ایک وقت میں دنیا کے سب سے بڑے سوشل نیٹ ورک کے طور پر مشہور پلیٹ فارم مائی سپیس کو اب دوبارہ واپس لانے کی کوشش ہو رہی ہے۔
اٹلانٹا کی 31 سالہ پراپرٹی ایجنٹ مونٹیکا ہاکنز کے لیے مائی سپیس صرف ایک ویب سائٹ نہیں تھیبلکہ یہ ان کی روزمرہ زندگی کا ایک حصہ تھی۔
وہ کہتی ہیں کہ ’مائی سپیس پر آپ جیسے تھے ویسے ہی رہ سکتے تھے۔ بغیر فلٹر کے تصاویر اپ لوڈ کر سکتے تھے۔ اگر آپ کی ناک بھی بہہ رہی ہوتی تو بھی کوئی آپ کو جج نہیں کرتا تھا۔‘
ایک وقت میں دنیا کے سب سے بڑےسوشل نیٹ ورککے طور پر مشہور پلیٹ فارم مائی سپیسکو اب دوبارہ واپس لانےکی کوشش ہو رہی ہے۔
اس کے مالکان ٹِم اور کرس وینڈرہک کہتے ہیں کہ وہ اس پلیٹ فارم کو دوبارہ شروع کرنا چاہتے ہیں، تاہم انھوں نے ابھی تک اس کی تاریخ یا تفصیلات نہیں بتائیں۔
مائی سپیس کی مالک کمپنی ویانٹ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کمپنی کے پاس فی الحال شیئر کرنے کے لیے کوئی نئی معلومات نہیں ہیں۔
’انٹرنیٹ پر آپ کی اپنی چھوٹی سی الگ دنیا‘
لیکن مائی سپیس کی واپسی کے صرف خیال ہی نے لوگوں کی ان پرانی یادوں کو تازہ کر دیا ہے، جہاں وہ 20 سال قبلاپنے پیج کو اپنی مرضی سے سجا سکتے تھے۔
ایسے ہی لوگوں میں میلیسا کرسٹن جیسی کانٹینٹ کریئٹربھی شامل ہیں ۔ ٹک ٹاک پر اُن کے 9 لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں۔ وہ مائی سپیس استعمال کرتے ہوئے بڑی ہوئی ہیں اور اسے ایک زیادہ ذاتی آن لائن جگہ کے طور پر یاد کرتی ہیں۔
کرسٹن کہتی ہیں کہ ’یہ سب کچھ واقعی آپ کی اپنی دنیا، انٹرنیٹ پر آپ کی اپنی چھوٹی سی الگ دنیا بسانے جیسا تھا۔‘
ان کے مطابق اسی آزادی نے آج آن لائن اپنے خیالات اور شخصیت کے اظہار کے اُن کے انداز کو متاثر کیا ہے اور وہ سمجھتی ہیں کہ اگر مائی سپیس دوبارہ شروع ہوتا ہے تو اسے اُن الگورتھمز اور پیسے کے بدلے رسائی دینے والے نظام سے بچنا چاہیے جو آج کے پلیٹ فارمز پر غالب ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ ’اس کا اصل مقصد لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑنا ہونا چاہیے نہ کہ صرف دوسروں کے سامنے خود کو پیش کرنا۔‘
’بس وہی خوشی دوبارہ محسوس کرنے کے لیے جو ہمیں ملینیلز ہونے کے ناطے دوستوں کی درخواستیں اور تبصرے ملنے پر ہوتی تھی۔ اس سے ہمیں ایک دوسرے سے جڑے ہونے کا احساس ملتا تھا۔‘

مائی سپیس 2003 میں شروع ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے بہت جلد مقبول ہو گیا۔ آرکٹک مونکیز، ایڈیل اور نکی میناج جیسے فنکاروں کو وہاں اپنے ابتدائی مداح (فینز) ملے۔
لیکن بعد میں اس کے پیچیدہ صفحات، خود بخود چلنے والی موسیقی اور اس کا ڈیزائن صارفین کو پسند نہیں آئے۔
دوسری جانب فیس بک کا سادہ اور صاف ڈیزائن زیادہ مقبول ہو گیا۔ مائی سپیس نے کئی تبدیلیاں کیں اور اس کے مالکان بھی بدلے لیکن وہ اپنی مقبولیت برقرار نہ رکھ سکا اور آہستہ آہستہ لوگوں نے اسے استعمال کرنا چھوڑ دیا۔
مارکیٹنگ کے ماہرین کا اندازہ ہے کہ مائی سپیس کی واپسی کی کامیابی اس بات پر منحصر ہو گی کہ اس نےاپنی ماضی کی غلطیوں سے کیا سبق سیکھا۔
یونیورسٹی آف اَکرون میں مارکیٹنگ کی پروفیسر ڈاکٹر الیکسا فاکس کہتی ہیں کہ مائی سپیس سوشل میڈیا کے ابتدائی پلیٹ فارمز میں سے ایک تھا لیکن وقت کے ساتھ یہ بہت پیچیدہ ہو گیا تھا۔
ان کے خیال میں مائی سپیس کی اصل خوبیاں، یعنی موسیقی، تخلیقی اظہار اور ذاتی شناخت آج بھی لوگوں کو پسند آ سکتی ہیں لیکن اس کے لیے پلیٹ فارم کو زیادہ آسان بنانا ہوگا۔
وہ کہتی ہیں کہ ’اسے زیادہ آسان اور صارفین کے لیے عام فہم بنایا جا سکتا ہے تاکہ کم تکنیکی معلومات کی ضرورت پڑے۔‘
سپوٹیفائی اور ایڈوب کے لیے کمپین (مہمات) چلانے والے سوشل میڈیا ماہر الیکس ملز کہتے ہیں کہ جس چیز کو لوگ آج یاد کرتے ہیں، یعنی الگورتھم کے بغیر فیڈ، وہی ایک وجہ تھی جس کی وجہ سے مائی سپیس پیچھے رہ گیا۔
ملز کہتے ہیں کہ ’لوگ آج بھی فیڈ چاہتے ہیں لیکن وہ ایسی فیڈ چاہتے ہیں جو اشتعال انگیز مواد کو آگے بڑھانے کے لیے نہ بنائی گئی ہو۔‘
گوریلا 76 میں پرفارمنس مارکیٹنگ کے سربراہ کیون میک کلاری کا خیال ہے کہ مائی سپیس کو میٹا، ٹک ٹاک یا ایکس سے براہِ راست مقابلہ کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ ایک مخصوص قسم کا پلیٹ فارم بن کر بھی کامیاب اور پائیدار رہ سکتا ہے۔‘
ان کے مطابق اسے 2000 کی دہائی کی ثقافت پر توجہ دینی چاہیے۔
میک کلاری کا کہنا ہے کہ مائی سپیس کی موسیقی سے جڑی پہچان کو دوبارہ نمایاں کرنا ایک اچھا قدم ہو سکتا ہے، چاہے وہ پروفائل گانے ہوں یا 2000 کی دہائی سے متعلق تقریبات، تہوار اور دیگر مصنوعات۔
ان کے خیال میں اس کے صارفین صرف پرانے صارفین تک محدود نہیں ہوں گے کیونکہ نوجوان نسل بھی 2000 کی دہائی کے انداز اور رجحانات میں دلچسپی لے رہی ہے حالانکہ انھوں نے وہ دور خود نہیں دیکھا۔
میک کلاری کا دعویٰ ہے کہ ’آج کل نوجوان پرانے ڈیجیٹل کیمرے، ایم پی تھری پلیئرز اور یہاں تک کہ فلم والے کیمرے بھی خرید رہے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ انھیں ماضی میں دلچسپی ہے۔‘
ان کے مطابق مائی سپیس اس رجحان سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اگر وہ ایک ایسے پلیٹ فارم کے طور پر سامنے آئے جو ایک خاص دور کی یاد دلاتا ہو۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ دوسرے پلیٹ فارمز پر 2000 کی دہائی کے انداز کا مواد بنانے والے کانٹینٹ کری ایٹر اکثر الگورتھمز کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔
فینز کا جذباتی لگاؤ
فاکس بھی اس بات سے اتفاق کرتی ہیں کہ دوسروں سے مختلف ہونا وقت کی ضرورت اور اہم ہو گا۔
فاکس کے مطابق ’مائی سپیس کو ایسی خصوصیات پر انحصار نہیں کرنا چاہیے جن پر دوسرے پلیٹ فارمز پہلے ہی حاوی ہیں۔‘ ان کا اشارہ ریلز اور مختصر ویڈیوزکی جانب تھا۔
انھوں نے واضح کیا کہ آج کے دور کے مقبول فیچرز شامل کیے جا سکتے ہیں، لیکن پلیٹ فارم کی پہچان صرف انھی پر نہیں ہونی چاہیے۔

وہ یہ بھی سمجھتی ہیں کہ مائی سپیس زیادہ پُرسکون آن لائن تجربہ فراہم کرنے کا موقع فراہم کر سکتاہے۔ ان کے بقول آج کل سوشل میڈیا فیڈز الگورتھمز اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے چلتی ہیں اور مسلسل صارف کی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ایسا پلیٹ فارم جہاں صارفین کو زیادہ اختیار حاصل ہو یا جہاں وہ خود کو کم دباؤ میں محسوس کریں، مارکیٹ میں اپنی الگ جگہ بنا سکتا ہے۔
ہاکنز اور کرسٹن جیسے مائی سپیس کے مداحوں کے لیے اس کی کشش صرف عملی نہیں بلکہ جذباتی لگاؤ بھی اس میں شامل ہے۔ دونوں کا کہنا ہے کہ اگر مائی سپیس اپنی اصل شناخت برقرار رکھتا ہے تو وہ دوبارہ اسے استعمال کریں گے۔
فی الحال اس کی واپسی محض ایک وعدہ ہے، جو اُس دور کی یاد دلاتی ہے جب سوشل میڈیا کم بناوٹی اور زیادہ ذاتی محسوس ہوتا تھا۔
ہاکنز کہتی ہیں کہ ’کیا آپ کو اب بھی وہی احساس ہوگا؟ کیا آپ اب بھی یہ محسوس کریں گے کہ ’اوہ، کوئی مجھے پسند کرتا ہے؟‘