فیدل کاسترو کی باغی بیٹی کا کیوبا سے فلمی فرار: وہ نہیں جانتی تھیں کہ انقلابی قومی رہنما ان کے والد ہیں

الینا کی دنیا اس وقت بدل گئی جب 10 برس کی عمر میں ان کی والدہ نے انھیں بتایا کہ جس شخص کو پوری دنیا فیدل کاسترو کے نام سے جانتی ہے، وہ دراصل ان کے والد ہیں۔ یہ وہ راز تھا جس سے خاندان اور قریبی حلقے پہلے ہی واقف تھے، مگر الینا کے لیے یہ انکشاف کسی زلزلے سے کم نہیں تھا۔
الینا اور فیدل کاسترو، 1960 کی دہائی میں
Alina Fernández
فیدل کاسترو کی تین مختلف خواتین سے تسلیم شدہ سات اولادیں تھیں، جن میں الینا واحد بیٹی ہیں

دنیا بھر میں کروڑوں لوگ فیدل کاسترو کو ایک انقلابی رہنما، طاقتور حکمران اور امریکہ کے سخت ترین ناقد کے طور پر جانتے ہیں، مگر ایک لڑکی کے لیے وہ ایک ایسے باپ تھے جن کی موجودگی ہر جگہ محسوس ہوتی تھی لیکن جنھیں وہ اپنا باپ کہہ نہیں سکتی تھی۔

کیوبا کے سابق صدر فیدل کاسترو کی بیٹی الینا فرنانڈیز ریویولتا کی زندگی کسی سیاسی تاریخ سے زیادہ ایک ذاتی المیے اور شناخت کی تلاش کی کہانی معلوم ہوتی ہے۔ بچپن میں وہ ٹیلی وژن پر اپنے والد کو دیکھتی تھیں، ان کی تقاریر سنتی تھیں اور پورا ملک ان کے نام کے نعرے لگاتا تھا، لیکن انھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ شخصیت صرف قومی رہنما ہی نہیں بلکہ ان کے حقیقی والد بھی ہیں۔

الینا کی دنیا اس وقت بدل گئی جب 10 برس کی عمر میں ان کی والدہ نے انھیں بتایا کہ جس شخص کو پوری دنیا فیدل کاسترو کے نام سے جانتی ہے، وہ دراصل ان کے والد ہیں۔ یہ وہ راز تھا جس سے خاندان اور قریبی حلقے پہلے ہی واقف تھے، مگر الینا کے لیے یہ انکشاف کسی زلزلے سے کم نہیں تھا۔

13 اگست 2026 کو فیدل کاسترو کی پیدائش کو 100 سال مکمل ہوئے۔ اس موقع پر ان کی واحد تسلیم شدہ بیٹی الینا، جو آج امریکہ کے شہر میامی میں مقیم ہیں، اپنی زندگی کے ان پہلوؤں پر بات کرتی ہیں جو اقتدار کے ایوانوں سے کہیں زیادہ ایک بیٹی کے جذبات، تنہائی اور شناخت کے بحران سے جڑے ہیں۔

1956 میں ہوانا میں پیدا ہونے والی الینا، فیدل کاسترو اور سماجی طور پر بااثر خاتون ناٹی ریویولتا کے تعلق کا نتیجہ تھیں۔ اگرچہ وہ دنیا کے مشہور ترین سیاسی ناموں میں سے ایک کی اولاد تھیں، لیکن انھوں نے کبھی ’کاسترو‘ نام اختیار نہیں کیا۔ ان کے مطابق اس نسبت نے انھیں سہولتوں سے زیادہ مسائل، دباؤ اور ذاتی آزمائشوں سے دوچار کیا۔

الینا فرنانڈیز
Atahualpa Amerise BBC
الینا فرنانڈیز نے میامی میں اپنے گھر پر بی بی سی منڈو کا استقبال کیا

الینا اعتراف کرتی ہیں کہ فیدل کاسترو کی جو پہلی تصویر اُن کے ذہن میں ابھرتی ہے، وہ ایک گھنی داڑھی والے شخص کی ہے جو 1959 میں باغی دستوں کی قیادت کرتے ہوئے ہوانا کی جانب پیش قدمی کر رہا تھا اور ٹیلی وژن سکرینوں پر چھایا ہوا تھا۔ اُن کے بقول، اس شخصیت نے ان کے بچپن میں گویا بچوں کے پسندیدہ کارٹون کردار مِکی ماؤس کی جگہ لے لی تھی۔

برسوں بعد، 1993 میں، الینا نے جعلی پاسپورٹ، وِگ اور مصنوعی ہسپانوی لہجے کی مدد سے کیوبا سے فرار ہونے میں کامیابی حاصل کی۔

امریکہ پہنچنے کے بعد اُنھیں احساس ہوا کہ جس شناخت سے وہ ساری زندگی فاصلہ اختیار کرتی رہی تھیں، وہی دراصل اُن کے لیے کیوبا میں سیاسی جبر اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتی ہے۔

آج فیدل کاسترو کی بیٹی میامی کے ایک پُرسکون رہائشی علاقے میں واقع اپنے گھر کے پھولوں سے آراستہ صحن میں ہمارا استقبال کرتی ہیں، جہاں وہ گذشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے مقیم ہیں۔

ستر سالہ الینا گفتگو کے دوران اپنی زندگی کے ایسے واقعات بیان کرتی ہیں جو کسی فلمی داستان سے کم محسوس نہیں ہوتے۔ یہ کہانی اُن ابتدائی یادوں سے شروع ہوتی ہے جو ایک ایسے انقلابی رہنما سے وابستہ ہیں جس نے نہ صرف اُن کی ذاتی زندگی بلکہ پورے کیوبا کی تاریخ اور تقدیر کا رخ بھی ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔

رات کے وقت آنے والا مہمان

الینا ابھی تین سال کی بھی نہیں ہوئی تھیں کہ یکم جنوری 1959 کو فلخینسیو باتیستا ملک چھوڑ کر فرار ہو گئے اور فیدل کاسترو نے سانتیاگو سے وہ تاریخی سفر شروع کیا جو آٹھ دن بعد انھیں کیوبا کے نئے رہنما کی حیثیت سے ہوانا لے آیا۔

الینا کو یاد ہے کہ ان کے گھر کے ٹیلی وژن سے ’مِکی ماؤس غائب ہو گیا‘ اور اس کی جگہ ’کچھ داڑھی والے آدمی نظر آنے لگے جو گاڑیوں سے لٹکے ہوئے تھے۔ میں ان سے بہت ڈرتی تھی اور کئی دنوں تک وہی لوگ ٹی وی سکرین پر چھائے رہے۔‘

ابتدائی عوامی جشن اور خوشی کا ماحول جلد ہی ان کی یادوں میں ایک مختلف منظر نامے میں تبدیل ہو گیا۔

فیدل کاسترو اور کامیلو سینفیوگوس کی قیادت میں باغی 8 جنوری 1959 کو ہوانا میں داخل ہوتے ہیں
Getty Images
فیدل کاسترو اور کامیلو سینفیوگوس کی قیادت میں باغی 8 جنوری 1959 کو ہوانا میں داخل ہوئے

وہ کہتی ہیں، ’اس کے بعد فائرنگ کرکے دی جانے والی سزائیں شروع ہوئیں، جنھیں ٹیلی وژن پر بھی دکھایا جاتا تھا، اور عوامی مقدمات بھی چلائے جاتے تھے۔ کیوبا خوف اور تشدد کی فضا میں ڈوب گیا تھا۔‘

ملک میں آنے والی اس بڑی تبدیلی نے بے شمار خاندانوں کو تقسیم کر دیا اور ان کا خاندان بھی ان میں شامل تھا۔ ان کی والدہ نے انقلاب کو قبول کر لیا، جبکہ ان کی نانی نئے حکمرانوں پر تنقید کرتی تھیں۔ خاندان کے دیگر افراد، جن میں وہ شخص بھی شامل تھا جسے الینا اپنا والد سمجھتی تھیں، سب کچھ چھوڑ کر امریکہ چلے گئے۔

اسی دوران، جب وہ ان تمام معاملات کو پوری طرح سمجھے بغیر بڑی ہو رہی تھیں، کیوبا کے نئے رہنما فیدل کاسترو نے ان کے گھر آنا جانا شروع کر دیا۔

وہ کہتی ہیں، ’وہ رات کے وقت آنے والے ایک مہمان تھے، مگر بار بار آتے تھے، اگرچہ بعض اوقات ان کے درمیان وقفے بھی آ جاتے تھے۔‘

لینا اپنی والدہ کے ساتھ
Alina Fernández
الینا اپنی والدہ کے ساتھ 1958 میں، جب فیدل کاسترو کی بیٹی چار سال کی تھیں

الینا کے مطابق فیدل گھر کے کمرے میں فرش پر بیٹھ کر ان کے ساتھ کھیلتے تھے اور انھیں تحائف بھی دیا کرتے تھے۔ ان تحائف میں ایک چیز انھیں آج بھی خاص طور پر یاد ہے۔

’انھوں نے مجھے فیدل کاسترو کی ایک کھلونا دیا، یہ ایک گُڈا تھا جس نے انھی جیسا لباس پہن رکھا تھا۔ میں اس کی داڑھی کے بال نوچ دیا کرتی تھی کیونکہ میرے لیے وہ محض ایک بچے کا کھلونا تھا۔‘

وہ یہ بھی یاد کرتی ہیں کہ فیدل کے آنے پر ان کی والدہ ’خوشی سے جگمگا اٹھتی تھیں۔ محبت کو پہچانا جا سکتا ہے، اور میری ماں ان سے محبت کرتی تھیں۔‘

جب ناٹی ریویولتا اور فیدل کاسترو کے درمیان تعلقات کا آغاز ہوا تو دونوں شادی شدہ تھے۔ ناٹی کی شادی ماہرِ امراضِ قلب اورلینڈو فرنانڈیز سے ہوئی تھی جبکہ فیدل کی اہلیہ میرٹا دیاث بالارت تھیں۔

الینا فرنانڈیز اور ان کی والدہ ناٹی ریویولتا، 1960 کی دہائی کے آغاز میں
Alina Fernández
الینا فرنانڈیز اور ان کی والدہ ناٹی ریویولتا، 1960 کی دہائی کے آغاز میں

اورلینڈو نے الینا کو اپنا خاندانی نام دیا اور وہ اسی یقین کے ساتھ پروان چڑھیں کہ وہی ان کے والد ہیں، حتیٰ کہ 1961 میں ان کے کیوبا چھوڑنے کے بعد بھی۔

جب الینا دس برس کی ہوئیں تو انھیں حقیقت کا علم ہوا۔

وہ بتاتی ہیں، ’میری والدہ نے خود مجھے یہ بات بتائی۔ وہ میرا سکول تبدیل کرنے والی تھیں اور نہیں چاہتی تھیں کہ کوئی اجنبی شخص مجھے یہ راز بتا دے۔‘

اگرچہ یہ انکشاف ان کے لیے مکمل طور پر حیران کن نہیں تھا، کیونکہ فیدل اپنی وقفے وقفے سے ہونے والی آمد کی وجہ سے ایک باپ جیسی شخصیت بن چکے تھے، لیکن پھر بھی انھیں اس سے ’دھوکے اور فریب‘ کا احساس ہوا۔

’یہ ایک ایسا راز تھا جسے پورا سرکس جانتا تھا، سوائے میرے۔‘

بارہ یا تیرہ سال کی عمر میں انھوں نے اپنا خاندانی نام تبدیل کرنے سے انکار کر دیا۔

وہ کہتی ہیں، ’میں اکثر ’نہیں‘ کہہ دیتی تھی جب لوگ مجھ سے پوچھتے تھے کہ کیا میں ان کی بیٹی ہوں۔ مجھے مناسب نہیں لگا کہ ایک دن اچانک بدلے ہوئے نام کے ساتھ سب کے سامنے آ جاؤں۔ مجھے اس میں کوئی فائدہ نظر نہیں آتا تھا۔‘

الینا کے مطابق انھوں نے فیدل کو کبھی ’پاپا‘ نہیں کہا۔

ان کے لیے یہ لفظ صرف اس شخص کے لیے مخصوص تھا جسے وہ اپنی ابتدائی زندگی میں باپ کی حیثیت سے جانتی تھیں: اورلینڈو فرنانڈیز۔

فیدل کاسترو کے ساتھ ان کا تعلق

اپنے گھر میں الینا
Walter Fojo BBC
ایلینا نے بی بی سی مندو کو بتایا کہ کون سی باتیں تھیں جن کی وجہ سے انھوں نے ان انقلابی نظریات کو مسترد کر دیا جنھیں ان کے والد نے اپنی پوری زندگی اپنائے رکھا

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ الینا کی مایوسی صرف اپنے والد سے ہی نہیں بلکہ اس سیاسی نظام سے بھی بڑھتی گئی جو فیدل کاسترو نے کیوبا میں قائم کیا تھا۔

وہ بتاتی ہیں کہ لوگ اکثر انھیں خطوط تھما دیتے تھے، اس امید پر کہ وہ انھیں فیدل کاسترو تک پہنچا سکیں گی۔

ان کے مطابق، یہ درخواستیں عموماً ایسے خاندانوں کی جانب سے آتی تھیں جن کے عزیزوں کو سزائے موت دی جا چکی تھی، جو ملک چھوڑنے کی اجازت کے منتظر تھے یا جن کے رشتہ دار سیاسی قید میں تھے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے بچپن ہی سے یہ سب کچھ اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھا تھا۔‘

ان کے بقول، یہ وہ دور تھا جب ’نئے انسان‘ کی تشکیل کے انقلابی تصورات، نظریاتی تربیت اور رہنما کی شخصیت کے گرد پروان چڑھنے والی عقیدت روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے تھے۔

’اختتام ہفتہ نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی تھی، کیونکہ وہ رضاکارانہ مشقت کے لیے مخصوص تھے، حالانکہ حقیقت میں یہ کام لازمی ہوتے تھے۔ مسلسل جنگی مشقیں اور مختلف مہمات جاری رہتی تھیں۔ ایک شخص، یعنی فیدل، سات سات گھنٹے طویل ٹی وی خطابات کرتا تھا، جنھیں ہمیں دیکھنا پڑتا تھا اور پھر اگلے دن کلاس میں ان پر گفتگو بھی کرنی ہوتی تھی۔ میرے لیے یہ سب کسی ڈراؤنے خواب جیسا تھا۔‘

وہ ایک توقف کے بعد کہتی ہیں، ’آپ کو یوں محسوس ہوتا تھا جیسے آپ کسی پاگل خانے میں رہ رہے ہوں۔‘

الینا فرنانڈیز ہمیں اپنی کتاب
Walter Fojo BBC
الینا فرنانڈیز ہمیں اپنی کتاب "الینا: فیدل کاسترو کی باغی بیٹی کی یادداشتیں" میں شامل پرانی تصاویر دکھاتی ہیں

فرانس میں کچھ عرصہ گزارنے کے بعد فیدل کاسترو کی ان کی زندگی میں براہِ راست موجودگی مزید کم ہو گئی۔ تاہم الینا کے مطابق، اس کے باوجود وہ وقتاً فوقتاً اچانک فیصلوں کے ذریعے ان کی ذاتی زندگی پر اثر انداز ہوتے رہتے تھے۔

’کبھی وہ میرے کسی رشتے کی مخالفت کرتے، کبھی اچانک میرا تعلیمی ادارہ تبدیل کروا دیتے۔‘ وہ کہتی ہیں، ’ان کے خیالات اکثر غیر متوقع ہوتے تھے۔ میں نے ان کے بغیر جینا سیکھ لیا تھا۔‘

جب ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ نجی زندگی میں فیدل کاسترو کیسے انسان تھے تو الینا کا جواب قدرے پیچیدہ ہے۔

وہ انھیں ’انتہائی ذہین، چالاک، شائستہ اور بے پناہ تجسس رکھنے والا‘ شخص قرار دیتی ہیں، لیکن اسی سانس میں یہ بھی کہتی ہیں کہ وہ ’لوگوں کو اپنے قابو میں رکھنے اور حقیقت کو اپنے حق میں ڈھالنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’انھوں نے مجھ سے بھی کئی جھوٹ بولے۔‘

الینا کے مطابق فیدل کاسترو سے گفتگو کرنا بھی آسان نہیں تھا۔ ’وہ مکالمے کے نہیں، یکطرفہ گفتگو کے عادی تھے۔ اگر وہ مجھ سے بات کرنا چاہتے تھے تو دراصل وہ خود کو ہی سننا چاہتے تھے۔‘

ایک فلمی فرار

Alina con una bandera cubana
Getty Images
جزیرے سے فرار کے بعد فیدل کاسترو کی بیٹی امریکہ سے کیوبا کی حکومت کی فعال مخالف بن گئی

الینا کا کہنا ہے کہ وہ نوجوانی ہی سے کیوبا چھوڑنے کی خواہش رکھتی تھیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ وہ اپنے والد سے ذہنی طور پر دور ہوتی چلی گئیں، ان کے قائم کردہ سیاسی نظام کو مسترد کرنے لگیں اور روزمرہ زندگی میں درپیش مشکلات کا سامنا کر رہی تھیں۔

وہ کہتی ہیں، ’فیدل کاسترو ہی وہ شخص تھا جس نے اس تمام انتشار کی بنیاد رکھی۔ انقلاب کی کامیابی کے محض دو سال بعد ہی خوراک کی قلت پیدا ہونا شروع ہو گئی تھی۔‘

1990 کی دہائی کے آغاز میں سوویت بلاک کے خاتمے کے بعد کیوبا میں جس دور کا آغاز ہوا، اسے ’خصوصی دور‘ کہا جاتا ہے۔ یہ زمانہ شدید معاشی بحران، خوراک کی کمی، بھوک، طویل بجلی کی بندش اور نقل و حمل کی شدید قلت سے عبارت تھا۔

الینا کے مطابق اس عرصے میں وہ کھل کر حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتی تھیں اور ہر وقت گرفتاری کے خوف میں مبتلا رہتی تھیں۔

19 دسمبر 1993 کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت وہ کیوبا سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئیں۔

ایک ہسپانوی خاتون نے انھیں اپنا پاسپورٹ اور ہوائی ٹکٹ فراہم کیا، جبکہ ایک اور شخص نے سفری دستاویزات میں ضروری تبدیلیاں کیں، جس کے بعد الینا ہوانا کے ہوائی اڈے کی جانب روانہ ہو گئیں۔

وہ یاد کرتی ہیں، ’جیسے ہی میں ٹیکسی میں بیٹھی، میں نے ہسپانوی لہجے میں بات کرنا شروع کر دی تاکہ خود کو اس کردار کے لیے تیار کر سکوں۔‘

مصنوعی وِگ پہن کر اور معمول سے کہیں زیادہ میک اپ لگا کر وہ ہوائی اڈے پہنچیں۔

ان کے بقول، ’مجھے گھبراہٹ نہیں تھی، بلکہ ایک عجیب قسم کا اطمینان تھا۔ میرے ذہن میں صرف یہی خیال تھا کہ یا تو ہماری زندگی مکمل طور پر سنور جائے گی یا پھر مکمل طور پر تباہ ہو جائے گی۔‘

وہ کسٹمز کی جانچ سے بخیریت گزر گئیں، طیارے میں سوار ہوئیں اور پہلے میڈرڈ اور اس کے بعد امریکہ پہنچ گئیں۔

31 دسمبر 1993 کو امریکی مذہبی رہنما جیسی جیکسن کی ثالثی کے نتیجے میں ان کی 16 سالہ بیٹی بھی امریکہ پہنچنے میں کامیاب ہو گئی، اور ماں بیٹی نے نئے سال کا استقبال ایک ساتھ کیا۔

الینا فرنانڈیز اور ان کی بیٹی الینا ماریا سالگادو، جنہیں خاندان میں مومین کہا جاتا ہے، 1993 کی سالِ نو کی رات امریکہ میں دوبارہ ملنے کا جشن منا رہی ہیں
Alina Fernández
الینا فرنانڈیز اور ان کی بیٹی الینا ماریا سالگادو، جنہیں خاندان میں مومین کہا جاتا ہے، 1993 کی سالِ نو کی رات امریکہ میں دوبارہ ملنے کا جشن منا رہی ہیں

’امریکہ میں جا کر میں واقعی فیدل کاسترو کی بیٹی بنی‘

امریکہ اور سپین میں کچھ عرصہ گزارنے کے بعد الینا فرنانڈیز نے 2001 میں مستقل طور پر میامی میں سکونت اختیار کر لی۔

ان کا کہنا ہے کہ جس نسبت کو وہ برسوں تک چھپاتی رہی تھیں، جلاوطنی کے بعد وہی ان کے لیے کیوبا کے حالات پر تنقید اور اظہارِ رائے کا ذریعہ بن گئی۔

’جو کام میں نے کبھی کیوبا میں نہیں کیا، یعنی فیدل کاسترو کے بارے میں کھل کر بات کرنا یا خود کو ان کے خاندان کا حصہ تسلیم کرنا، وہ میں نے یہاں آ کر کیا۔ چالیس برس کی عمر میں جا کر میں واقعی فیدل کاسترو کی بیٹی بنی۔‘

میامی میں انھوں نے ایک سیل کلچر لیبارٹری میں ٹیکنیشن کے طور پر کام کیا۔ بعد ازاں وہ ریڈیو پروگرام ’صرف الینا‘ کی میزبان بھی رہیں۔

سنہ 1997 میں ان کی خودنوشت ’الینا: فیدل کاسترو کی باغی بیٹی کی یادداشتیں‘ شائع ہوئی، جسے سپین میں غیرمعمولی پذیرائی ملی اور بعد میں اس کا کئی زبانوں میں ترجمہ کیا گیا۔

Alina en una de las presentaciones de su libro en 1997.
Getty Images
1997 میں اپنی کتاب کی تقریبِ رونمائی میں شریک الینا فرنانڈیز، جنہیں "فیدل کاسترو کی باغی بیٹی" کے نام سے بھی جانا جاتا ہے

جب ان سے 25 نومبر 2016 کو فیدل کاسترو کی وفات کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا جواب محتاط تھا۔

’نہ مجھے بہت بڑا صدمہ ہوا اور نہ ہی کوئی خاص خوشی محسوس ہوئی۔ میرے لیے یہ کوئی غیرمعمولی لمحہ نہیں تھا۔‘

اس سال اپریل میں ریلیز ہونے والی دستاویزی فلم ’ریولیوشنز ڈاٹر‘ میں الینا اپنی زندگی کے تجربات اور کیوبا سے تعلق رکھنے والے جلاوطن افراد کی آرا کے ذریعے 1959 کے انقلاب کے بعد قائم ہونے والے نظام کا تنقیدی جائزہ پیش کرتی ہیں۔

ان کے نزدیک آج کا کیوبا اسی سیاسی اور معاشی ماڈل کے نتائج بھگت رہا ہے جس کی بنیاد ان کے والد نے رکھی تھی۔

’جب ریاست تمام کاروباروں اور معاشی سرگرمیوں پر کنٹرول حاصل کر لیتی ہے تو عام لوگ بے اختیار ہو جاتے ہیں۔‘

الینا کا خیال ہے کہ کیوبا میں حقیقی اقتدار اب بھی ایک طاقتور فوجی اشرافیہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ اسے آسانی سے چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوگی۔

بچپن میں الینا، تصویر کے بالائی درمیانی حصے میں اپنے چچا راول کاسترو کے ساتھ
Alina Fernández
بچپن میں الینا، تصویر کے بالائی درمیانی حصے میں اپنے چچا راول کاسترو کے ساتھ

اب ریٹائرمنٹ کی زندگی گزارنے والی الینا میامی میں نسبتاً سادہ طرزِ زندگی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ کئی دہائیوں سے ان کا کاسترو خاندان کے کسی فرد سے رابطہ نہیں رہا، حتیٰ کہ ان رشتہ داروں سے بھی نہیں جنھوں نے خود جلاوطنی اختیار کر رکھی ہے۔

جب ہم ان سے پوچھتے ہیں کہ اپنے حقیقی والد سے انھوں نے کون سی خصوصیات ورثے میں پائیں، تو وہ چند لمحوں کے لیے خاموش ہو جاتی ہیں۔

’میں ایک عملی اور عقلی مزاج کی انسان ہوں۔ جہاں تک ان کا تعلق ہے، مجھے نہیں معلوم کہ وہ خود کتنے ایسے تھے، کیونکہ انھوں نے کبھی یہ ثابت نہیں کیا۔‘

پھر وہ قدرے توقف کے بعد مزید کہتی ہیں، ’کبھی کبھی کسی پر تنقید کرتے ہوئے آپ اس میں کوئی مثبت پہلو بھی تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن مجھے ایسا کوئی پہلو نظر نہیں آتا۔‘

گفتگو کے اختتام پر جب ان سے پوچھا گیا کہ 13 اگست 2026 کو اپنی پیدائش کے 100 برس مکمل کرنے والے کیوبا کے انقلابی رہنما کو تاریخ کس نظر سے یاد رکھے گی، تو ان کا جواب بھی اتنا ہی بے لاگ تھا۔

’میرا خیال ہے کہ اب تاریخ بھی انھیں پہلے جیسی اہمیت نہیں دیتی۔ دنیا بہت آگے بڑھ چکی ہے۔ آخرکار فیدل کاسترو بائیں بازو کی ایک علامت بن کر رہ گئے ہیں، جس کا ذکر اب پہلے جیسا نہیں ہوتا۔ اور کیوبا کی موجودہ حالت اتنی نمایاں ہے کہ اب تمام ذمہ داری دوسروں پر ڈالنا ممکن نہیں رہا۔‘

فیدل کاسترو کی سیاسی میراث پر دنیا میں رائے آج بھی منقسم ہے۔

تاہم ان کی بیٹی الینا فرنانڈیز کی داستان ایک ایسے شخص کی نجی اور سیاسی زندگی کے درمیان موجود پیچیدہ رشتے کو سامنے لاتی ہے، جس نے نصف صدی سے زیادہ عرصے تک کیوبا کی سیاست اور معاشرے پر گہرے اثرات مرتب کیے۔


News Source

مزید خبریں

BBC

Meta Urdu News: This news section is a part of the largest Urdu News aggregator that provides access to over 15 leading sources of Urdu News and search facility of archived news since 2008.

Follow US