سابق وفاقی وزیر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما صاحبزادہ خواجہ محمد خان ہوتی نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے، ملک میں گڈ گورننس اسی وقت ممکن ہوگی جب انتظامی بنیادوں پر مزید صوبے قائم کیے جائیں گے۔
ہماری ویب سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے خواجہ محمد خان ہوتی نے کہا کہ جب پاکستان کی آبادی تقریباً سات، آٹھ کروڑ تھی، اس وقت بھی ملک میں صرف چار صوبے تھے، جبکہ آج پاکستان کی آبادی 25 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے لیکن صوبوں کی تعداد اب بھی چار ہی ہے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی آبادی اور انتظامی ضروریات کے پیش نظر ملک میں مزید صوبوں کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے بھی یہ مؤقف سامنے آ چکا ہے کہ ملک میں زیادہ سے زیادہ صوبے ہونے چاہئیں تاکہ عوام کو بہتر طرز حکمرانی اور انتظامی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔
مہنگائی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان بننے کے بعد آنے والی کوئی بھی حکومت مہنگائی کے مسئلے پر عوام کو خاطر خواہ ریلیف فراہم نہیں کرسکی۔ غریب عوام آج بھی مہنگائی کے سنگین اثرات سے دوچار ہیں اور انہیں حکومتوں کی پالیسیوں کے وہ دور رس ثمرات نہیں مل سکے جن کے وہ حقدار ہیں۔
پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کے حوالے سے خواجہ محمد خان ہوتی نے کہا کہ پاکستان کے ترکیہ اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے انتہائی اہم اور بہترین پیش رفت ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دیگر عرب ممالک بھی ان شاء اللہ اسی سمت میں آگے بڑھیں گے اور پاکستان کے ساتھ دفاعی معاہدے کریں گے، جو ان ممالک کے اپنے مفاد میں بھی ہوں گے۔