مشی گن میں نجی پریکٹس کرنے والے نیورو سرجن جے جگن ناتھن کہتے ہیں 'یقیناً بعض علامات تشویش کا باعث ہو سکتی ہیں، جیسے جوڑوں میں درد یا سوجن

متعدد تحقیقات اس پرانے عام تاثر کی تردید کر چکی ہیں۔ 1975 میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں محققین نے نرسنگ ہوم کے 28 رہائشیوں کا مطالعہ کیا اور پایا کہ جو افراد عادتاً انگلیوں کے جوڑ چٹخاتے تھے، ان میں تحلیل پذیر آرتھرائٹس (ڈی جنریٹیو آرتھرائٹس) کی شرح ان لوگوں کے برابر تھی جو یہ عادت نہیں رکھتے تھے۔

اسی نوعیت کی ایک نسبتاً حالیہ ریٹروسپیکٹو تحقیق میں ایسے 215 افراد کا جائزہ لیا گیا، جو اوسٹیو آرتھرائٹس کا شکار تھے اور ان کا موازنہ ان لوگوں سے کیا گیا جنہیں یہ مرض لاحق نہیں تھا۔

محققین نے ان افراد کی انگلیوں کے جوڑ چٹخانے کی عادات اور سابقہ تاریخ کا بھی مطالعہ کیا۔

اس تحقیق کا نتیجہ بھی یہی نکلا کہ زندگی بھر جوڑ چٹخانے کی مدت یا تعداد کا اوسٹیو آرتھرائٹس کے خطرے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

مضبوط گرفت

انگلیوں کے جوڑ چٹخانے کے بارے میں ایک اور عام خدشہ یہ ہے کہ اس سے ہاتھوں کی گرفت کی طاقت متاثر ہو سکتی ہے۔ گرفت کی طاقت صحت کا ایک اہم اشاریہ سمجھی جاتی ہے اور اسے دل کی بیماری، ذہنی صلاحیتوں میں کمی، ڈپریشن اور بعض اقسام کے کینسر سمیت مختلف صحتی نتائج سے جوڑا گیا ہے۔

1990 میں کی گئی ایک تحقیق میں 74 ایسے افراد کا جائزہ لیا گیا جو 18 سے 60 سال تک باقاعدگی سے انگلیوں کے جوڑ چٹخاتے رہے تھے۔ تحقیق سے پتا چلا کہ ان لوگوں کے ہاتھوں کی گرفت نسبتاً کمزور تھی اور ان کے ہاتھوں میں سوجن بھی زیادہ دیکھی گئی، جب ان کا موازنہ ان لوگوں سے کیا گیا جو جوڑ نہیں چٹخاتے تھے۔

تاہم بعد میں 2017 میں ہونے والی ایک الگ تحقیق نے ان نتائج کی تردید کی۔ اس مطالعے میں محققین کو انگلیوں کے جوڑ چٹخانے اور گرفت کی کمزوری کے درمیان کوئی واضح تعلق نہیں ملا۔

انگلیوں کے جوڑ چٹخانے کے بارے میں دیگر کئی تصورات بھی پائے جاتے ہیں، مثلاً یہ کہ بار بار جوڑ چٹخانے سے انگلیوں کے جوڑ بڑے ہو جاتے ہیں یا ٹینڈنز ڈھیلے پڑ جاتے ہیں۔ تاہم کِمی ہائریخ کے مطابق یہ تمام باتیں درست نہیں ہیں۔

مذکورہ الٹراساؤنڈ تحقیق بھی اس کی تائید کرتی ہے کیونکہ جب ڈاکٹروں نے باقاعدگی سے جوڑ چٹخانے والے افراد کا جسمانی معائنہ کیا تو انہیں نہ کسی قسم کی سوجن ملی اور نہ ہی کسی معذوری یا جسمانی خرابی کے آثار۔

بعض لوگوں کے لیے جوڑ چٹخانا راحت اور سکون کا احساس بھی پیدا کرتا ہے اور اس سے جوڑوں کی حرکت میں عارضی اضافہ محسوس ہو سکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جوڑ چٹخانے کے دوران جوڑ کھنچتا ہے اور اپنی معمول کی حدود سے کچھ زیادہ حرکت کرتا ہے۔

ایک نظریہ یہ بھی پیش کیا گیا ہے کہ جوڑ چٹخانے سے جوڑ کے اردگرد موجود عصبی سروں (نرو اینڈنگز) کو تحریک ملتی ہے، جس کے نتیجے میں قریبی عضلات میں نرمی آتی ہے، درد میں کمی محسوس ہو سکتی ہے اور جسم میں اینڈورفِنز خارج ہو سکتے ہیں۔ تاہم اس نظریے کے حق میں ابھی تک حتمی سائنسی شواہد دستیاب نہیں ہیں۔

Joints and Bones
Getty Images
کِمی ہائریخ کے مطابق مجموعی طور پر جوڑ چٹخانا خود جوڑوں کے لیے نقصان دہ نہیں ہے

چونکہ انگلیوں کے جوڑ چٹخانا عموماً ایک بے ضرر عادت سمجھی جاتی ہے، اس لیے اسے ترک کرنے کی خاص طبی ضرورت نہیں ہوتی۔ تاہم اگر آپ یہ عادت چھوڑنا چاہتے ہیں تو جے جگن ناتھن کے مطابق اپنے رویّے کو بدلنے کے لیے بعض نفسیاتی اور عملی تکنیکیں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔

وہ تجویز کرتے ہیں کہ آپ ادراکی رویّہ جاتی حکمتِ عملیوں (کاگنیٹیو تکنیک) کے ذریعے یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ آپ کب اور کیوں جوڑ چٹخاتے ہیں اور پھر ایسی مصروفیات اختیار کریں جو آپ کو اس عادت سے دور رکھ سکیں۔

مثال کے طور پر آپ اپنے محرکات کا ریکارڈ رکھ سکتے ہیں: کیا آپ تناؤ، بوریت یا لاشعوری طور پر جوڑ چٹخاتے ہیں؟ اس کے بعد آپ اپنے ہاتھوں کو مصروف رکھنے کے لیے اسٹریس بال یا فِجٹ کھلونوں جیسی اشیا استعمال کر سکتے ہیں۔

کِمی ہائریخ کے مطابق مجموعی طور پر جوڑ چٹخانا خود جوڑوں کے لیے نقصان دہ نہیں ہے۔ البتہ وہ ہنستے ہوئے یہ اضافہ کرتی ہیں کہ اگر اس سے کوئی چیز متاثر ہو سکتی ہے تو وہ آپ کے جوڑ نہیں بلکہ آپ کے ذاتی تعلقات ہیں، خاص طور پر اگر آپ کے دوست آپ کے بار بار جوڑ چٹخانے کی عادت سے تنگ آ جائیں۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US