اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ یا آپ کے عزیز اتنے سمجھدار ہیں کہ دھوکے میں نہیں آئیں گے تو آپ غلط ہیں۔ اب اے آئی اتنی ترقی کر چکی ہے کہ صرف اپنی آنکھوں اور کانوں پر بھروسا کرنا کافی نہیں رہا اور مجرم ایسے فراڈ بڑے پیمانے پر کر رہے ہیں۔یہ ایک جدید ٹیکنالوجی سے جڑا مسئلہ ہے لیکن خوش قسمتی سے اس کا حل بہت سادہ ہے۔
ڈیپ فیک فراڈ میں آپ کی آواز تو استعمال کی جا سکتی ہے لیکن دھوکے باز یہ نہیں جانتے کہ آپ کیا سوچتے ہیں۔ صرف پانچ منٹ کی تیاری آپ کے عزیزوں کو دھوکے سے بچا سکتی ہے۔
نیویارک کے شہر بفیلو کی رہائشی الزبتھ بینز کو بھی ایسے ہی ایک دھوکے سے متعلق ستمبر 2025 میں ایک فون کال موصول ہوئی۔
وہ کہتی ہیں کہ ’یہ میری زندگی کا سب سے خوفناک لمحہ تھا۔ یہ میرا 16 سالہ بیٹا جان تھا۔ وہ رو رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ ماں، میرا دوست مر گیا ہے، وہ مر گیا ہے۔‘
وہ یہ سن کر گھبرا گئیں لیکن ابھی صورتحال مزید خراب ہونے والی تھی۔
پھر ایک اجنبی نے فون سنبھال لیا۔
اگلے 20 منٹ تک اس شخص نے انھیں بتایا کہ اس نے ان کے بیٹے کے دوست کو قتل کر دیا ہے اور اگر وہ والمارٹ کی ایک پارکنگ میں 7,500 ڈالر (5,570 پاؤنڈ) لے کر نہ آئیں تو وہ ان کے بیٹے کو بھی مار دے گا۔
بینز کہتی ہیں کہ ’اس نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ہم تمھارے بیٹے کو مار دیں گے۔‘
اس کال کے کچھ ہی دیر بعد وہ وہاں جانے کے لیے گاڑی چلا رہی تھیں لیکن عین وقت پر جان کے بھائی نے اس سے رابطہ کر لیا۔
وہ ایک فٹبال میچ میں موجود تھا۔ جان کسی خطرے میں نہیں تھا اور فون پر سنائی دینے والی آواز بھی اس کی نہیں تھی۔
یہ سب ایک اے آئی ڈیپ فیک فراڈ تھا۔
الزبتھ بینز کہتی ہیں کہ ’مجھے یقین ہی نہیں آ رہا تھا۔‘
’ذہنی طور پر تیار رہنا بھی ضروری ہے‘
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ یا آپ کے عزیز اتنے سمجھدار ہیں کہ ڈیپ فیک کے دھوکے میں نہیں آئیں گے تو آپ غلط ہیں۔
اب اے آئی اتنی ترقی کر چکی ہے کہ صرف اپنی آنکھوں اور کانوں پر بھروسا کرنا کافی نہیں رہا اور مجرم ایسے فراڈ بڑے پیمانے پر کر رہے ہیں۔
یہ ایک جدید ٹیکنالوجی سے جڑا مسئلہ ہے لیکن خوش قسمتی سے اس کا حل بہت سادہ ہے اور یہ آپ کو زندگی بھر کے پچھتاوے سے بچا سکتا ہے۔
آپ کے خاندان کو ایک خفیہ لفظ یا کوڈ ورڈ طے کرنا چاہیے جسے ہنگامی صورتحال میں ایک دوسرے کی شناخت کی تصدیق کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
فراڈ کرنے والے کے پاس آپ کی آواز ہو سکتی ہے لیکن وہ آپ کے خفیہ راز نہیں جانتے۔
ماہرین اور ایسے فراڈ کا شکار ہونے والے افراد کہتے ہیں کہ محفوظ رہنے کے لیے یہ سب سے اہم اقدامات میں سے ایک ہے۔
لیکن صرف پاس ورڈ رکھ لینا کافی نہیں اس کے لیے بینز کی مثال ہی کافی ہے۔
ان کی کہانی کا ایک حیران کن پہلو یہ ہے کہ جب انھیں یہ فراڈ والی کال موصول ہوئی تو ان کے خاندان کے پاس اس طرح کی صورتحال کے لیے پہلے سے ایک خفیہ لفظ موجود تھا۔
’اس پریشانی میں میرے ذہن میں یہ بات ہی نہیں آئی کہ میں وہ خفیہ لفظ پوچھوں، ایسے فراڈ میں انسان اس قدر گھبرا جاتا ہے کہ صحیح طرح سوچ ہی نہیں پاتا۔‘
اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف خفیہ لفظ طے کرنا کافی نہیں بلکہ ذہنی طور پر تیار رہنا بھی ضروری ہے۔
یہ کام کچھ زیادہ مشکل ضرور ہے لیکن اس مضمون میں شامل تجاویز اس میں مدد کر سکتی ہیں۔
اگر کبھی آپ کو بھی اس طرح نشانہ بنایا جائے تو ممکن ہے یہ ان سب سے اہم مشوروں میں شامل ہو جنھیں آپ پڑھنے والے ہیں۔
خفیہ لفظ کیا ہے؟
صرف امریکہ میں ہی 2025 کے دوران لوگوں نے آن لائن فراڈ اور جرائم کے نتیجے میں اندازاً 148.2 ارب ڈالر (110.1 ارب پاؤنڈ) گنوا دیے، جو اس سے پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً 26 فیصد زیادہ رقم ہے۔
اس رقم میں سے 6.3 ارب ڈالر (4.7 ارب پاؤنڈ) ایسے فراڈ سے متعلق تھے جن میں اے آئی کا استعمال کیا گیا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے فراڈ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
گیٹ ریئل سکیورٹی کے شریک بانی اور اے آئی ڈیپ فیکس کے حوالے سے دنیا کے ممتاز ماہرین میں شمار ہونے والے ہینی فرید کہتے ہیں کہ ’یہ کوئی فرضی یا خیالی مسئلہ نہیں ہے۔ اس طرح کے فراڈ دنیا بھر میں کیے جا رہے ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں ’ذرا تصور کریں کہ رات دو بجے آپ کو ایک فون کال، وائس میل یا ویڈیو کال موصول ہوتی ہے اور کوئی عزیز کہہ رہا ہے کہ وہ مشکل میں ہے۔‘
’یا پھر آپ کے ادارے کا سربراہ فون پر گھبرائی ہوئی آواز میں کہہ رہا ہو کہ اسے فوری طور پر لاگ اِن ہونے میں مدد چاہیے۔عام لوگ اس طرح کی صورتحال کے لیے تیار نہیں ہوتے۔‘
فرید اور دیگر ماہرین متفق ہیں کہ خفیہ لفظ یا کوڈ ورڈ اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کا سب سے آسان طریقہ ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’میری اہلیہ اور میرے درمیان ایک پاس ورڈ طے ہے۔ اگر ہم میں سے کسی کو کوئی غیرمعمولی کال آئے تو ہم شناخت کی تصدیق کے لیے اسے استعمال کرتے ہیں۔‘
ایسا لفظ منتخب کریں جو یاد رکھنا آسان ہو لیکن دوسروں کے لیے اس کا اندازہ لگانا مشکل ہو۔
خاندانی مذاق یا ایسی باتیں جو صرف آپس میں معلوم ہوں اس مقصد کے لیے موزوں انتخاب ہو سکتی ہیں۔
فرید کہتے ہیں کہ ’اگر میری اہلیہ فون کر کے مجھ سے دودھ لانے کو کہیں تو میں پاس ورڈ نہیں پوچھوں گا۔ لیکن اگر مجھے معلوم ہو کہ وہ کسی میٹنگ میں ہیں یا وہ کہیں کہ ان کا حادثہ ہو گیا ہے اور انھیں فوری طور پر رقم منتقل کروانی ہے یا کوئی بھی غیرمعمولی بات ہو تو پھر پاس ورڈ استعمال کرنے کا وقت ہوتا ہے۔‘
لیکن جب آپ کو ایسی کال موصول ہو اور آپ کسی عزیز کو مشکل میں سنیں تو گھبراہٹ آپ کی ساری منصوبہ بندی کو درہم برہم کر سکتی ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ آپ جانتے ہوں کہ کب اور کیسے غیر معمولی حالات میں تیار رہنا ہے۔
خطرے کی علامات کو پہچانیں
’فراڈ کرنے والے چاہتے ہیں کہ آپ خوفزدہ ہوں اور دوسروں سے کٹے رہیں تاکہ آپ کو سوچنے کا وقت نہ ملے۔‘امریکہ کے شہر فلاڈیلفیا سے تعلق رکھنے والے وکیل گیری شِلڈہورن 2023 میں خود بھی ایک ڈیپ فیک فراڈ سے بال بال بچ گئے تھے۔
یہ تجربہ اُن کے لیے اتنا پریشان کن تھا کہ اب وہ اپنے فارغ وقت میں لوگوں کو فراڈ سے بچاؤ کے بارے میں آگاہ کرنے کا کام کرتے ہیں۔
شِلڈہورن کہتے ہیں کہ ’ایسے فراڈیوں کے کال کرنے کی تین بڑی نشانیاں ہیں۔‘
ان کے مطابق ان سب کا مقصد ایک ہی ہوتا ہے کہ فراڈ کرنے والے چاہتے ہیں کہ آپ خوفزدہ ہوں اور دوسروں سے کٹے رہیں تاکہ آپ کو سوچنے کا وقت نہ ملے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’پہلی نشانی وقت کا دباؤ ہے۔ ہر کام فوراً کرنے کو کہا جاتا ہے۔ دوسری یہ کہ وہ کبھی ایسی رقم نہیں مانگتے جس کا ریکارڈ رکھا جا سکے۔ اگر وہ بٹ کوائن، گفٹ کارڈز یا نقد رقم مانگیں تو آپ سمجھ جائیں کہ معاملہ مشکوک ہے۔‘
ان کے مطابق ’تیسری یہ کہ وہ کوشش کرتے ہیں کہ آپ کسی اور سے بات نہ کریں۔
’ہنگامی کال آئے تو گھبرائیں نہیں‘
روایتی فراڈ کی ان نشانیوں کو پہچاننا بہت اہم ہے، لیکن صرف آگاہی کافی نہیں۔
اے آئی سکیورٹی تربیتی پروگرام بنانے والی کمپنی ایڈاپٹو سکیورٹی کے شریک بانی برائن لانگ کہتے ہیں کہ ’سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ ایسے حالات میں ردعمل کیسے دیتے ہیں۔ آپ کو ذہنی طور پر خود کو اس طرح کی صورتحال کے لیے تیار کرنا ہوگا۔‘
’اور یقیناً یہ بھی ضروری ہے کہ آپ اور آپ کے عزیز اس خفیہ لفظ کو نہ بھولیں۔ اس کا بہترین طریقہ مشق کرنا ہے، تاہم اس کے لیے بہت زیادہ وقت یا محنت درکار نہیں ہوتی۔‘
گیری شِلڈہورن کہتے ہیں کہ ’میں کئی سال سے فراڈ کے بارے میں ماہرین سے بات کرتا آ رہا ہوں اور میں نے اپنے لیے ایک سادہ طریقہ بنا رکھا ہے۔ میں نے اپنے فون میں ایک یاددہانی (ریماینڈر) لگا رکھا ہے جو ہر تین ماہ بعد مجھے یاد دلاتا ہے کہ میں اپنے گھر والوں سے بات کروں اور یہ یقینی بناؤں کہ ہم سب کو وہ خفیہ لفظ یاد ہے۔‘
ان کے مطابق ’یہ مجھے ایک اور بات بھی یاد دلاتا ہے کہ اگر کوئی ہنگامی کال آئے تو گھبرانا نہیں، خفیہ لفظ پوچھنا ہے اور کوئی قدم اٹھانے سے پہلے کسی قابلِ اعتماد شخص سے مشورہ کرنا ہے۔‘
بینز کہتی ہیں کہ ’ میں اپنی کہانی اس لیے سناتی ہوں تاکہ لوگوں کو معلوم ہو سکے کہ اس طرح کی کالیں کتنی ہنگامی، خوفناک، نفسیاتی دباؤ ڈالنے والی اور حقیقت جیسی لگ سکتی ہیں۔ تاہم آگاہی ہی سب سے بڑا ہتھیار ہے۔‘