کیا فریقین اب دوبارہ تصادم کی جانب بڑھ رہے ہیں؟ حکومت اور تحریکِ انصاف کے پاس کیا آپشنز ہیں؟ اور کیا اب بھی مذاکرات کا آپشن باقی ہے۔ یہ جاننے کے لیے بی بی سی نے سیاسی تجزیہ کاروں اور مبصرین سے بات کی ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) اور حکومت کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے بعد پی ٹی آئی کا ضلع لکی مروت سے شروع ہونے والا لانگ مارچ اتوار کے شب کرک پہنچ گیا جبکہ اس دوران فریقین ایک دوسرے پر مذاکرات کی ناکامی کا الزام عائذ کرتے ہوئے اپنے اپنے لائحہ عمل کا اعلان کر رہے ہیں۔
پی ٹی آئی نے اپنے لانگ مارچ کآ آغاز اتوار کی دوپہر ایسے وقت میں کیا ہے جب جمعہ اور سنیچر کو سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں ہونے والے مذاکرات کے دو ادوار ناکام رہے تھے۔
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ سنیچر کی شب مذاکرات میں ’99 فیصد معاملات طے‘ پا چکے تھے، لیکن وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے ان مذاکرات کو سبوتاژ کیا جبکہ تحریکِ انصاف کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کی وجہ عمران خان تک رسائی کا بنیادی مطالبہ تسلیم نہ کرنا اور شدت پسندی سے نمٹنے سے متعلق حکومتی مطالبے سے تھا۔
مذاکرات میں حکومت اور اس کے اتحادی وفد کی نمائندگی رانا ثنا اللہ، محسن نقوی، امیر مقام، طلال چوہدری، ڈاکٹر طارق فضل چوہدری، سینیٹر شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز حسین جاکھرانی نے، جبکہ اپوزیشن کی نمائندگی بیرسٹر گوہر علی خان، علامہ راجا ناصر عباس، اسد قیصر، عامر ڈوگر، سلمان اکرم راجا اور حلیم عادل شیخ نے کی تھی۔
تحریک انصاف نے مذاکرات کی ناکامی کی کیا وجوہات بتائیں؟
ان مذاکرات میں شامل حکومتی اور اپوزیشن رہنماؤں نے اتوار کی شب سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر مذاکرات میں ہونے والی بات چیت کی تفصیلات اور ڈیڈ لاک کی وجوہات بیان کی ہیں۔
تحریک انصاف کی مذاکراتی ٹیم کے رُکن اور سینیئر رہنما عامر ڈوگر کے مطابق ’کئی معاملات پر بات چیت ہوئی، بعض نکات پر اتفاق بھی ہو گیا جبکہ کچھ معاملات پر گفتگو جاری تھی۔ لیکن تین بنیادی وجوہات تھیں جن پر ڈیڈلاک ہوا۔‘
’پہلی، عمران خان صاحب سے ملاقات، جس پر حکومت راضی نہیں ہوئی۔ دوسری وجہ عمران خان صاحب کی صحت، علاج معالجہ اور ذاتی معالجین کو سابق وزیر اعظم تک رسائی سے متعلق تھی، تاہم حکومت اس پر بھی آمادہ نہیں ہوئی۔‘
عامر ڈوگر کے مطابق تیسری وجہ ’خیبر پختونخوا کی سکیورٹی اور دہشت گردی سے متعلق پالیسی تھی جس پر ہمارا مؤقف تھا کہ کوئی بھی فیصلہ یکطرفہ طور پر نہ کیا جائے اور اس حوالے سے وفاقی و صوبائی حکومت تمام متعلقہ سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لے کر مشترکہ اور متفقہ لائحۂ عمل بنائے۔ تاہم حکومت اس معاملے پر وسیع مشاورت کے بجائے 72 گھنٹوں میں جلد بازی سے فیصلے کرنا چاہتی تھی، جس پر مذاکرات ڈیڈلاک کا شکار ہوئے۔‘
ایوزیشن کی مذاکراتی ٹیم کے رُکن اور تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے مطابق ’مذاکرات کی ناکامی کی بنیادی وجہ یہ حکومتی اصرار تھا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت وفاق اور اُس کے اداروں کے اُن تمام اقدام اور آپریشنز کی تائید کرے جو صوبے میں دہشت گردی کے حوالے سے کیے جائیں گے جبکہ ضم اضلاع (سابقہ فاٹا) اور اُن سے متصل علاقوں میں 72 گھنٹوں میں ایمرجنسی کے نفاذ کی تائید مانگی گئی۔‘
سلمان اکرم راجہ کا دعویٰ ہے کہ اس معاملے پر ’پی ٹی آئی ٹیم کا موقف تھا کہ خیبر پختونخواہ میں صوبائی حکومت دہشت گردی کے لیے ہرگز کوئی برداشت نہیں رکھتی اور یہ کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وفاق اور صوبائی حکومت کو خیبر پختونخوا اسمبلی میں موجود تمام جماعتوں اور اسمبلی میں چند ماہ قبل صوبے کے معززین کے جرگے کی مشاورت اور سفارشات کی بنیاد پر ایک متفقہ لائحہ عمل طے کرنا چاہیے کیونکہ ایسا لا ئحہ عمل ہی دہشت گردی کے خلاف کامیابی کی ضمانت ہو گا۔‘
تاہم اُن کے مطابق ’حکومت مشاورت اور اتفاق کا راستہ اپنانے کو تیار نہ تھی۔‘
اتوار کی شب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے بھی بنوں اور کرک کی سرحد پر واقع ختم نبوت چوک میں لانگ مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’کل شام عمران خان اور پشتونوں کے وزیر اعلیٰ (سہیل آفریدی) نے ملٹری آپریشنز اور ڈرون حملوں پر ’ایبسلوٹلی ناٹ‘ کہا ہے۔ عمران خان نے امریکہ کو ایبسلوٹلی ناٹ کہا اور میں نے بند کمروں کے فیصلہ سازوں کو ایبسلوٹلی ناٹ کہا ہے اور انھیں بتایا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کے فیصلے خیبرپختونخوا میں ہی ہوں گے۔‘
اپوزیشن کمیٹی کے ہی ایک اور رُکن اور پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما اسد قیصر نے کہا کہ دیگر معاملات بشمول شدت پسندی کے علاوہ ’ہمارا بنیادی مطالبہ یہی تھا کہ ہماری سیاسی قیادت کو عمران خان تک رسائی دی جائے، جس پر انھوں نے کہا کہ ابھی تک یہ معاملہ اس وقت تک زیر غور نہیں ہے اور یہ معاہدے میں شامل نہیں ہو گا۔‘
حکومت کا کیا مؤقف ہے؟
مذاکرات کے ڈیڈ لاک کا شکار ہونے کے بعد حکومتی ٹیم میں شامل کئی رہنماؤں نے یہ دعویٰ کیا معاملات سلجھاؤ کی جانب جا رہے تھے مگر وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کی مداخلت کے باعث ڈیڈ لاک کا شکار ہوئے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور حکومتی مذاکراتی ٹیم کی رُکن سینیٹر شیریں رحمان کے مطابق مذاکرات اُس وقت ناکام ہوئے جب خیبر پختونخوا حکومت نے وفاق کے ساتھ انسدادِ شدت پسندی سے متعلق (اتوار کی) دوپہر کو متفقہ طور پر طے پانے والے مسودے پر یکطرفہ طور پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا۔
ان کے مطابق ’مذاکراتی ٹیم کے طور پر ہم مسلسل یہ مطالبہ کرتے رہے کہ پی ٹی آئی کی وفاقی قیادت کے ساتھ خیبر پختونخوا حکومت کے نمائندے بھی ان مذاکرات میں شریک ہوں، تاہم وزیراعلیٰ یا صوبائی کابینہ کے کسی نمائندے نے شرکت نہیں کی۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’پشاور میں قائم صوبائی حکومت نے رات ساڑھے آٹھ بجے کے بعد عین اُس وقت شرائط عائد کرنا شروع کر دیں، جب تقریباً تمام حتمی معاہدوں پر اتفاق ہو چکا تھا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب معاملات غیر ضروری پیچیدگی اور غیر پیشہ ورانہ طرزِ عمل کا شکار ہو گئے۔‘
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اتوار کو لاہور میں نیوز کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ مذاکرات کی ناکامی کے ذمہ دار وزیرِِ اعلی سہیل آفریدی ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ 99 فیصد نکات پر اتفاق ہو گیا تھا، لیکن خیبر پختونخوا حکومت نے سب کچھ ’ویٹو‘ کر دیا۔
ان کا دعویٰ ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے ایک تحریری معاہدے پر دستخط کرنے اور 72 گھنٹوں کے اندر ایک عملدرآمدی منصوبہ جمع کرانے پر اتفاق کیا تھا اور اس معاہدے کے مجوزہ نکات میں ’پولیس ایکٹ 2026 پر نظرثانی، دہشت گردوں کی نقل و حرکت کی روک تھام، ٹی ٹی پی، ٹی ٹی اے سمیت تمام دہشت گرد تنظیموں کی مذمت، افغان مہاجرین سے متعلق قومی پالیسی کی حمایت، عبوری افغان حکومت سے رابطوں سے گریز، اور انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے لیے اضافی فنڈز کی فراہمی شامل تھی۔‘
بعدازاں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ’پی ٹی آئی کا وطیرہ رہا ہے کہ یہ بات چیت کے لیے آتے ضرور ہیں مگر دوہرے معیار پر مبنی اپنی پالیسیوں کو ترک کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ یہ یو ٹرن لینے کے ماہر ہیں اور اپنی کسی ایک بات پر قائم نہیں رہ سکتے۔‘
مذاکرات کی ناکامی کے بعد جہاں ایک جانب تحریک انصاف نے اپنے لانگ مارچ کا آغاز کر دیا ہے تو دوسری جانب وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے پشاور پہنچ کر گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات میں انسپیکٹر جنرل خیبر پختونخوا پولیس سمیت دیگر اعلیٰ حکام موجود تھے۔
’مذاکرات کی کامیابی کی اُمید پہلے ہی بہت کم تھی‘

سینیئر صحافی و تجزیہ کار مظہر عباس نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُنھیں کبھی بھی نہیں لگا تھا کہ مذاکرات کامیاب ہوں گے کیونکہ دونوں طرف سے سخت بیانات کا سلسلہ جاری تھا اور وفاقی وزرا کے بیانات سے ایسا لگ رہا تھا کہ وہ تحریکِ انصاف کو ’دہشت گرد‘ جماعت قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔
ان کے مطابق ’دونوں طرف سے سخت بیانات کی وجہ سے مذاکرات کی کامیابی کے امکانات پہلے دن سے ہی مشکوک تھے۔ مذاکرات کے معاملے پر تحریکِ انصاف کے اندر بھی دو دھڑے نظر آئے، لیکن آخرکار سہیل آفریدی کا دھڑا ہی کامیاب ہوا ہے جس کے بعد بظاہر گوہر خان اور دیگر کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔‘
مظہر عباس کے مطابق حکومت کے لیے یہ بہتر ہوتا کہ وہ پی ٹی آئی کے کچھ لوگوں کی عمران خان سے ملاقات کروا دیتی تاکہ بات آگے بڑھانے کا ایک عذر مل جایا کہ حکومت بھی کسی حد تک پی ٹی آئی کے مطالبات تسلیم کر رہی ہے۔
اُن کے بقول ملاقات نہ کروا کر حکومت نے خوامخواہ ایک ایسے وقت میں اپنے لیے مشکلات پیدا کی ہیں، جب ملک میں شدت پسندی کی لہر ہے، اور ایسے ماحول میں مسائل کا حل نکالنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
سینیئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انھوں نے جو حتمی ڈرافٹ دیکھا ہے تو اس میں حکومت نے اپنی زیادہ شرائط پی ٹی آئی سے منوائی تھیں۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کے مطالبے سے بھی پیچھے ہٹ گئی تھی، مگر 72 گھنٹوں والی شرط سے زیادہ مسائل پیدا ہوئے۔
حامد میر کے مطابق سہیل آفریدی کو یہ وضاحت بھی دی گئی کہ صوبے کے پانچ اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کی جائے گی، جس میں ان کا آبائی ضلع بھی شامل تھا جس پر سہیل آفریدی کا مؤقف ہے کہ ’اس کا مطلب تو یہ ہے کہ پھر فوجی آپریشن ہو گا، ڈرون حملے ہوں گے اور بڑے پیمانے پر انخلا اور گرفتاریاں ہوں گی۔‘
حامد میر کے مطابق جب پی ٹی آئی سے غیرمشروط لانگ مارچ ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تو ایک لمحے پر تحریک انصاف کی مذاکراتی ٹیم میں شامل چند رہنما اس سے متفق بھی ہو گئے تھے۔
پشاور میں مقیم سینیئر صحافی فرزانہ علی نے بی بی سی کو بتایا بظاہر ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی صوبے میں کسی بھی بڑے فوجی آپریشن کے حق میں نہیں اور انھوں نے اس کی وجہ صوبائی اسمبلی میں منعقد ہونے والے جرگے کی سفارشات کو قرار دیا ہے۔
فرزانہ علی کے مطابق سہیل آفریدی نے صحافیوں کو بتایا کہ جرگے کی سفارشات حکومت اور سکیورٹی کے اداروں سے بھی شیئر کی گئی تھیں اور یہ کہا گیا تھا کہ خیبر پختونخوا میں صوبائی ایکشن پلان پر عملدرآمد ہو گا، نہ کہ اس کے بعد کے کسی پلان پر۔
کیا مذاکرات میں ناکامی تحریک انصاف کی مشکلات میں اضافہ کرے گی؟
لانگ مارچ کے شرکا پیر کی صبح کرک سے ضلع کوہاٹ کے لیے روانہ ہوں گےمظہر عباس کے مطابق مذاکرات کی ناکامی کے بعد حکومت اور پی ٹی آئی دونوں کے لیے مشکل صورتحال ہے۔
اُن کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے لیے مشکل یہ ہے کہ وہ اس لانگ مارچ کو کہاں تک لے کر جائیں گے اور آیا وہ اپنے اعلانات پر قائم رہ پائیں گے یا نہیں۔
’پچھلے لانگ مارچ کے دوران 26 نومبر کو جو کچھ ہوا، اس کے بعد حالیہ لانگ مارچ کا اعلان کرنے میں پی ٹی آئی کو ڈیڑھ، دو سال لگ گئے، اس وقت لانگ مارچ میں علی امین گنڈا پور پر سوال اُٹھے تھے۔ تو میرا خیال ہے کہ پی ٹی آئی کے لیے مستقبل قریب میں بہت مشکل صورتحال ہو گی۔ کیونکہ بظاہر وہ خود کو بند گلی میں لے جا رہے ہیں۔‘
مظہر عباس کے بقول ’اب ایسا نظر آ رہا ہے کہ ہم تصادم کی جانب بڑھ رہے ہیں، لیکن اس میں تحریکِ انصاف کا زیادہ نقصان ہو سکتا ہے، کیونکہ ان کے پاس بظاہر آگے کوئی آپشن نظر نہیں آ رہا۔‘
تجزیہ کار ضیغم خان نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ افغانستان کے ساتھ جہاں تعلقات اچھے نہیں ہیں وہیں اب داخلی صورتحال بھی بہت زیادہ چیلنجنگ ہو گئی ہے۔ اُن کے مطابق پی ٹی آئی کی دو دہائیوں سے یہ پالیسی رہی ہے کہ شدت پسندی کے معاملے میں کالعدم ٹی ٹی پی جیسے شدت پسند گروہوں کا ہدف نہیں بننا۔
ضیغم خان کی رائے میں مقتدر حلقوں کو شدت پسندی والے معاملے کو علیحدہ سے زیر بحث لانا چاہیے تھا، نہ کہ سیاسی معاملات کے ساتھ اس کو جوڑا جاتا۔
انھوں نے کہا کہ اب پی ٹی آئی کے لائحہ عمل پر منحصر ہے کہ کیا وہ پرانے طریقے سے اسلام آباد داخل ہونا چاہتی ہے، جس سے پھر کشیدگی میں اضافہ ہو گا۔ ان کے مطابق ابھی اپنے ہی صوبے میں لانگ مارچ کو محدود رکھنا بہتر حکمت عملی دکھائی دیتی ہے۔
’گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ بدقسمتی ہو گا‘
سینیئر صحافی مظہر عباس کے مطابق ابھی بھی کوشش ہو رہی ہے کہ بات چیت کا سلسلہ دوبارہ جوڑے، لیکن اس کے لیے یہ ضروری قرار دیا گیا ہے کہ پی ٹی آئی اپنا لانگ مارچ منسوخ کرے۔
انھوں نے کہا کہ عمران خان سے ملاقات کا بنیادی مطالبہ اگر حکومت مان لیتی ہے تو پھر سہیل آفریدی کو بھی چاہیے کہ وہ صوبائی اپیکس کمیٹِی کا اجلاس بلائیں اور شدت پسندی کی روک تھام کے معاملات پر توجہ دیں۔
تجزیہ کار سابق لیفٹیننٹ جنرل عبدالقیوم نے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت وفاقی حکومت کے کندھوں پر بوجھ زیادہ ہے کہ وہ عوام کے حقوق کا تحفظ کرے۔
اُن کے مطابق خیبر پختونخوا میں ’گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ بدقسمتی ہو گی مگر بظاہر حکومت کو اِس وقت کوئی اور چارہ نظر نہیں آ رہا۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ایک جمہوری ملک میں ہر صوبے میں ایک جمہوری حکومت ہی ہونی چاہیے مگر آئین اور قانون اس بات کی بھی اجازت دیتے ہیں کہ اگر کوئی حکومت ’ڈلیور‘ نہ کر سکے تو پھر گورنر راج، ایمرجنسی یا تحریک عدم اعتماد جیسے اقدامات بھی اٹھائے جا سکتے ہیں۔‘
دوسری جانب حامد میر کی رائے ہے کہ فی الحال گورنر راج جیسا اقدام ناکامی کا سامنا بھی کر سکتا ہے۔
’اس وقت سہیل آفریدی لانگ مارچ کے ہمراہ اپنے ہی صوبے میں گھوم رہے ہیں۔ وہ اس صوبے میں لانگ مارچ کر رہے ہیں جہاں ان کی حمایت اور حکومت ہے۔ بظاہر فی الحال تو اگلے چار دن تک یہ مارچ اس صوبے تک ہی محدود رہے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ وفاقی حکومت کے ایمرجنسی یا گورنر راج جیسے اقدامات ناکام بھی ہو سکتے ہیں کیونکہ خیبرپختونخوا میں عوام سڑکوں پر ہیں اور کسی بھی ایسے اقدام کی صورت میں یہ لوگ گورنر ہاؤس کے باہر ہوں گے۔
تاہم حامد میر کی رائے میں ابھی بھی مذاکرات کے ذریعے رستہ نکل سکتا ہے۔
فرزانہ علی کی رائے پی ٹی آئی ابھی بھی بات چیت کے حق میں دکھائی دیتی ہے، تاہم مقتدر حلقے ابھی اس جماعت کی سیاسی طاقت کا اندازہ لگا کر ہی آگے کوئی اقدام اٹھائیں گے۔
ان کے مطابق فی الحال حکومت اور اسٹیبلشمنٹ یہ دیکھیں گے کہ پی ٹی آئی کی لانگ مارچ کی کال کو کتنی حمایت حاصل ہے اور اگر عوام باہر نکلتے رہے تو پھر شاید مذاکرات کا دور آگے بڑھے۔
مظہر عباس کہتے ہیں کہ آغاز میں خیبر پختونخوا کے اندر ہی لانگ مارچ کے اعلانات سے ایسا لگتا ہے کہ پی ٹی آئی کو اب بھی اُمید ہے کہ عمران خان سے ملاقات سمیت دیگر مطالبات پر کچھ دباو ڈال کر پیش رفت ہو سکتی ہے۔
اُن کے بقول تحریکِ انصاف کو بھی معلوم ہے کہ اسلام آباد میں جس نوعیت کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، اُن کے لیے اس کا مقابلہ کرنا مشکل ہو گا۔ ’اس لیے وہ ورکرز کو متحرک بھی رکھنا چاہ رہے ہیں اور ساتھ یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ شاید کوئی راستہ نکل آئے۔‘