اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے الزام عائد کیا ہے کہ طالبان حکومت خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے ایک پراکسی کے طور پر کام کر رہی ہے، جبکہ افغانستان میں موجود عسکریت پسند تنظیموں کی کارروائیوں کے باعث پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔
عرب نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اقوام متحدہ کی پابندیوں کی نگرانی کرنے والے ماہرین اور سیکریٹری جنرل کی رپورٹس میں افغانستان کو مختلف دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ قرار دیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
پاکستانی مندوب کے مطابق 2025 کے دوران ملک میں دہشت گردی سے متعلق 5 ہزار 200 سے زائد واقعات پیش آئے، جن میں ایک ہزار 300 سے زیادہ افراد جان سے گئے، جبکہ 2026 کے ابتدائی 6 ماہ میں 3 ہزار سے زائد حملوں میں 830 سے زیادہ پاکستانی شہید ہوچکے ہیں۔
عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ یہ اعداد و شمار پاکستان میں دہشت گردی سے متعلق وسیع تر واقعات پر مشتمل ہیں۔ ان کے مطابق گلوبل ٹیررازم انڈیکس کے اعداد و شمار میں 2025 کے دوران پاکستان میں دہشت گردی کے 1,045 واقعات اور دہشت گردی سے متعلق ایک ہزار 139 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔
انہوں نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی، مجید بریگیڈ اور داعش کے علاقائی گروپ کو پاکستان کے لیے اہم سیکیورٹی خطرات قرار دیا۔
پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ ان میں سے بعض گروہ خطے میں پاکستان مخالف عناصر کے پراکسی کے طور پر بھی سرگرم ہیں۔
ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی میں افغان طالبان کی ناکامی یا مبینہ تعاون سے متعلق سوال پر عاصم افتخار احمد نے الزام عائد کیا کہ معاملہ صرف صلاحیت کی کمی یا سیاسی عزم کے فقدان تک محدود نہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ طالبان حکومت مبینہ طور پر ٹی ٹی پی کو محفوظ پناہ گاہیں، اسلحہ و گولہ بارود، مالی معاونت اور منصوبہ بندی کی سہولت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ سرحد پار دراندازی میں بھی مدد دے رہی ہے۔
پاکستانی مندوب نے عالمی برادری پر زور دیا کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں کے حوالے سے پیدا ہونے والے خطرات کو سنجیدگی سے لیا جائے۔