ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے، سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے نیپرا میں فی یونٹ بجلی کی قیمت میں 2 روپے 52 پیسے اضافے کی درخواست جمع کرا دی۔
نیپرا کے مطابق سی پی پی اے کی جانب سے درخواست جولائی کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں جولائی کے دوران مختلف ذرائع سے بجلی کی پیداوار اور اس پر آنے والی لاگت کی تفصیلات بھی فراہم کی گئی ہیں۔
درخواست کے مطابق جولائی میں درآمدی ایل این جی سے 10.78 فیصد بجلی پیدا ہوئی، جس کی فی یونٹ لاگت 47 روپے 37 پیسے رہی، جبکہ ایل این جی سے مجموعی طور پر 77 ارب 19 کروڑ روپے کی بجلی پیدا کی گئی۔
سی پی پی اے کے مطابق جولائی میں فرنس آئل سے 1.42 فیصد بجلی پیدا ہوئی، جس کی فی یونٹ لاگت 50 روپے 7 پیسے رہی، جبکہ فرنس آئل سے 10 ارب 77 کروڑ روپے کی بجلی پیدا کی گئی۔
درخواست میں بتایا گیا ہے کہ جولائی میں پانی سے 39.81 فیصد، مقامی کوئلے سے 10.91 فیصد اور درآمدی کوئلے سے 14.38 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔ نیوکلیئر ذرائع سے 10.10 فیصد بجلی حاصل ہوئی، جس کی فی یونٹ فیول لاگت 3 روپے 2 پیسے رہی۔
اعداد و شمار کے مطابق جولائی میں ڈیزل سے بھی 3 کروڑ 10 لاکھ یونٹ بجلی پیدا کی گئی، جس کی فی یونٹ لاگت 54 روپے 47 پیسے ریکارڈ کی گئی۔
نیپرا کی جانب سے سی پی پی اے کی درخواست پر سماعت 27 اگست کو ہوگی۔ درخواست منظور ہونے کی صورت میں بجلی صارفین پر جی ایس ٹی سمیت تقریباً 41 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔